فضل الرحمان مذاکرات میں ڈیڈلاک کے خاتمےکیلئے کردار اداکرنےکو تیار ہیں، حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم کو آگاہ کردیا
حکومتی ذرائع کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے مصالحانہ کردار کے لیے پیش کی گئی شرائط سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کردیا گیا۔
کمیٹی کی رپورٹ کےمطابق مولانا فضل الرحمان مذاکرات میں ڈیڈلاک کے خاتمے اور تنازعات حل کرانے کے لیےکردار ادا کرنےکو تیار ہیں، وزیراعظم کو مولانا فضل الرحمان کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا گیا ہے، وزیراعظم کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ متوقع ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
وزیراعظم شہبازشریف نے پی ٹی آئی لانگ مارچ اور خیبرپختونخوا کی صورتحال پر صدرزرداری سے جلد دوبارہ ملاقات کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کےلانگ مارچ پرمؤقف اور صوبائی معاملات پر مشاورت ہوگی، وفاقی حکومت اورپی ٹی آئی کے مذاکرات کی ناکامی کےاثرات ،گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سمیت مختلف آئینی آپشنز پر بھی مشاورت متوقع ہے، گورنر راج یا ایمرجنسی سےمتعلق حتمی فیصلہ وزیراعظم، صدر، رفقا باہمی مشاورت سے کریں گے
مذاکراتی عمل میں پیشرفت نہ ہونےکےبعد آئندہ سیاسی حکمت عملی پربھی غورکیا جائے گا،لانگ مارچ، صوبائی حکومت کےکردار، امن وامان کی صورتحال کے مطابق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
پشاور: پی ٹی آئی لانگ مارچ کیخلاف تاجروں اورسول سوسائیٹیز کا احتجاجی مظاہرہ، ٹائرز جلا کر روڈ بلاک کردیا
پی ٹی آئی لانگ مارچ کے خلاف پشاور میں تاجروں اورسول سوسائیٹیز نے اسمبلی چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین نے ٹائرز جلا کر روڈ بلاک کردیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا 13 سالوں سے کے پی حکومت نے عوام کو بے یارو مددگار چھوڑا ہوا ہے، پی ٹی آئی کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی لانگ مارچ میں مصروف ہیں، پی ٹی آئی کے گرفتار کارکنوں کو کوئی پوچھتا تک نہیں، صوبائی حکومت عوام کے ساتھ تاجر برادری کو بھی دھوکا دے رہی ہے، سہیل آفریدی نے جب سے منصب سنبھالا صوبہ تباہی کی طرف گامزن ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
طارق فضل نے کہا کہ پہلا مطالبہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دہشتگردوں کی مذمت کرنا تھا، دوسرا مطالبہ صوبے میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ اور تیسرا افغانستان سے متعلق خارجہ پالیسی پر عمل درآمد تھا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا چوتھا مطالبہ افغان مہاجرین کی واپسی، پانچواں مطالبہ کے پی پولیس ایکٹ پر نظرثانی، چھٹا مطالبہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں افواج کے ساتھ تعاون اور ساتواں مطالبہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل درآمد کرنا تھا۔
طارق فضل کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پی ٹی آئی وفد کے پاس مینڈیٹ نہیں تھا، سہیل آفریدی خود یا کوئی صوبائی نمائندہ مذاکرات میں شامل ہوتا تو بہتر تھا،اصل مقصد لانگ مارچ روکنا نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
وفاقی وزیر امیر مقام نےکہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کے دوران امیر مقام نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کہنے پر ڈرافٹ میں کئی بار تبدیلی کی، 72 گھنٹے میں کچھ اضلاع میں ایمرجنسی لگانے کی بات نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کرے گی ، اس کو نہیں مانا گیا، ایمرجنسی لگانا ہمارا مقصد ہوتا تو ان کے ساتھ مذاکرات ہی نہیں کرتے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ صوبے میں عوام کے تحفظ کےلیے ایمرجنسی لگانے کا آپشن موجود ہے، صوبائی حکومت کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مذاکرات میں پی ٹی آئی کے وفد کے پاس فیصلہ کرنے کا مینڈیٹ نہیں تھا۔
جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا اصل مقصد لانگ مارچ روکنا نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔ مذاکرات میں سہیل آفریدی یا صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ موجود ہوتا تو بہتر ہوتا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یہ لانگ مارچ نہیں بلکہ ایک صوبے کی وفاق پر چڑھائی ہے۔ لانگ مارچ ہمارے لیے نہ پہلے دردِ سر تھا اور نہ آج ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی وفد نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پی ٹی آئی کے وفد کے سامنے 7 مطالبات رکھے تھے، بتایا جائے ان میں سے کون سا مطالبہ غیر آئینی یا قابلِ عمل نہیں۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق حکومتی وفد کے مطالبات میں کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردوں کی مذمت شامل تھی۔
دوسرے مطالبے میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ، تیسرے میں افغانستان سے متعلق طے شدہ خارجہ پالیسی پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
چوتھے مطالبے میں افغان مہاجرین کی واپسی، پانچویں میں خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ پر نظرثانی، چھٹے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں افواج پاکستان کے ساتھ تعاون اور ساتویں مطالبے میں نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل درآمد شامل تھا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
انشاء اللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے: سہیل آفریدی
ابوبکرصدیق
وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ انشاء اللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے، دن ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سےٹانک، ڈی آئی خان کی عوام لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے، ساؤتھ و نارتھ وزیرستان بنوں اور لکی مروت کی عوام لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا، 5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
……………………………
حکومت اپوزیشن مذاکرات کامیاب یا ڈیڈلاک برقرار؟ متضاد بیانات سے صورتحال غیر واضح
حکومت اپوزیشن کے مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں یا ڈیڈلاک برقرار ہے؟ متضاد بیانات سے صورت حال غیر واضح ہے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن قائدین سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، محمود خان اچکزئی نے ٹیلی فون پر بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سےگفتگو کی۔
ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگی، پھر کوئی فیصلہ ہوگا، بانی سے ملاقات کے بغیرکوئی اعلان یا فیصلہ ممکن نہیں، اس بات تک محدود رہو کہ بانی سےملاقات ہوگی تو ہی فیصلہ ہوگا، حکومت کو کہیں بانی سے پوچھ کر آپ کو اس کا فیصلہ بتائیں گے۔
ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی سے علامہ ناصر عباس نے بھی مذاکرات کے وقفےکے دوران گفتگو کی۔ اس دوران دونوں اپوزیشن رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ بانی سے ملاقات کے بغیرلانگ مارچ ملتوی نہیں کیا جاسکتا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محموداچکزئی اور علامہ ناصرعباس بانی سے مشاورت کے بعد ہی حتمی فیصلوں کے حامی ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کی بھی اطلاعات
دوسری جانب ایک ذریعے نے یہ بھی بتایا ہےکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تحریری معاہدے کی تیاری جاری ہے اورمعاہدے کا ڈرافٹ تیار کیا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کےدرمیان تحریری معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔
یہ کہا جاسکتا ہےکہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں، نوید قمر
رہنما پیپلزپارٹی اور رکن کمیٹی نوید قمر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں، مذاکرات کا اعلامیہ کچھ دیر میں جاری ہوجائےگا، انتظار کر رہے ہیں، کچھ الفاظ میں تبدیلی کی جارہی ہے، کوئی بھی کامیابی ہوتی ہے تو دونوں سائیڈ سے ہوتی ہے،یہ کامیابی دونوں طرف کی کامیابی ہوگی، نوک پلک درست ہوجائے تو کہہ سکیں کہ کتنے نکات پر اتفاق ہوا ہے، امید ہے نہ لانگ مارچ ہوگا، نہ ہی ایمرجنسی لگےگی۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی میزبانی اور صدارت کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے وفود مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کے دوسرے دور کا گلے شکوؤں کے ساتھ آغاز ہوا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر امیر مقام نے سہیل آفریدی کے ٹویٹ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ کہ ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کےلیے لانگ مارچ منسوخ کرنےکی بات کی تھی، آج سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا ٹویٹ کردیا۔
حکومتی وفد نے شکوہ کیاکہ سینیئر حکومتی اکابرین سے متعلق نازیبازبان بھی استعمال کی گئی، ایسےمیں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے؟
ذرائع نے بتایاکہ اپوزیشن نے جواب میں کہا کہ آپ وزیردفاع خواجہ آصف کے ٹویٹ بارےکیا کہیں گے،کیا وہ درست ہے؟ اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق حکومتی وفد کا مؤقف ہے کہ ہم کھلےدل سے آئےہیں اور مکمل با اختیار ہیں جبکہ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ لانگ مارچ غیر مشروط طورپرختم کریں تاکہ مذاکرات آگےبڑھیں۔
دوسری جانب ذرائع نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا امکان ہے اور لانگ مارچ ملتوی پرخصوصی کمیٹیوں کےذریعےبات چیت جاری رکھنےکی تجویزپرغور ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ دونوں فریق قیادت سےمشاورت کے بعد اس حوالےسےفیصلہ کریں گے۔
قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا ملک میں انصاف، آئین کو بحال کرو، بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا، بانی پی ٹی آئی کو علاج کےلیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم خلوص نیت سے مذاکرات کر رہے ہیں، دیکھتے ہیں کیا نتیجہ نکلتا ہے جبکہ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا ہماری کوشش ہے کہ جمہوری انداز میں معاملے کا حل نکلے، امید پر دنیا قائم ہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مذاکرات کی تجویز پیش کی اور پھر یہ سلسلہ شروع ہوا۔
شیری رحمان کا کہنا تھا سوشل میڈیا پر دیئے گئے بیانات پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں دے سکتی، مذاکرات کی میز پر اسپیس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معاملات کو زیر غور لایا جائے، اپنی پارٹی پوزیشن پر ہر کوئی بات کرسکتا ہے مگر مذاکرات سے متعلق کوئی بات نہیں کرسکتا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوگیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی میزبانی اور صدارت کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے وفود مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کے دوسرے دور کا گلے شکوؤں کے ساتھ آغاز ہوا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر امیر مقام نے سہیل آفریدی کے ٹویٹ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ کہ ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کےلیے لانگ مارچ منسوخ کرنےکی بات کی تھی، آج سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا ٹویٹ کردیا۔
حکومتی وفد نے شکوہ کیاکہ سینیئر حکومتی اکابرین سے متعلق نازیبازبان بھی استعمال کی گئی، ایسےمیں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے؟
ذرائع نے بتایاکہ اپوزیشن نے جواب میں کہا کہ آپ وزیردفاع خواجہ آصف کے ٹویٹ بارےکیا کہیں گے،کیا وہ درست ہے؟ اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق حکومتی وفد کا مؤقف ہے کہ ہم کھلےدل سے آئےہیں اور مکمل با اختیار ہیں جبکہ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ لانگ مارچ غیر مشروط طورپرختم کریں تاکہ مذاکرات آگےبڑھیں۔
دوسری جانب ذرائع نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا امکان ہے اور لانگ مارچ ملتوی پرخصوصی کمیٹیوں کےذریعےبات چیت جاری رکھنےکی تجویزپرغور ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ دونوں فریق قیادت سےمشاورت کے بعد اس حوالےسےفیصلہ کریں گے۔
قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا ملک میں انصاف، آئین کو بحال کرو، بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا، بانی پی ٹی آئی کو علاج کےلیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم خلوص نیت سے مذاکرات کر رہے ہیں، دیکھتے ہیں کیا نتیجہ نکلتا ہے جبکہ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا ہماری کوشش ہے کہ جمہوری انداز میں معاملے کا حل نکلے، امید پر دنیا قائم ہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مذاکرات کی تجویز پیش کی اور پھر یہ سلسلہ شروع ہوا۔
شیری رحمان کا کہنا تھا سوشل میڈیا پر دیئے گئے بیانات پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں دے سکتی، مذاکرات کی میز پر اسپیس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معاملات کو زیر غور لایا جائے، اپنی پارٹی پوزیشن پر ہر کوئی بات کرسکتا ہے مگر مذاکرات سے متعلق کوئی بات نہیں کرسکتا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آج پھر ہوگا۔ مذاکرات دوپہر ڈھائی بجے متوقع جس میں حتمی فیصلوں کا امکان ہے۔
جمعے کو مذاکرات میں فریقین میں اتفاق نہیں ہوسکا تھا ۔حکومت کا مطالبہ ہے کہ لانگ مارچ ختم کرو جبکہ پی ٹی آئی کا اصرار عمران خان سے ملاقات کرانے کا ہے ۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے واضح کردیا کہ احتجاج اور انتشار سے رعایتیں نہیں ملیں گی ، اگر کوئی رعایت چاہیے تو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ، اگر اپوزیشن کی ہٹ دھرمی جاری رہی تو آرٹیکل 232 اور 234 بروئے کار لائیں گے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وفد کے ساتھ ملاقات میں ماحول خوشگوار تھا۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی وفد کے ساتھ دوستانہ ماحول میں گفتگو ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ آج یہ طے پایا کہ مذاکرات کے حوالے سے میڈیا میں ایسی کوئی بات نہ کی جائے جس کا اثر کل کے مذاکرات پر پڑے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ پی ٹی آئی وفد کو کہا کہ اپنے مطالبات کے لیے سیاسی طریقہ کار اپنائیں۔ پی ٹی آئی وفد نے اپنے احساسات ہمارے ساتھ شیئر کیے۔
انھوں نے کہا کہ ہماری طرف سے بات چیت خیبر پختونخوا کی حکومت سے متعلق تھی، وفاقی حکومت کی پہلی ترجیح خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے صوبائی حکومت کا وفاق سے مکمل تعاون ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر نے کہا پی ٹی آئی کو مطالبات کے لیے احتجاج ہی کرنا ہے تو پشاور اور مردان میں کرے، عسکری اور سیاسی قیادت نے طے کیا ہے کہ دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد سے دور ہونے چاہئیں۔













