مسعود اشعر
۔دس فوری1930۔ رامپور
.پانچ جولاٸی 2021۔ لاہور
اردو کےممتاز فکشن نگار، صحافی اور کالم نگار مسعود اشعر 90 سال کی عمرمیں انتقال کرگئے۔
مسعود اشعر کے انتقال کی تصدیق ان کے داماد حسان نے کرتے ہوئے کہا کہ مسعوداشعر کی نماز جنازہ کل صبح 10 بجے بی بلاک ڈی ایچ اے میں ادا کی جائےگی۔
یاد رہے کہ مسعود اشعر کو ادبی خدمات پر 2015 میں ستارہ امتیاز سے بھی نوازاگیا ، وہ بطور کالم نگار روزنامہ دنیا سے بھی وابستہ رہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ برائے حسن کار کردگی بھی انہیں دیا گیا۔
مسعود اشعر اردو کے معروف افسانہ نگار اور صحافی مسعود اشعر کا اصل نام مسعود احمد خان ہے اور وہ 10 فروری 1930ء کو رام پورمیں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور اور ملتان میں قیام پذیر رہے اور روزنامہ احسان ، زمیندار ، آثار اور امروز سے وابستہ رہے۔ افسانوں کے مجموعے آنکھوں پر دونوں ہاتھ، سارے افسانے اور اپنا گھر کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2009 ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ لاہور میں قیام پذیر ہیں اور روزنامہ جنگ اور بعد ازاں روزنامہ دنیا سے وابستہ رہے
جب ضیا الحق ملتان کے کور کمانڈر تھے تو مسعود اشعر فیملی اور ضیا الحق فیملی دونوں فیملیز کی بہت قربت تھی ۔ ضیا الحق ملتان میں تعیناتی کے دوران ڈاٸریکٹر محکمہ تعلقات عامہ سید فخرالدین بلے صاحب اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ امروز مسعود اشعر صاحب کے دفاتر میں آنا جا نا تھا البتہ بروز جمعہ ضیا الحق فیملی کا ظہرانہ جناب مسعود اشعر صاحب کے گھر پر ہی ہوا کرتا تھا اور یہی معمول رہا ۔
پانچ جولاٸی 1977 کو ضیإ الحق کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد
پروفیسر صلاح الدین حیدر ۔ سید فخرالدین بلے ۔ ڈاکٹر اصغر ندیم سید اور دیگر محبان وطن اور دیش بھگتوں کی طرح جناب مسعود اشعر صاحب کو بھی حد درجہ نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اور اتفاق دیکھیے کہ آج جب ملک بھر میں اسی 5.جولاٸی کی یاد میں یوم سیاہ منایا جارہا ہے آج ہی کے دن ایک عظیم تخلیقکار اور ایک بےباک اور فرض شناس اور محب وطن صحافی مسعود اشعر اس جہان فانی سے رخصت ہوگٸے
ظفر معین بلے













