معین اختر, 61 برس کی عمر میں 22 اپریل 2011 کو انتقال

0
905

معین اختر بہترین اداکار،میزبان ، پروڈیوسر ،ڈائریکٹراور گلوکارکے طورپر جانے جاتےہیں ۔ انہوں نے ریڈیو ، ٹی وی فلم میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اعلیٰ جوہر دکھائے۔

ہاف پلیٹ کا شاعر ہو یا روزی کا لافانی کردار، معین اختر نے ہرکردار بخوبی نبھایا۔ 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہونے والے معین اختر نے 16 سال کی عمر میں اپنے فنی سفر کا آغاز اسٹیج ڈراموں سے کیا۔

معین اختر نے پہلی بار 6 ستمبر 1966 کو پہلا پروگرام کرکے شوبز کی دنیا میں پہلا قدم رکھا۔معین اختر جب بھی کامیڈی کرتے تو ہمیشہ مرجھائےہوئےچہروں پر ہنسی کے پھول کھلا دیتے تھے۔

اسٹیج ڈراموں ’’بڈھا گھر پہ ہے‘‘ اور ’’بکرا قسطوں پر‘‘ نے معین اختر کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ۔ ’’ففٹی ففٹی‘‘، ’’ہاف پلیٹ‘‘، ’’انتظار فرمایئے‘‘ اور’’ آنگن ٹیڑھا‘‘ میں بھی انہوں نے اپنی بے ساختہ اور جاندار ادکاری کے جوہر دکھائے۔

معین اختر کے یادگار ڈراموں اور اسٹیج شوز میں ’’روزی‘‘، ’’سچ مچ‘‘، ’’اسٹوڈیو پونے تین‘‘، ’’بندر روڈ سے کیماڑی‘‘ اور’’ شو ٹائم‘‘ شامل ہیں ۔

سنجیدہ اداکاری کے کردار میں خود کو ایسے سموتے کے حقیقت کے رنگوں کو روپ دھارلیتے تھے۔ معین اختر نے ٹریجڈی سین بھی کئے توناظرین کی آنکھوں کو اشکبار کردیا ۔

جب کبھی کسی پروگرام کی میزبانی کی توعام فہم زبان استعمال کی اور ہمیشہ اپنی خوبصورت تہذیب ثقافت اور علم اور فن کو دنیا میں متعارف کرتےدکھائی دیئے۔
معین اختر نے نسوانی کردار روزی کیا تو اس میں خود کو ایسا ڈھالا کہ لوگ انہیں روزی سمجھتےتھے۔

انہوں نے 1974 میں فلم، تم سا نہیں دیکھا، مسٹر کے ٹو اور مسٹر تابعدار میں بھی اپنے کام سے شائقین کو خوب لطف اندوز کیا۔معین اختر کو پرائڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازاگیا۔

فن کی دنیا میں مزاح سے لیکر پیروڈی تک اسٹیج سے ٹیلی ویژن تک معین اختروہ نام ہے جس کے بغیر پاکستان ٹیلیویژن کی تاریخ نامکمل رہے گی۔

ان کی بے ساختہ اداکاری اور چلبلے جملوں سے ہنسی مچل جاتی ہے۔ اسکرین پر انور مقصود اور بشریٰ انصاری کے ساتھ معین اختر کی جوڑی کو مداحوں نے بے حد پسند کیا۔

پاکستان کے لیے فخر کا باعث بننے والے معین اختر 61 برس کی عمر میں 22 اپریل 2011 کو کراچی میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے لیکن ان کی یادیں آج بھی کروڑوں مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY