کیا ایسی ہوتی ہیں زندگی کی عبارتیں? ڈاکٹرنگہت نسیم

0
919

کیا ایسی ہوتی ہیں زندگی کی عبارتیں ؟

(ان بچوں اور نوجوانوں کے نام جنہوں نے گولیوں کی بوچھاڑ میں اپنی آنکھیں گنوا دیں ۔۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں بپا دو دہایئوں کی مسلسل جنگ میں تقریبا 4 لاکھ بچوں کی بینائی چلی گئی)

سنو ماں ۔۔!
زمین کا چپہ چپہ
معصومیت کے خون سے داغ داغ ہے
زرہ زرہ انسان کی سفاکی کا شاکی ہے
اس لرزہ خیز اندھیروں میں
ڈر اپنے منہ پر ہاتھ رکھے خاموش ہے
پرندے اب کسی آدم زاد سے ملنے چھت پر نہیں آتے
صبح کے ملگجے میں گھر کی منڈھیروں پر نہیں بیٹھتے
اب وہ دونوں کسی سورج کا انتظار نہیں کرتے
جانے کس طرف سے کوئی الھڑگولی آزاد ہو جائے
اور ۔۔۔۔میری طرح ان کی آنکھیں بے نور ہو جایئں
جانتا ہوں ۔۔
اس دہشتناک دن
پرندے اڑ سکتے تھے ۔۔۔ میں بھاگ سکتا تھا
پر ۔۔۔۔ کہاں جاتے ، کہاں جا سکتے تھے
ماں ۔۔
میدان جنگ کی وسعت بڑھتی جا رہی ہے
پوری کائینات
وحشت کے نشانے پر آچکی ہے
اور ۔۔۔ انسان ہے ۔۔ کہ
جہالت کی تاریخ کو نیا آہنگ دے رہا ہے
اپنی حرص و ہوس کو انسانیت کہہ رہا ہے
کیا ایسی ہوتی ہیں زندہ قومیں ؟
کیا ایسی ہوتی ہیں زندگی کی عبارتیں ؟
نہیں ۔۔۔ ماں ۔۔۔ نہیں
جیسے تو ہاری تھی ۔۔۔۔۔ میں نہیں ہاروں گا
عہد بے بصر میں مثل ستارہ سحر رہوں گا

ڈاکٹرنگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY