امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیوکا کہنا ہے کہ ایران کو خطےمیں مداخلت کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایرانی مداخلت کی روک تھام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گا۔ ہم ایران کو خطے میں بے لگام نہیں چھوڑ سکتے۔

امریکی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی رہنما امریکا کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے ایک نارمل ملک کا طرز عمل اختیار کرتے ہیں تو پھر امریکی (شہری) ایران آئیں گے اور اس سے ایک دوست ملک کا برتاؤ کریں گے۔

’وائس آف امریکا‘کے ساتھ ایک انٹرویو میں مائیک پومپیو نے کہا کہ رواں ہفتے قبل ازیں ان کی طرف سے ایران سے متعلق واضح کی جانے والی حکمت عملی کا مقصد ایران کے رہنماؤں کے لیے ان شرائط کو عائد کرنا ہے تاکہ وہ “عام رہنماؤں” جیسا رویہ اختیار کریں۔

انہوں نے کہا کہ “عام” رہنما اپنے عوام کو لوٹتے نہیں اور ناہی وہ ان کے پیسے کو شام اور یمن کی “مہم جوئی” پر ضائع کرتے ہیں۔

پومپیو نے کہا کہ “اگر ہم ایسی شرائط مقرر کرتے ہیں جن سے ایران کے رہنما (اپنا رویہ) ختم کرتے ہیں تو یہ ایرانی عوام کے لیے بڑی کامیابی ہو گی اور امریکی وہاں جائیں گے اور ہم وہ سب بڑی چیزیں حاصل کریں گے جو ہم اس وقت حاصل کرتے ہیں جب ہم دوست اور اتحادی ہوتے ہیں۔ “

امریکا کے اعلیٰ سفارت کار نے ایک تقریر میں ایران سے متعلق بیان کی گئی اپنی حکمت عملی کی 12 شرائط میں سے ایک کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے ”آئی اے ای اے” کو اپنی فوجی تنصیبات اور ریسرچ لبارٹریوں کا معائنہ کرنے کی اجازت دے۔ اپنی 21 مئی کے تقریر میں انہوں نے ‘آئی اے ای اے’ کے لیے بغیر کسی شرط کے “ملک بھر میں تمام مقامات” تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا۔

انٹرویو میں پومپیو نے امریکا کے اس مطالبے کو بھی کھل کر بیان کیا کہ ایران، اسرائیل کو تباہ کرنے کے دھمکیاں دینا بند کر دے اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ بننے والے طرزعمل کو بھی روک دے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی رہنما اپنے عوام کی حوصلہ شکنی کریں کہ وہ ناصرف ” اسرائیل مردہ باد” بلکہ ” امریکا مردہ باد” کے نعرے نا لگائیں۔

انہوں نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ امریکا ایران میں حکومت کو تبدیل نہیں کرنا چاہتا ہے اور انہوں نے ایران کے جلاوطن گروپوں پر بھی ایسا نا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم نہیں چاہتے کہ وہ حکومت کو تبدیل کرنے کی وکالت کریں۔ ” انہوں نے کہا کہ جب تک یہ گروپ ان مقاصد کے لیے کام کریں گے جو امریکا کے ہیں تو وہ ان کی کوششوں کو خوش آئند کہیں گے۔

تاہم پومپیو ں نے کہا کہ (ایرنی) حزب مخالف کے چھوٹے “گروپوں” نے ہمیشہ امریکا کے اہداف پر اتفاق نہیں کیا ہے تاہم انہو ں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کن گروپوں کی بات کر رہے ہیں۔

پومپیو نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کانگرس کی قانون سازی کرنے کی ان کوششوں کی حمایت کرے گی جس کے تحت ایران کے اعلیٰ رہنماؤں کی چھپی ہوئی دولت کو منظرعام پرلانے کی کوشش کی جائے گی جن کو ایرن کے اندر ان کے بہت سے نقاد بدعنوان خیال کرتے ہیں۔

ایرانی قیادت کے اثاثوں کی شفافیت سے متعلق ایک ایکٹ کے تحت امریکہ کے محکمہ خزانہ کے لیے یہ لازم ہوگا کہ وہ ان ایرانی رہنماؤں کے اثاثوں سے متعلق رپورٹس کو شائع کرے جو مشتبہ طور پر بدعنوان ہیں۔ امریکہ کا ایوان نمائندگان دسمبر میں اس بل کی منظوری دے چکا ہے اوراب یہ بل سینیٹ کی ایک کمیٹی کے زیر غور ہے۔

پومپیو نے یہ بھی کہا ہے کہ محکمہ خارجہ امریکی شہری رابرٹ لیونسن کو وطن واپس لانے کی ہر روز کوشش کررہا ہے جو 9 مارچ 2007ء کو ایک پرائیوٹ تفتیش کار کے ایران کے کیش جزیرے کے دورے کے دوران لاپتا ہو گیا تھا۔

انہو ں نےکہا کہ “جہاں تک (ایران میں زیر حراست) امریکی شہریوں کا سوال ہے ہم امید کرتے ہیں کہ ایران کی ساری قیادت کو یہ دیکھنا ہے کہ یہ ان کے بہت زیادہ مفاد میں ہے اور ایک انسانی مسئلہ سمجھتے ہوئے ان سب امریکی شہریوں کو اپنے خاندانوں کے ساتھ آ ملنے کی اجازت دیں۔”

SHARE

LEAVE A REPLY