ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکا پابندیاں بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھے گا تو ایران چند گھنٹوں میں جوہر ی معاہدے سے دستبردار ہوسکتا ہے،اب تہران پر دبائو ڈالنے یا اسے تنہا کرنے کا دور گزر گیا ۔
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنی کابینہ کے نامزد وزرا کی اہلیت کے جائزے کے لئےپارلیمنٹ کے منعقدہ خصوصی اجلاس سے خطاب میں حسن روحانی نے کہا کہ قوم کے حقوق کی پاسداری ہماری ذمہ داری ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کے لیے ماضی کی صورتحال کو اپنانا کوئی مشکل نہیں ہے، جوہری معاہدہ نہ تو دنیا کے لئے کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی یہ عالمی قوتوں کے سامنے سر جھکانے کی نشانی ہے بلکہ یہ ایسا سمجھوتہ ہے جس میں تمام فریق فاتح ہیں اور اس سے دنیا کے ساتھ باہمی تعلقات کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا اسی طرح پابندیوں اور دباؤ کے طریقہ کار پر عمل کرتا رہا تو تہران حکومت جوہری معاہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ آسانی کے ساتھ چند گھنٹوں میں ہی کر سکتی ہے۔

حسن روحانی کا کہناتھاکہ امریکی صدرٹرمپ نےدنیاپرواضع کردیاکہ واشنگٹن اچھاشراکت دارنہیں،ایران نےجوہری معاہدےسےجڑےرہنےکوفوقیت دی،جوہری معاہدہ امن اورسفارتکاری کی جیت ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ تہران گزشتہ چند سالوں کے مقابلے میں مزید مضبوط قوت بن گیا اور اب دنیا میں کوئی ایران کو تنہا کرنے اور ہم ہر دباؤ ڈالنے کی دھمکی نہیں دے سکتا، ایرانی قوم کی عزت کی پاسداری کی بنیاد پر دنیا کے ساتھ تعلقات کی بحالی نئی حکومت کی خارجہ پالیسی کا اہم جز ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY