حکومت ، پی ٹی آئی مذاکرات ، سب خبریں ایک جگہ

0
718

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوگیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی میزبانی اور صدارت کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے وفود مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں۔

حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کے دوسرے دور کا گلے شکوؤں کے ساتھ آغاز ہوا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر امیر مقام نے سہیل آفریدی کے ٹویٹ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ کہ ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کےلیے لانگ مارچ منسوخ کرنےکی بات کی تھی، آج سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا ٹویٹ کردیا۔

حکومتی وفد نے شکوہ کیاکہ سینیئر حکومتی اکابرین سے متعلق نازیبازبان بھی استعمال کی گئی، ایسےمیں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے؟

ذرائع نے بتایاکہ اپوزیشن نے جواب میں کہا کہ آپ وزیردفاع خواجہ آصف کے ٹویٹ بارےکیا کہیں گے،کیا وہ درست ہے؟ اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق حکومتی وفد کا مؤقف ہے کہ ہم کھلےدل سے آئےہیں اور مکمل با اختیار ہیں جبکہ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ لانگ مارچ غیر مشروط طورپرختم کریں تاکہ مذاکرات آگےبڑھیں۔

دوسری جانب ذرائع نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا امکان ہے اور لانگ مارچ ملتوی پرخصوصی کمیٹیوں کےذریعےبات چیت جاری رکھنےکی تجویزپرغور ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ دونوں فریق قیادت سےمشاورت کے بعد اس حوالےسےفیصلہ کریں گے۔

قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا ملک میں انصاف، آئین کو بحال کرو، بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا، بانی پی ٹی آئی کو علاج کےلیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔

وفاقی وزیر امیر مقام نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم خلوص نیت سے مذاکرات کر رہے ہیں، دیکھتے ہیں کیا نتیجہ نکلتا ہے جبکہ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا ہماری کوشش ہے کہ جمہوری انداز میں معاملے کا حل نکلے، امید پر دنیا قائم ہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مذاکرات کی تجویز پیش کی اور پھر یہ سلسلہ شروع ہوا۔

شیری رحمان کا کہنا تھا سوشل میڈیا پر دیئے گئے بیانات پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں دے سکتی، مذاکرات کی میز پر اسپیس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معاملات کو زیر غور لایا جائے، اپنی پارٹی پوزیشن پر ہر کوئی بات کرسکتا ہے مگر مذاکرات سے متعلق کوئی بات نہیں کرسکتا۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آج پھر ہوگا۔ مذاکرات دوپہر ڈھائی بجے متوقع جس میں حتمی فیصلوں کا امکان ہے۔

جمعے کو مذاکرات میں فریقین میں اتفاق نہیں ہوسکا تھا ۔حکومت کا مطالبہ ہے کہ لانگ مارچ ختم کرو جبکہ پی ٹی آئی کا اصرار عمران خان سے ملاقات کرانے کا ہے ۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے واضح کردیا کہ احتجاج اور انتشار سے رعایتیں نہیں ملیں گی ، اگر کوئی رعایت چاہیے تو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ، اگر اپوزیشن کی ہٹ دھرمی جاری رہی تو آرٹیکل 232 اور 234 بروئے کار لائیں گے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وفد کے ساتھ ملاقات میں ماحول خوشگوار تھا۔

جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی وفد کے ساتھ دوستانہ ماحول میں گفتگو ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ آج یہ طے پایا کہ مذاکرات کے حوالے سے میڈیا میں ایسی کوئی بات نہ کی جائے جس کا اثر کل کے مذاکرات پر پڑے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ پی ٹی آئی وفد کو کہا کہ اپنے مطالبات کے لیے سیاسی طریقہ کار اپنائیں۔ پی ٹی آئی وفد نے اپنے احساسات ہمارے ساتھ شیئر کیے۔

انھوں نے کہا کہ ہماری طرف سے بات چیت خیبر پختونخوا کی حکومت سے متعلق تھی، وفاقی حکومت کی پہلی ترجیح خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے صوبائی حکومت کا وفاق سے مکمل تعاون ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر نے کہا پی ٹی آئی کو مطالبات کے لیے احتجاج ہی کرنا ہے تو پشاور اور مردان میں کرے، عسکری اور سیاسی قیادت نے طے کیا ہے کہ دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد سے دور ہونے چاہئیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY