زادِ سفر۔۔پانچویں قسط،مریم عالم

0
286

پانچویں قسط
میں نے گل رعنا کو بڑی مشکل سے اس عورت سے واپس لیا اس کو اپنی ماں سے زیادہ مجھ سے لگاؤ تھا اس لئے بچی کے کہنے پر عدالت کا فیصلہ میرے حق میں ہوا ورنہ اس عورت نے گل کو بہلانے کی بڑی کوشش کی تھی پتہ نہیں اللّہ کو میری کون سی نیکی پسند آئی
جو کم از کم مجھے بلکل اولاد کی جدائی سے محروم رکھا اب مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ میری ماں نے اولاد سے دوری کا دکھ کیسے سہہ ہو گا بات کرتے ہوئے کمال احمد کی آنکھیں بھیگ گئیں
انوشےکیا میں اندر آ سکتی ہوں گل نے انوشے کے کمرے کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے پوچھا انوشے نے کوئی جواب دئیے بغیر منہ پھیر لیا گل پھر بھی اندر چلی گئی اسے گل کا یوں آنا بلکل اچھا نہیں لگا کیا کر رہی ہو انوشے دیکھ نہیں رہی میں پڑھ رہی ہوں اس نے روکھے انداز میں گل کی بات کا جواب دیا اس کا مطلب میں نے تمہیں پریشان کیا گل نے اس سے کہا
وہ بھی بلا کی بے مروت تھی جھٹ سے کہہ دیا بلکل گل مارے شرمندگی کے کچھ نہ کہہ پائی وہ اٹھ کر با ہر چلی آئی اس نے انوشے کے اس روئیے کا ذکر کسی سے نہیں کیا حالانکہ کے اسے برا بہت لگا تھا
اسی طرح کچھ دن گزر گئے وہ روز یونیورسٹی چلی جاتی اور واپس آ کر خود کو پڑھائی میں مصروف کر لیتی اک دن سویرا اس کی طرف آئی وہ اس وقت بھی اپنے کمرے میں تھی سویرا باہر لان میں آنا بی کے پاس جہاں کمال احمد اور گل رعنا بیٹھے تھے بیٹھ گئی
وہ کافی دیر ان سے باتیں کرتی رہی اسے ان لوگوں سے مل کر خوشی ہوئی اور اس نے اس کا اظہار بھی ان دونوں باپ بیٹی سے کر دیا کافی دیر تک جب انوشے کمرے سے باہر نہیں آئی تو سویرا گل رعنا کو لے کر اس کے کمرے میں گئی وہ سوچے سے گلے ملی اور ہنستے ہوئے کہنے لگی انوشے تمہاری بہن سے ملکر بہت اچھا لگا
بہت اچھی ہے یہ وہ بلا اختیار بول پڑی یہ میری بہن نہیں ہے میں اپنے بابا کی اک ہی بیٹی ہوں میں انوشے جلال ہوں اکلوتی بیٹی ہوں اس گھر کی سویرا کو انوشے سے اس روئیے کی توقع نہیں تھی
گل کو انوشے کی بات بہت بری لگی کیوں کہ وہ پہلے بھی اس کی انسلٹ کر چکی تھی وہ بولے بغیر نہ رہ سکی انوشے انسان کی میں اسے کہیں کا نہیں چھوڑتی واحد اور یکتا تو صرف اللّہ کی ذات ہے انسان کو زندگی میں رشتوں کی ضرورت ہوتی ہے تم ان سے بھاگ رہی ہو کبھی کبھی انسان پر ایسا وقت آتا ہے کہ انسان اپنے دل کا بوجھ کم کرنے کے لئے اک اک آسا سہارا تلاش کرتا ہے جس کے کندھے پر سر رکھ کر وہ اپنے دکھ کو کم کرتے ہوئے سب کچھ کہ دے
لیکن اس وقت اللّہ انسان کے انا کے بت کو پاش پاش کرنے کے لئے بلکل تنہا کر دیتا ہے وہ سب کے درمیان رہ کر بھی خود کو تنہا محسوس کرتا ہے وہ چاہ کر بھی کسی سے کچھ نہیں کہ پاتا تو مس انوشے جلال اس وقت سے ڈرو جب تم اپنا دکھ کسی سے بھی بیان نہیں کر سکو گی حتیٰ کے اپنے باپ سے بھی نہیں
اللّٰہ جب آزمانے پر آتا ہے تو پھر اپنےبرگزیدہ بندوں یہاں تک کہ اپنے محبوب پیغمبروں کو بھی آزمائش میں ڈال دیا کرتا ہے تو تم کیا ہو بی بی
وہ رساں میں بولے جا رہی تھی اور انوشے کا منہ اس کی باتیں سن کر لال ہو رہا تھا اس سے پہلے گل نے کسی کے لیے بھی اتنے سخت الفاظ استعمال نہیں کئے تھے وہ اس کے بعد یہاں ٹھہری نہیں اس کے جانے کے بعد انوشے نے اس کے پیچھے جانے کی لیکن سویرا نے اسے روک لیا کہ بات بڑھ نہ جائے دونوں بھائی اتنے عرصے بعد ملے ہیں ان کو اک نیا دکھ دے کر الگ کرنے کی کوشش مت کرو انوشے تم اپنی غلطی بھی تو تسلیم کرنے کی کوشش کرو تم نے بھی تو اس کا دل دکھایا ہے
اس کی جرأت تو دیکھو مجھے کیا کچھ کہ گئی تو تم اپنا ظرف تھوڑا بڑا کرو اور نہیں تو اپنے بابا کے لئے انہیں کتنا دکھ ہو گا جب انہیں تمہارے اس روئیے کا پتا چلے گا سویرا اسے سمجھانے لگی اگر اس نے سب انکل یا بابا کو بتا دیا تو نہیں مجھے یقین ہے کہ وہ نہیں بتائے گی وہ اک سمجھ دار لڑکی ہے انوشے کی بات کا جواب دیتے ہوئے سویرا نے کہا
اچھا اب اپنا موڈ ٹھیک کرو اور بار چلتے ہیں میرا خیال ہے کہ انا بی نے کھانا لگوا دیا ہو گا اچھا تم چلو میں فریش ہو کر آتی ہوں سویرا جانتی تھی کہ انوشے فریش ہوتے ہوئے کم از کم آدھا گھنٹہ ضرور لگائے گی
اس لئے وہ اس کے کمرے سے نکل کر سیدھی گل رعنا کے پاس گئی اسے بات کرنے کی کوشش کی کہ انوشے نے بچپن سے اپنے باپ کا پیار صرف اپنے لئے دیکھا ہے اور بے انتہا دیکھا ہے تمہارا رشتہ اس کے لئے بلکل نیا ہے اسے قبول کرنے میں اسے تھوڑا وقت تو لگے گا نا تم اس کی باتوں کو دل پر مت لینا وہ بہت اچھی ہے لیکن وہ اتنی جلدی کسی کے ساتھ گھلتی ملتی نہیں میرے ساتھ بھی اس کی دوستی بڑی مشکل سے ہوئی تھی
گل اک سمجھ دار لڑکی تھی وہ سویرا کی طرف دیکھ کر مسکرا دی تم اک مخلص دوست ہو وہ واقعی بہت خوش قسمت ہے اسے غرور کیوں نہ ہو جب اس کے پاس اتنے پیار کرنے والے لوگ ہیں
چلو آؤ کھانا لگ گیا جب آنا بی نے کھانے کے لیے آواز دی تو دونوں کھانے کی میز پر انوشے کے آنے سے پہلے پہنچ گئیں سویرا جانتی تھی ک وہ اسے گل کے ساتھ دیکھ کر بگڑ جائے گی
کھانا کھاتے ہوئے کمال احمد گویا ہوئے بھائی جان ہم لوگ اگلے ہفتے واپس جا رہے ہیں ان کے اس انکشاف پر سب چونک پڑے کیا مطلب اتنی جلدی چلے جاؤ گے واپس ابھی تو آئے ہو ابھی کہاں آنا بی ایک مہینہ ہونے والا ہے اور ایک مہینے کے لیے ہی تو آیا تھا
وہ آنا بی کے سوال کے جواب میں بولے کیا پھر چھوڑ کر چلے جاؤ گے کمال نہیں بھائی اب ہمیشہ کے لئے نہیں جاؤنگا اب تو آتا جاتا رہوں گا آپ لوگوں نے میری ساری غلطیوں کو معاف کر کے مجھے جینے کا اک نیا حوصلہ دیا ہے ورنہ میں تو اسی شرمندگی میں مر جاتا کہ میں نے اپنے باپ جیسے بھائی اور ماں جیسی انا بی کا دل دکھایا ہے میں سوچتا تھا اگر آپ لوگوں نے مجھے معاف نہ کیا تو اللّٰہ بھی مجھے معاف نہیں کرے گا
میں جانے سے پہلے اک بار اپنے آبائی گاؤں جا کر اپنی ماں کی قبر پر فاتحہ خوانی کروں گا اور اس عظیم ماں اور عظیم عورت سے معافی مانگوں گا اور مجھے یقین ہے کہ وہ بھی مجھے معاف کر دے گی بات کرتے ہوئے کمال کی آنکھوں سے شارع قطار آنسو ٹپک رہے تھے
کلام امّی جان نے تمہیں تو بہت پہلے معاف کر دیا تھا وہ کہتی تھی کہ چھوٹا ہے نا اور نا سمجھ ہے جب اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گا نا تو دیکھنا فورا” واپس آ جائے گا اور میری آغوش میں سر رکھ کر کہے گا کہ امّی خان غلطی ہو گئی معاف کر دیں اور میں ان کی بات سن کر کہتا کہ آپ اسے فوراً معاف کر دیں گی کیا
تو وہ میری بات کے جواب میں جہتیں کہ جھلے ماں بھی کبھی اپنے بچوں سے ناراض ہوتی ہے ہاں لیکن میں بھی اسے تھوڑا وہ کیا کہتے ہو تم لوگ انگریزی میں اٹیٹیوڈ ہاں وہی دکھاؤں گی ایسے تھوڑی نہ مان جاؤں گی گل سویرا اور انوشے بڑے مزے سے دونوں بھائیوں کی گفتگو سن رہیں تھیں وہ سب سے بے خبر اپنی باتوں میں مگن تھے
کہ انھیں احساس ہی نہیں ہوا کہ وہ ناشتے کی میز پر سب کے ساتھ بیٹھے ہیں اچانکانوشے کے سوال پر کہ اتنی اچھی تھیں دادی پر انھیں احساس ہوا کےوہ سب کے درمیان بیٹھے ہیں ہاں بیٹا اتنی ہی اچھی تھیں تم لوگوں کی دادی کمال احمد انوشے کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولے
جواباً وہ بھی مسکرا دی چلو اب ناشتہ ختم کرو ٹھنڈا ہو جائے گا آنا بی کے کہنے پر سب ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئے……….
جانے سے پہلے سویرا نے انوشے اور گل رعنا کے درمیان تلخی دور کرنے کی کوشش کی اور وہ اس کوشش میں کامیاب ہو گئی سویرا کو انوشے نے سمجھایا کہ اب وہ کچھ دنوں کی مہمان ہے سگی نہ سہی تمہاری چچازاد بہن ہے تم دونوں کی رگوں میں دوڑنے والا اک ہی خون ہے دیکھو ایسا نہیں کرتے تم نے بھی اس کا دل دکھایا ہے
معافی نہ سہی کم از کم اس سے اپنا رویہ درست کرو انسان کا دل نہیں توڑتے کیونکہ دلوں رب بستا ہے اور اگر رب ناراض ہو جائے تو بڑی مشکل ہو جاتی ہے انوشے کو اس وقت سویرا کی ان باتوں کی سمجھ نہیں آئی مگر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا
اس کے بعد سویرا اپنے گھر چلی گئی that’s like a good girl انوشے کے دل میں گل کے لیے جو غصہ تھا اس میں کمی آ گئی وہ جانے والی تھی اس لیے شائد گل اور کمال احمد کے ساتھ وہ ان کی واپسی کی تیاری کرنے لگی ان کی شاپنگ میں مدد کی اور خوش اسلوبی سے انھیں رخصت کیا
کمال احمد تو اسے دعائیں دیتے ہوئے گئے گل کے ساتھ بھی ہوئی تلخی وہ بھول گئی تھی لیکن کسے خبر اس وقت گل رعنا کے دکھی دل سے نکلی ہوئی آہ آنے والے وقت میں اسے ہلا کر رکھ دے گی اس نے دانستہ اسے کوئی بد دعا نہیں دی تھی وہ تو اسے وقت کی ستم ظریفی سے آگاہ کر رہی تھی جس وہ اور اس کا باپ گزرے تھے انوشے ہم بھی چلیں ٹور پر جب سر فراز نے بتایا کہ یونیورسٹی کی طرف سے مالم جبہ ٹور جا رہا ہے جو جانا چاہتے ہیں وہ گھر پوچھ کر بتا دیں اگلے ہفتے جانا ہے .دیکھوں گی میرا دل نہیں اس نےسویرا کی بات کاجواب دیا.کوئی انکار نہیں سننا میں نے. تم چل رہی ہو بس میں جلال انکل سے بات کروں گی تمہیں ساتھ جانے کے لئے.خود تو پہلے اپنے لئے اجازت لے لو وہ شرارت سے بولی مل جائے گی مجھے یقین ہے سویرا نے اس کی بات کے جواب میں اس سے کہا.کل سنڈے ہے آؤں گی کل تمہاری طرف پھر….
جی ضرور میں انوشے مسکرائی گھر نہیں جانا کیا چھٹی ہو گئی ہے میڈم آج ابو دیر سے آئیں گے انھیں کچھ کام ہے چلو میں چھوڑ دیتی ہوں انکل کو فون کر دو لیکن ایک شرط ہے مجھے کھانا کھلاؤ گی بہت بھوک لگی ہے ٹھیک ہے بھوکی. انوشے نے اسے گھر ڈراپ کرنے سے پہلےانا بی کو بتا دیا تھا تا کہ وہ پریشان نہ ہوں وہ انوشے کو گھر چھوڑ کر واپس آئی تو انا بی نے کھانا لگانے کے لیے کہا رشید چاچا کو تو اس نے بتایا کہ وہ کھا کر آئی ہے سویرا کی طرف سے.ایک کپ چائے پلا دیں وہ ٹی آپ کے ہاتھ کی .کیوں نہیں میری بیٹی. وہ چائے بنا کر لائیں اور انوشے کو ساتھ لگا کر پیار کیا
اسلام وعلیکم انکل سویرا تقریباً ایک بجے کے قریب انوشے کے طرف آئی چائے پیتے ہوئے اس نے جلال صاحب سے کہا انکل یونیورسٹی کا ٹور مالم جبہ جا رہا ہے ایک ہفتے کے لیے تو آپ انوشے کو اجازت دیں بیٹا مجھے کیا اعتراض ہے لیکن بابا مجھے نہیں جانا میرا دل نہیں چلی جاؤ بیٹا دوستوں کے ساتھ اچھا لگے گا.
………
آپ کو تو ویسے بھی برف دوڑنا بہت پسند ہے آ پکو اسکیٹنگ کا شوق پورا کرنے کا بھی موقع مل سکتا ہے اسکیٹنگ کا سنتے ہی اسکی آنکھوں میں چمک سی آ گئی سوچا جا سکتا ہے وہ خوشی سے بولی. کیا اسکیٹنگ سویرا نے حیرانگی سے پوچھا. جی بلکل ہماری بیٹی بہت اچھی اسکیٹنر ہے میرے ساتھ کچھ بزنس ٹورز پر گئی تھی تو اس نے اپنی بوریت دور کرنے کے لئے یہ طریقہ ڈھونڈا اور ویسے بھی اسےبچپن سےہی جب ہم لوگ مری تھے تب سےبرف پر بھاگنے اور برف سے کھیلنے کا بہت شوق تھا پھر ہم لوگ جب اسلام آباد شفٹ ہوئے تو اس کا یہ شوق اسکی پڑھائی کی وجہ سے بہت پیھے رہ گیا لیکن اسے جب بھی موقع ملا میں نے اسکا پورا ساتھ دیا اس کا شوق پورا کرنے میں ہے نا انو بیٹا وہ پیار سے بولے انوشے نے اثبات میں سر ہلایا
بڑی چھپی رستم ہو تم تو انوشے بی بی کبھی بتایا نہیں سویرا نے اسے طنزاً کہا کبھی اس موضوع پر بات ہی نہیں ہوئی جو بتاتی جناب وہ بولی.سویرا نے ختمی انداز میں کہا کہ اب یہ فیصلہ ہو گیا ک ہم جا رہے ہیں. تو آپ مجھ پر اپنا فیصلہ مسلط کر رہی ہیں وہ اپنی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں کو گھوماتے ہوئے بولی. ہماری اتنی مجال سویرا شرارت سے بولی جلال احمد دونوں کی نونک جھونک سے محظوظ ہو رہے تھے
انہیں اس بات کی بھی خوشی محسوس ہو رہی تھی کہ وہ لوگوں سے گھلنا ملنا سیکھ رہی تھی اور یہ سب سویرا کی اچھائی تھی جو انوشے کے سخت مزاج کو سمجھ کر اس کے اندر کی معصومیت کو خان گئی تھی ورنہ انوشے کہاں دوستیوں کی قائل تھی اچھا مجھے اب چلنا چاہیے سویرا نے اپنی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی پر دیکھتے ہوئے بولی. بیٹا میں آپ کو ڈراپ کروا دیتا ہوں جلال صاحب نے کہا. نہیں انکل میں نے بھائی کو کہا تھا فون کروں گی تو آ جائے گا اس نے حماد کو کال کی کہ مجھے لینے آ جاؤ….صبح یونیورسٹی میں ملاقات ہوتی ہے اور ہاں کوئی بہانہ نہیں چلے گا اس نے جاتے ہوئے انوشے کی طرف دیکھا اور کہا…
سویرا یونیورسٹی کے گیٹ پر انوشے کا کا بہت بےچینی سےانتظارکر ری تھی خیریت ہے بہت exited لگ رہی ہو اسے خوش دیکھ کر انوشے نے کہا.ہاں بات بات ہی کچھ ایسی ہے.مالم جبہ جانے کی اجازت مل گئی کیا. وہ تو فائنل ہے جانا انوشے نے اپنی بھنویں اوپر اٹھاتے ہوئے اس کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا.گھور کیوں رہی ہو پہلے کلاس لے لیں فری ہوتے ہیں تو پھر تسلی سے بتاتی ہوں سویرا کے کہنے پر انوشے نے شانے اچکائے.سویرا آج کلاس میں ذہنی طور پر موجود نہیں تھی وہ نوٹس لکھتے ہوئے آپ ہی آپ مسکرا رہی تھی. اکنامکس کی کلاس ختم ہوئی آج سر عنایت اللہ نہیں آئے تھے اس لیے آج میتھڈ کی کلاس نہیں تھی. وہ دونوں باہر لان میں پودوں کے پاس بیٹھ گئیں. میری پوپھو آئیں تھیں وہ کچھ دن پہلے کینڈا سے آئیں ہیں سویرا نے اسے بتایا تو تم اپنی پوپھو کے آنے پر اتنی خوش ہو انوشے نے کہا .میری پوپھو اک خاص مقصد کے لئے آئیں تھیں… انوشے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی. میرا کزن ہے فیصل ہم لوگ بچپن سے اک دوسرے کو پسند کرتے ہیں پھر وہ لوگ کینڈا چلے گئے اب وہ ادھر سیٹل ہیں وہ میرے لئے فیصل کا رشتہ لے کر آئیں تھیں میں بہت خوش ہوں اللہ نے میری محبت مجھے دے دی. محبت ؟؟؟ انوشے نے حیرت سے بولی. ایسے کیسے محبت ہو جاتی ہے کسی سے بھی
ہاں محبت ایسے ہی ہو جاتی ہے یہ سوچ سمجھ کر تھوڑی ہوتی ہے ہمیں جب پتہ چلتا ہے تب تک یہ ہماری رگوں میں خون کی طرح دوڑنے لگتی ہے اس ان انساں کا اختیار نہیں ہوتا.
محبتﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺍﺩﮮ ﮐﺎ ﻋﻤﻞ ﺩﺧﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ….
محبت تو ایک عطا ہے جو دلوں پر نازل ہوتی ہے یہ ایسا الہام ہ جو دلوں پر اتارا جاتا ہے…….اس کے اظہار کے لیے نہ تو شاعری کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی سنگیت کی۔۔۔۔۔۔یہ تو ایسی خوشبو ہے جو ہوا میں سفر کرتی ہے برف کی مظبوط چادر کو چیرتی ہوئی اپنی منزل پرپہنچ کر آہستہ آہستہ دستک دیتی رہتی ہے ۔۔۔۔۔کواڑ کھلتے چلے جاتے ہیں اور یہ انجانے طریقے سے دلوں میں ڈیرے ڈال لیتی ہے اور پھر اپنی روشنی سے اجالے پھیلاتی چلی جاتی ہے…..
جب روح ﺳﮯ تعلق قائم کر ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺩﻭ ﺭﻭﺣﯿﮟ ﯾﮏ ﺟﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻧﮧ ﻋﻤﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺫﺍﺕ ﭘﺎﺕ … ﺷﮑﻞ ﻭ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ …..
ﯾﮧ ﺑﮯ ﻟﻮﺙ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻭﺍﺣﺪ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮨﮯ.محبت ہماری زندگی بلکل بدل دیتی ہے.کم از کم میں انوشے جلال تو کسی کی خاطر خود کو کبھی نہیں بدلے گی
جب تمہیں کسی سے محبت ہو گی تو پوچھوں گی.جب محبت نے تمہارے دل پر دستک دی تو دیکھنا سارے بند توڑکر اپنا راستہ بناتی ہے بدعا دے رہی ہو انوشے نے اس کی بات کے جواب میں کہا. سویرا نے اسے گلے لگا لیا پگلی تم تو میری بہت عزیز دوست ہو میں کیوں دینے لگی تمہیں بدعا. محبت بدعا نہیں یہ عطا ہے.چلو اٹھو بی بی محبت نامہ بند کرو کلاس ہے اگلی.وہ کلاس لینے چلی گئیں
بابا میں جانا چاہتی ہوں مالم جبہ اس نے رات کو کھانا کھاتے ہوئے اس نے باپ سے کہا. ٹھیک ہے بیٹا آپ چلی جاؤ انھوں نے انوشے پر کبھی بے جا پابندیاں نہیں لگائیں وہ ضدی ضرور تھی لیکن انہیں اللہ پر اور ا س کے بعد اپنی پرورش پر بھروسہ تھا کہ وہ ان کا سر نہیں جھکائے گی جب بھی آنا بی انہیں کہتیں کہ وہ نماز اور قرآن پاک نہیں پڑھتی وہ تب بھی پریشان نہیں ہوتے کیونکہ وہ خود نماز اور قرآن پابندی سے پڑھنے کے عادی تھے اور وہ اس کے لیے اللہ سے ہمیشہ دین پر چلنے کی دعا کرتے اور انہیں اپنی دعاؤں کی قبولیت پر پورا یقین تھا
وہ اللہ سے مانگ کر کبھی مایوس نہیں ہوئے تھے
وہ مالم جبہ جانے کی تیاری کرنے لگی .پاکستان کو اللہ تعالٰی نے قدرتی حسن سے مالا مال کرتے وقت بڑی فیاضی سے کام لیا ہے اپنے بے پناہ قدرتی حسن کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے جنت کی حیثیت رکھتا ہے خاص طور پر پاکستان کے شمالی علاقوں کا اپنی خوبصورتی کے لحاظ کوئی جواب نہیں لیکن جس جگہ نے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنے ظرف راغب کیا ہے وہ سیاحتی مقام مالم جبہ ہے یہ سوات کی وادی میں واقع ہے اور سطح سمندر سے آٹھ پڑتا سات سو فٹ بلندی پر واقع ہے یہ دنیا کے بلند ترین مقامات میں سے ایک ہے یہ پاکستان میں واحد سیاحتی اور تفریحی مقام ہے جہاں آٹھ سو میٹر برف کی چوٹی سے پھسلا جا سکتا ہے
آنا بی اور بابا کی ہدایت پر اس نے گرم کپڑے اور ضرورت کا سامان رکھا انوشے کھانے پینے کی اشیاء رکھنا مت بھولنا آنا ٹی اسے اس کی بھوک برداشت نہ ہونے والی عادت یاد کرواتے ہوئے بولیں وہ آنا بی کی طرف معصوم بچوں کی طرح منہ بسورتے ہوئے دیکھتے لگی جلال صاحب سے وہ کبھی اتنے دن دور نہیں رہی تھی اس لئے وہ تھوڑے اداس تھے وہ باپ کے گلے لگی تو انھوں نے اسکی کی پیشانی پر بوسہ دیا. انوشے بیٹا میں نے سنا ہے ایسی جگہوں پر جن بھوت بھی ہوتے ہیں جو انسانوں پر عاشق ہو جاتے ہیں اور میری بیٹی تو ہے ہی اتنی پیاری انا بی کی بات سن کر وہ کھلکھلا کر ہنسی آپ کس دنیا میں رہتی ہیں ایسا کچھ نہیں ہوتا یہ سب پرانی باتیں ہیں حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا.انا ٹی ے اسے ڈھیر ساری دعائیں دییں جلال صاحب اسے یونیورسٹی چھوڑنے گئے کیونکہ کہ سب نے یہی طے کیا تھا کہ سب ادھر اکٹھے ہوں گے جب وہ یونیورسٹی پہنچی تو سب آچکے تھے اور اس کا انتظار ہو چکا تھا اسکا بس کا یہ پہلا سفر تھا اس سے پہلے اس نے بس کا سفر نہیں کیا تھا وہ بس میں سوار ہوئی اور تیسری سیٹ پر کھڑکی کی جانب سویرا کے ساتھ بیٹھ گئی .انعشے نے بلیک جینز اور گھٹنوں تک آتا ہوا ملٹی کڑھائی والا بلیک کرتا پہنا ہوا تھا اور پاؤں میں معمول کے مطابق سفید جاگرز…….
آ گئی آپ جناب کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی سویرا نے اس سے کہا کھانے کے لیے کیا لائی ہو میں تمہارا پسندیدہ سبزیوں والا پلاؤ اور چکن کباب لائی ہوں میں کچھ پکا کر نہیں لائی ہاں ڈرائے فروٹ اورٹک شاپ کی چیزیں لائی ہوں باتیں کرتے ہوئے اچانک اسے خیال آیا کہ کون کون جا رہا ہے اس کے ڈیپارٹمنٹ کے کچھ لڑکے, لڑکیاں اور پانچ اساتذہ تھے کل بیس لوگ تھے صبح آٹھ بجے سفر شروع ہوا تھوڑی دیر بعد اس نے سویرا سے کہا کہ مجھے نیند آ رہی ہے اچھا سو جاؤ کافی لمبا سفر ہے اسنے آنکھیں بند کر کے سویرا کے کندھے پر رکھ دیا اس کے سیاہ بال اڑ کر اس کے چہرے پر آ رہے تھے سویرا نے پیار سے اس کے چہرے کو دیکھا.اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی. ۔۔۔جاری

SHARE

LEAVE A REPLY