ہم پچھلی مرتبہ اس پر بات کر رہے تھے۔ کہ عبادت کیا ہے ؟ کیا عبادت وہ ہےجو ہم چند ٹکریں مارکر مطمعن ہو جاتے ہیں کہ اب ہمیں تمام دینا کو لوٹنے کا لائسنس مل گیا؟ جبکہ خالق فرمارہا ہے کہ میں اپنے حقوق تو معاف کردونگا۔ مگر کسی مخلوق کے ساتھ زیادتی کی ہے تو وہ جانور ہو یاانسان اسے معاف نہیں کرونگا؟ا نسانو ں کی بات تو ہم گزشتہ مضمون میں کرچکے ہیں؟ اب ہم نے جانوروں کی بات کر کے آپ کو اور بھی پریشان کردیا؟ ان کے مالکوں کے لیے حکم یہ ہے کہ کھانا پانی پورا دو ،ان کی گرمی سردی کاخیال رکھو ؟ کام اتنا لو جتنا وہ کر سکیں وزن اتنا لادو جنتا کہ اٹھاسکیں۔ ان کی بھی اس دن فریاد سنی جائیگی؟ ایک حدیث یہ ہے کہ ان کو اس پر سے گزارا جا ئے گاجو مالک ہوگا؟ اور یہ عمل مسلسل جاری رہے گا؟ ہم اسے تو گناہ ہی نہیں سمجھتے ہیں! یہ تو عام بات ہے کہ بیچارے پرندوں کو پنجرے میں قید کرکے اور ان کے کھانے پینے کا خیال نہ رکھ کے لوگ خوامخواہ گناہوں میں ااضافہ کرتے ہیں؟ شہروں میں چلنے والے تانگوں کے گھوڑے دیکھئے انہیں کبھی پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا اس مہگائی کے دور میں مالک کواپنا پیٹ بھر کر، گھوڑے کے لیے بچتاہی نہیں ہےِ تو وہ دے کہاں سے لہذاہر گھوڑا ملا نصیر کے گھوڑے کی تصویر بنا ہوتا ہے ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ اب وہ اپنا آبائی کام چھوڑ کر کوئی اور کاروبار کر لیں کیونکہ وہ ان کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے حالانکہ یہ مجبوری میں آتا ہے لیکن حکم یہ بھی ہے کہ جتنی جلدی ہوسکے ایسا کام چھوڑدیا جائے؟ اللہ ہمیں سب کو دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
ممکن ہے کہ آپ کہیں کہ آپ ہمں ڈرا رہے ہیں ۔جبکہ دوسرے لوگ تو ہمیں خوشخبریاں سناتے ہیں ۔ اس موضوع کو بھی ا سلام نے ادھورا نہیں چھوڑا ہے۔ حکم یہ ہے کہ اگر لوگ متقی ہوں تو انہیں خوشخبریاں سناو ،اگر لوگ بگڑے ہوئے ہو ں، تو انہیں وہ سناو جنھیں سن کر توبہ کی طرف لوگ راغب ہوں اور وہ متقی بن جا ئیں؟ آپ اپنے ارد گرد دیکھ کر مشورہ دیں کہ ہم کیا کریں؟ ہم بھی ان میں شامل ہوجا ئیں کہ کہیں سب ٹھیک ہے۔ جیسے آجکل ہمارے لوگ کر رہے ہیں اور اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں؟ اور وہ توضیحین پیش کرتے ہیں کہ سر دھننے کو جی چاہتا ہے۔ وہ بیچارے تو ایسا یوں کرتے ہیں کہ ان کی مجبوریا ں ،انہیں مجبور کرتی ہیں۔ اب آپ کہیں گے کہ آپ ویسا کیونکہ نہیں کرتے؟ اس کی وجہ یہ ہے ک ہمارا معدہ چھوٹا ہے بہت تھوڑا کھاتے ہیں، جو کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ عطا فرما دیتا ہے۔ جس سے قناعت پیدا ہوتی ہے۔لہذا ہم ہمیشہ خدا لگتی کہتےہیں اور صرف اسی ڈرتے ہیں ۔ جبکہ انہیں سب سے ڈرنا پڑتا ہے۔ایک واقع آپ کو سنا ئے دیتے ہیں ؟ شاید آپ کی سمجھ میں بھی بات آجائے؟ ایک یونیورسٹی میں کانفرنس تھی۔ ایک صاحب نے ایک بہت ہی عظیم ہستی پر تقریر کی اور بتایا کہ انہوں نے جان دیدی مگر ظالم سے سمجھوتا نہیں کیا، ورنہ ان کے لیے سب کچھ تھا اور ظالم ان کی ہر خواہش کو پوری کرنے کو تیار تھا؟ اس کے بعد وقفہ سوال وجواب ہوا، تو ہم نے پوچھا کہ ابھی آپ نے اس عظیم ہستی کا ذکر کیا ہے جس نے جان دیدی مگر سمجھوتانہیں کیا۔ جبکہ آپ کے چاروں طرف جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور کیاکیا کرتے ہیں اس کو چھوڑیے۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں اورآپ بھی، کہ یہ روز کلب میں جا کر جوا کھیلتے ہیں، آپ انہیں منع کیوں نہیں کرتے؟ ارشاد ہوا کہ یہ اس سے تو اچھا ہے کہ وہاں بیٹھ کر کسی کی غیبت وغیرہ کریں جو ہمارے معاشرے میں عام ہے؟ ہم خاموش ہوگئے منظور تھا پردہ ہمیں؟ باہر جب نکلے تو اندھیرا تھا ان کی خواتین بھی ساتھ تھیں۔ جو ان کی اس عادت سے تنگ تھیں؟ وہ کہنے لگیں کہ “انکل نے سوال تو بہت اچھا کیا تھا مگر مولوی صاحب تمہیں بچا گئے ؟ جواب میں مردانہ آواز آئی کہ ہم “ملا “ کی روٹیاں بند نہیں کردیتے؟ اور ایک بلند قہقے میں بات اڑ گئی؟ اس پوری بات میں سبق یہ ہے کہ اگر خواہشات کوا نسان قابو میں نہ رکھے، تو اس کو سب سے ڈرنا پڑتا ہے۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالٰی چاہتا ہے کہ صرف مجھ سے ڈرو ، میری ہی عبادت کرو، صرف میری ہی بات مانو! میں تمہیں ہر طرح نوازوں نگا؟













