ڈاکٹر محمد نعمان طیب چنگوانی‎، پاک آرمی میرا فخر

0
1054

اے پی ایس کے سانحہ کے وقت ایس ایس جی کے جس دستہ نے آڈیٹوریم میں گھس کر دہشتگردوں کو مارا اس دستہ کو ضرار کمپنی کے کیپٹن عابد لیڈ کر رہے تھے۔ کیپٹن عابد ایک وحشی طوفان کی طرح بپھر کر ان درندوں پراس طرح ٹوٹ پڑے تھے کہ مختصر وقت میں ہی سارے دہشت گردوں کو جہنم کی گہری وادیوں میں دھکیل دیا۔ آڈیٹوریم میں جب دہشتگرد معصوم بچوں کے ساتھ خاک اور خون کی ہولی کھیل رہے تھے تب اللہ ہو اکبر کی صدا بلند کرکے داخل ہونے والے پہلے ولنٹیئیر کا نام کیپٹن عابد زمان تھا۔ یہ پہلا بندہ تھا جو اپنی ٹیم کو لے کر سب سے پہلے خود داخل ہوا اور پھر باقی ٹیم… اور اس طرح بزدل جہنمی کتے لڑکھڑا گئے۔۔ اس وقت کیپٹن عابد کو گولی بھی لگی جس سے وہ کافی زخمی ہوئے لیکن کمال مہارت اور بہادری سے خوارجیوں کو مار دیا اور کچھ دہشتگردوں نے ضرار ٹیم کی للکار کے ڈر کی وجہ سے خود کو اڑا کر واصل جہنم کر دیا۔اس طرح پاک فوج کے جوانوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر کئی بچوں کو موت کی بے رحم وادی سے نکال دیا۔ورنہ اس حال میں تو شاید 400 سے اوپر بچے تھے۔۔ اگر یہ جوان نا پہنچتے تو خاکم بدہن شاید وہ جہنمی کتے سب بچوں کو مار دیتے.
کیپٹن عابد کافی دن ہسپتال رہے لیکن الحمدللہ وہ مکمل صحت یاب ہو کر دوبارہ ڈو آر ڈائی کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ان کو اس بہادری پر تمغہ بسالت بھی دیا گیا اور آج وہ میجر بھی بن چکے ہیں۔ مجھے ان کا یہ جملہ کبھی نہیں بھولے گا جب انہوں نے کہا کہ ایس ایس جی کے پاس صرف دو ہی آپشن ہوتے ہیں کہ “مار دو یا مر جاو” ہماری ٹیم میں سب رضاکار ہوتے ہیں۔۔ اور ہم آخری آپشن ہوتے ہیں ہمارے بعد کسی فورس نے نہیں آنا ہوتا۔ اور پھر بڑے فخر سے کہا الحمدللہ آج تک کوئی دہشتگرد ہمارے سامنے ٹک نہیں پایا۔مطلب ان کے پاس پیچھے ہٹنے یا ڈرنے دوڑنے والا کوئی آپشن نہیں ہوتا۔سنا ہے ہال میں 7 درندے تھے جن میں سے 3 کو اکیلے کیپٹن عابد نے ہی جہنم واصل کردیا تھا۔
یہ کوئی ہالی وڈ اور بالی وڈ کے ہیرو نہیں بلکہ وطن عزیز کے حقیقی محافظ ہیں جو وطن اور اسلام کی خاطر گولیوں کی بوچھاڑ کےسامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔
اسلام اور پاکستان زندہ باد ۔

SHARE

LEAVE A REPLY