ہالینڈ میں مقیم پاکستانی بلاگر احمد وقاص گورایا کے قتل کی سازش کی منصوبہ بندی کے الزام میں لندن کے ایک شخص محمد گوہرخان کےخلاف اس جمعرات کو کنگسٹن کراون کی عدالت میں مقدمے کی سماعت شروع کر دی گئی ہے اور عدالت نے دو ہفتے کے اندر اس مقدمے کو نمٹانے کا عندیہ دیا ہے۔
لندن کی عدالت میں استغاثہ کی وکیل مورگن کیوسی نےالزام عائد کیا ہے کہ لندن ہی کے رہائشی اکتیس سالہ محمد گوہرخان کو بلاگر کو قتل کرنے کے لیے مبینہ سازش کا حصہ بنایا گیا تھا۔
احمد وقاص گورایہ پاکستانی فوج کے سخت ناقد ہیں۔ ان کی درخواست پرگزشتہ جون میں ملزم کو گرفتار کر لیا گیا تھا اورتحقیقات کے بعد عدالت کو ملزم کے اکاونٹ میں رقم کی ٹرانزیکشن اور اس کے دورہ ہالینڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پیش کر دی گئی۔ تاہم،ملزم نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ٹرانزیکشن کسی اور معاملے میں ڈیل کا حصہ ہے اور وہ بلاگر کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔
استغاثہ کے وکلا نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ بلاگر احمد وقاص گورایہ سماجی میڈیا پر پاکستانی فوج کا مذاق اڑاتے رہے ہیں اور ”انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں فوج کے ملوث ہونے کے ثبوت اپنے بلاگ میں پیش کرتے رہے ہیں، جس پر انھیں دھمکیاں بھی ملتی رہی ہیں، اسی لیے وہ ہدف بنائے گئے تھے”۔
بقول وکیل، گورایہ نے ہالینڈ پولیس کو بھی خبردار کیا تھا کہ اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، جس پر ہالینڈ کی پولیس نے انہیں حفاظتی اقدامات کرنے اور اپنی نقل و حمل کو خفیہ رکھنے کی ہدایت کی تھی۔
ہالینڈ کی پولیس اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کے تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم مشرقی لندن میں ایک سپر مارکیٹ میں ملازم ہے، اس کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے اور وہ قرض میں جکڑا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسی لیے وہ مڈ زیڈ نامی ایک شخص کی ایک لاکھ پونڈ کے عوض بلاگر کو قتل کرنے کی پیشکش پر تیار ہوا۔
استغاثہ کی جانب سے ایلیس مورگن کیوسی نےعدالت کو بتایا کہ تین سال قبل ان کے موکل مسٹر گورایہ کو ایف بی آئی نے اطلاع دی تھی کہ وہ ہٹ لسٹ پر ہیں، اور ان کے موکل کو آن لائن اور ٹیلی فون پر بھی دھمکیاں موصول ہوتی رہی ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ یہ دھمکیاں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کی جانب سے بھیجی جاتی تھیں۔
تفتیش کاروں نے عدالت میں گوہرخان اور مڈ زیڈ کے نام کے ایک شخص کے مابین واٹس ایپ پیغامات بھی دکھائے، جن میں مبینہ طور پر، ”کوڈ میں گفتگو کی گئی تھی” اور ”مچھلیاں پکڑنے کے اصطلاحات میں مبینہ قتل کے لیے اشارے دیے گئے تھے” اور ہدف کو ”چھوٹی مچھلی” کہا گیا تھا۔ ”اور کہا گیا تھا کہ ایک شارک اور ایک چھوٹا چھری کانٹا کام کے لئے کافی ہوگا۔ اس پیغام میں ایک بگ باس کا ذکر بھی آیا تھا۔”
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ میبنہ طور پر ”گرفتار ملزم (گوہر) خان کو احمد وقاص گورایہ کے گھر کا پتہ اور تصویر بھی بھیجی گئی تھی اور وہ اسے لے کر روٹرڈیم بھی گیا، جہاں اس نے ایک چاقو خریدا لیکن وہ گورایہ کو وہاں تلاش کرنے میں ناکام رہا اور واپس برطانیہ چلا گیا”۔
استغاثہ کی وکیل مورگن کیوسی نے عدالت کو بتایا کہ تفتیش کے دوران ملزم (گوہر) خان نے پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے اور روٹرڈیم جانے کا اعتراف کیا ہے۔ لیکن اس کا موقف ہےکہ اس کا ارادہ قتل کرنے کا نہیں تھا۔
یورپ میں مقیم ایک معروف پاکستانی صحافی خالد حمید فاروقی نے جو اس صورتحال کے واقف کار ہیں، وی او اے کو بتایا کہ وقاص گورایہ مختلف فورمز پر کہتے رہے ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور انھوں نے اس حوالے سے ڈچ پولیس کو آگاہ کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ اس کیس کی وجہ سے گورایہ کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ انھیں قتل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اور بقول خالد حمید فاروقی یہ کیس پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔ انھوں نےکہا کہ یورپ میں صحافی تنظیمیں اور اظہار رائے کی آزادی کی وکالت کرنے والے ادارے اور بااثر شخصیات سب اس کیس میں دلچسپی لے رہے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں کا میڈیا بھی اس خبر کو نمایاں کر رہا ہے۔ مسٹر فاروقی نے کہا کہ ”اس کیس کے بعد بظاہر مسٹر گورایہ کی حمایت میں بہت سے لوگ آگئے ہیں، یہاں تک کہ ڈچ پارلیمنٹ میں ان کے موقف کی حمایت کی جا رہی ہے”۔













