حسین شناسی کا سفر جاری رہے گا،تاثرات اور حوالہ جات

0
915

مجھے حسین شناسی کا سفر کرنا ہے ۔۔۔ یہ سفر میرا ہونا ہی چاہیئے ۔۔ ایسا میں نے دوہزار پندرہ میں سوچا تھا اور اس موضوع پر طویل نظم لکھنے کی خواہش کا اظہار جب مدیر اعلی عالمی اخبار سے کیا تو انہوں نے پہلے تو خاموشی اختیار کی پھر صرف اتنا ہی کہا ” آپ سے ابھی نہ ہو سکے گا ” ۔۔ میں اس وقت سے لے کر دو ہزار بیس کے آغاز محرم سے پہلے تک اپنی خواہش کے ساتھ سوتی جاگتی رہی ۔۔۔ پڑھتی رہی ۔۔ اپنے کئی سوالوں کے جواب کبھی خود سے پوچھتی ۔۔کبھی کتابوں میں ڈھونڈتی ۔۔ کبھی عالموں کے در پر پہنچ جاتی ۔۔ کہیں مایوسی نہ ہوئی ۔۔ ہر بار کوئی نئی بات مل جاتی اور میں حیرانگی سے مزید پرشوق ہو جاتی ۔ اپنی کم علمی پر کئی بار تو یہ احساس ہوا کہ پتہ پتہ بوٹا بوٹا حسین شناسی جانے ہے ۔۔ جانے نہ جانے گل (نگہت نسیم ) ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔۔۔۔۔

اس بار جب انہوں نے حکم دیا کہ محرم میں طویل نظم لکھو ۔۔ نام بھی خود تجویز کیا ” حسین شناسی کا سفر” ۔۔ اور پھر اس سفر پر میں خود کو بھول گئی ۔۔

پہلی قسط سے لے کر آخری قسط تک یوں لگا جیسے میں نے بصورت خاک پا مدینے سے کربلا تک کا سفر آل پاک کے ساتھ کیا ۔۔

خیام حسینی کے آس پاس کہیں میرا خیمہ بھی نصب کیا گیا تھا ۔۔ میں بھی سات محرم سے دس محرم تک پیاسی رہی ۔۔ دس محرم کے دن کو کائینات کا سب سے سخت ، طویل اور پردرد پایا ۔۔ خیام حسینی کو لٹتے بکھرتے اجڑتے دیکھا ۔۔ پھر اسیران کربلا کے پیچھے پیچھے سفر کیا ۔۔ اربعین کی محافل میں گریہ کیا ۔۔تمام صعوبتوں کے بعد جب اسیران کربلا مدینہ پہنچے ۔۔ ان کے سفر عالم بالا تک گئے اور میں وہیں رہ گئی ۔۔۔ میرا سفر میری آخری سانس جاری رہے گا۔

میرا عشق کربلا میرا یقین کربلا
کربلا کے بعد اب میرا ہے دین کربلا

فاطمہ کے باغ کے پھول دفن ہیں یہاں
ایسی سب امانتوں کی ہے امین کربلا

ریت پر پڑے ہوئے چاند سب رسول کے
دیکھی نہ کائنات نے ایسی حسین کربلا

خون سے لکھا ہوا ہے جبینِ وقت میں
سب زمینوں کی ہے ماں اک زمین کربلا

ہاں اسی جگہ حیات پائی ہے نماز نے
ہے سجدے میں جو آسمان وہ جبین کربلا

اسکے ذرے ذرے میں خونِ آلِ مصطفیٰ
ہے اندھیری رات میں مہرِ مبین کربلا

مطمئن ہوں اسقدر نگہت نسیم باخدا
دل میں میرے حشر تک جیسے مکین کربلا

حسین شناسی کا سفر بیرون ذات سے درون ذات کا شعور سے معراج شعور کا سفر رہا۔ مجھے اس طویل نظم کی تخلیق میں اعانت پروردگار، رسول و آل رسول،باب العلم رہی، اسکی تکمیل کے لیئے جو وسیع الجہت مطالعہ کرنا پڑا وہ میری وہ قلمی حیات کا معجزہ ہے۔

اس ضمن میں جن جن ذرائع سے استفادہ کیا ، اگر انکی مکمل تفصیل لکھنے لگوں تو مزید کئی اقساط اسی کے لیئے وقف کرنا پڑیں گی، متعدد اور دستیاب ذرائع کے ساتھ اللہ کی ودیعت کردہ عقل کو بھی کسوٹی بنایا اور بین المسالک علما کی کتب کے ساتھ ساتھ جدید ذرائع میں انٹرنیٹ، فیس بک اور یوٹیوب کی تقاریر کو بھی فہم مضمون کے لیئے استعمال کیا،

فقط معدودے چند کُتب کا ذکر ضروری ہے جن میں شیخ مفید کی کتاب “المزار”، ابن المشہدی کی کتاب المزار الکبیر، علامہ مجلسی کی بحار الانوار، محمد شیرازی کی کتاب “کتاب الدعا و الزیارہ”، محمود بن سید مہدی موسوی دہ سرخی اصفہانی کی کتاب “رمز المصیبہ”، ابراہیم بن محسن کی کتاب “الصحیفۃ الہادیہ” ـ جو “الصحیفۃ المہدیہ” اور “التحفۃ المہدیہ” کے نام سے بھی مشہور ہے ـ اور حسن شیرازی کی کتاب “کلمۃ الامام المہدی” علیہ السلام
سید ابن طاؤس کی اقبال الاعمال، عبد اللہ بن نوراللہ بحرانی اصفہانی کی عوالم، علامہ مجلسی کی بحار الانوار، محمد تقی سپہر کاشانی کی ناسخ التواریخ، محمد شیرازی کی کتاب الدعا و الزیارہ، دہ سرخی اصفہانی کی رمز المصیبہ اور محمد مہدی شمس الدین کی انصار الحسین شامل ہیں۔
مصائب تحریر کرتے ہوئے میں نے زیادہ مدد مقاتل کی کُتب اور جید علما کی مجالس سے لی ہے۔

جب زیارت ناحیہ کا ترجمہ منظوم کرنے لگی تو بہت کچھ جاننے کو ملا ۔ سید ابن طاووس نے اپنی کتابوں ’’اقبال الاعمال‘‘ اور ’’مصباح‘‘ میں فقط لفظ ’’ناحیہ مبارکہ‘‘ کی طرف اشارہ کیا ہے اور لکھتے ہیں کہ اس بات کا احتمال ہے کہ یہ زیارت امام ہادی علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے کیونکہ آپ ع کے زمانے میں حکومت کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے اصحاب کھل کر آپ سے ملاقات نہیں کر سکتے تھے لہٰذا وہ جب بھی امام معصوم کے بارے میں بات کرتے تو لفظ ’’ناحیہ مقدسہ‘‘ استعمال کرتے تھے لہٰذا بعض روایات کہتی ہیں کہ زیارت ’’ناحیہ مقدسہ‘‘ امام ہادی علیہ السلام سے منقول ہے۔

ہوا سوال جو عشق حسین کا در پیش
خود اپنے حق میں لکھا آپ فیصلہ میں نے

بتاؤ کون ہے وہ کائنات میں جو کہے
غم حسین کا حق کر دیا ادا میں نے

اس طویل نظم کی تخلیق میں اگر کوئی کمی کوتاہی رہ گئی ہو تو خلاق لوح و قلم اور حُرمت لوح و قلم میرے سہو کو معاف فرمائیں اور میری اس قلمی مساعی کو میری اور میرے والدین کی شفاعت و مغفرت کا وسیلہ قرار دیں ۔ میں عالمی اخبار کابالخصوص شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ اگرمدیر اعلی کا مجھ پر یقین نہ ہوتا ، بروقت ان کے مشورے نہ ملتے تو میں شاید شاید حسین شناسی پر یہ طویل نظم کبھی نہ لکھ پاتی

تمام احباب اور گھر والوں کا شکریہ جنہوں نے ہر قدم پر حوصلہ افزائی کی اور میں یہ بابرکت سفر کر پائی ۔۔ الحمدوللہ ۔

طالب دعا
ڈاکٹر نگہت نسیم
دسمبر دوہزار بیس
سڈنی ،آسٹریلیا
سڈنی

نوٹ، ادارہ عالمی اخبار ڈاکٹر نگہت نسیم کی اس صبر آزما قلمی مساعی کے لیئے شکر گزار ہے اور یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ آل رسول اور کربلا کسی ایک مسلک کی وراثت نہیں یہ تو عالمین کے رہنما اور عالمین کے لیئے خوشبو ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ طویل نظم کتابی صورت میں ضرور سامنے آئے گی

دعا گو

عالمی اخبار

SHARE

LEAVE A REPLY