شاعر : جاوید ہمایوں
صفحات : 194
قیمت : 300 روپے
سال اشاعت: 2020
ناشر : اثبات و نفی پبلی کیشنز، کولکاتا
مبصر : سعدیہ صدف
شاعری احساس درون کی ترجمانی کا نام ہے ۔۔۔تخیلات و تصورات کو جب اظہار کے پیرائے عطا کئے جاتے ہیں تو وہ بامعنی ہوجاتے ہیں۔۔۔صدیوں سے ہمارے فنکار اپنے تصورات کو مختلف پیرائہ اظہار میں تجیسم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔۔۔
غزل کا معاملہ بھی مطالب کے خوبصورت اظہار سے ہے ۔۔۔اردو شاعری میں قلی قطب شاہ سے لے کر ولی دکنی تک ، میر سے لے کر غالب تک ، داغ سے لے کر وحشت تک اور وحشت سے لے کر احمد فراز و شہریار تک اہم اور نادر فنکاروں کی کمی نہیں ۔۔۔ان صاحبان نے دور کی کوڑی بھی غزلوں میں سموئ اور حقیقت کی بھی رنگ آمیزی کی ۔۔۔تصوف کا پاک جہان آباد کیا تو وہیں خمریات سے لبریز بھی کیا ۔۔۔۔غزل میں جہاں رومان کا دلکش جہان ہے وہیں حقیقی زندگی کے تمام نشیب و فراز بھی اس میں شامل ہوگئے ہیں ۔۔۔۔
ادب کے مختلف تحریکات نے غزل کے مزاج کو متاثر کیا اور وہ اس لائق ہوئ کہ ہر ایک موسم کے مزاج کی نباض بنتی گئ۔۔۔خواہ وہ ترقی پسندی کا دور ہو یا جدیدیت کا غزل کہیں بھی جاں بلب نہیں ہوئ ۔۔۔جدیدیت کے بعد کا دور ما بعد جدید کہلایا ۔۔۔جس میں لکھنے والے کسی بھی ازم کے اسیر نہ تھے ۔۔یہ لکھاری آزاد تھے ، آزاد ہیں ۔۔۔اور اپنے تجربات و مشاہدات کو بالخصوص اپنے احساسات کو براہ راست پیش کررہے ہیں ۔۔
ان شعرا کا ڈکشن منفرد ہے ۔۔جو صرف ان کا ہی خاصہ ہے ۔۔اکیسویں صدی کے شعرا میں ایسی ہی ایک محترم شخصیت شامل ہے جنہیں ہم جاوید ہمایوں کے نام سے جانتے ہیں ۔۔۔
جاوید صاحب کی فکر ماضی سے روشنی کشید کرتی ہے اور اسی روشنی میں یہ حال سنوارتے دکھائ دیتے ہیں ۔۔۔حقیقت بھی یہی ہے کہ انسان اپنی بنا سے جڑا رہے ۔۔خواہ کتنی بھی ترقی کیوں نہ کر لے لیکن راحت اور مسرت اپنی بنیاد سے ہی حاصل کرتا ہے ۔۔
” چراغ گمشدہ ” بھی استعارہ ہے گم ہوتی ہوئ پرانی تہذیب کا، شکستہ قدروں کا ، وراثت کا ، عزت و ناموس کا ،جس کے سبب خانوادے کی عظمت مسلم ہوا کرتی ہے۔۔۔۔
چراغ گم شدہ کو خواب میں آباد رکھتا ہوں
شکستہ طاقچوں میں نالہ و فریاد رکھتا ہوں
شاعر کی فکری جڑیں ماضی میں پیوست ہیں اور اسی سے توانئ حاصل کرتی نظر آتی ہیں۔۔۔خود جاوید صاحب اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے پرانے موضوعات کو نئے انداز سے پیش کیا ہے ۔۔۔ان کے نزدیک :
” زندگی اور تہذیب ایک ‘چراغ گمشدہ ‘ کی مانند جہان گریہ میں شرابور اور محصور و پسپا ہے۔۔ہماری زندگی ایک ایسا چراغ ہے ،جو جلتا بھی نہیں اور بجھتا بھی نہیں ۔۔۔تاہم اس چراغ کو روشنی بکھیرنے کی للک آج بھی ہے ۔۔چراغ کہیں نہ کہیںں کسی گوشے میں روشن ہے۔۔۔”
” چراغ گم شدہ ” کا مطالعہ ماضی کی روایات سے وابستہ بھی کرتا ہے اور عصری عیاریوں ریاکاریوں کی روداد بھی سناتا ہے ۔۔۔یہاں نہ صرف سچائ سے مفر کا قصہ ہے بلکہ عزم و استقلال کا فسانہ بھی موجود ہے ۔۔۔۔موجودہ دور کی ستم ظریفی پر کیا خوبوصورت طنز کیا ہے :
ہم نے مہتاب کیا کوچہ ء تاریک ترا
پھر بھی الزام کہ ہیں شہر جلانے والے
منافع بخش سودا تھا بظاہر کچھ زیاں کرتے
مصاحب بن گئے ہوتے زمیں کو آسماں کرتے
انسان کی زندگی میں ایسے مراحل بھی آتے ہیں جہاں حاصل اور لاحاصل کا کوئ امتیاز باقی نہیں رہتا ہے۔۔۔۔اسی طرح سہولتیں جب میسر آجائیں تو مشکلات ڈھونڈنی پڑتی ہیں۔۔۔اس کا اظہار “چراغ گمشدہ ” کے ان اشعار سے ہوجاتا ہے:
تعبیر کا ہجوم تھا شب کے دیار میں
آنکھوں میں کوئ خواب اتارا کبھی نہ تھا
دریا تھا سرد سرد ہوائیں تھیں برف برف
اندر کی آگ آگ فضا دیکھتے رہے
اور اب یہ شعر ملاحظہ فرمائیں جس میں چیلنج بھی ہے اور حقیقت کا عکس بھی ۔۔۔۔۔
رکھتا ہے حوصلہ اگر اترے زمین پر
تارے کی تو چمک ہے بس آسمان میں
خود احتسابی ہر شخص کے بس کی بات نہیں ۔۔۔اعلی ظرف افراد ہی اس کے اعتراف کی جرات رکھتے ہیں ۔۔۔جاوید ہمایوں نے بھی درج ذیل شعر میں اپنی اعلی ظرفی کا جرات مندانہ مظاہرہ کیا ہے ۔۔۔۔
پاک دامن ہیں کہاں میرے بدن کی صبحیں
کانپ اٹھتے ہیں مرے دست دعا خوابوں میں ۔۔۔
چند اشعار اور دیکھیں جن سے جاوید ہمایوں کا فکری جوہر ان کے تجربے سے ہم آمیز ہوتا نظر آتا ہے :
دریا تو دیا مجھ کو مگر کیسی سخاوت
ساحل سے رہوں دور منادی یہ کرادی
شہر منافقان میں گوشہ نشین ہوگیا
میں نے ہی کاٹ لی زباں قصہ بہت طویل ہے۔۔
میرے مصاحبین ہیں میرے زوال کا سبب
وجہ ء شکست اور کیا میں خوش بہت ہوں ہار میں۔۔
سمندر جذب کرلینا بدن کو یخ زدہ کرنا
خلا سے فیل پا آتش بکھرنا چاہتی ہے اب۔۔
خاموش بظاہر ہوں مگر ٹوٹ رہا ہوں
کوئ مرے اندر کی صداوں سے بچا لے
مختصر یہ کہ جاوید ہمایوں صاحب کے افکار و خیالات کی یہ پہلی کاوش لائق تحسین ہے کہ انہوں نے چراغ گم شدہ کے پس پردہ کھوتی ہوئ تہذیب کے مٹتے ہوئے نققوش کو محفوظ کرنے کا ذمہ لیا ہے ۔۔۔قارئین پر ان کے افکار کی صد رنگی ضرور واضح ہوگی !!!!!
Sadia Sadaf
Research Scholar
Aliah University
KOLKATA (W.B.)
INDIA













