نفیس ہمدانی مرحوم کی یاد میں چند اشک۔کاظم کاظمی

0
622

برادر بزرگوار مرحوم نفیس ہمدانی کی جدائی۔

زیر لب مسکراہٹوں کے خزانے وہ سب لے گیا ۔
لے گیا وہ امیدوں کے چراغوں کی لو سے بنے ھیولے ۔
تھرتھراتی سی اک تازہ وارفتگی سے مزین وہ تشویق آمیز رائے زنی۔
کوئی دیوانگی جیسے اس کو میرے شعروں میں چھو کے گزر جاتی ہو۔
نوخیز الھڑ جوانی میں اٹھتی امنگوں کے جوبن شراروں میں ہو ۔
پر نفاست کی تھدید و ترغیب سے اس کو کرکے نفیس ۔
سارے ہیجان آور صلاح مشورے
ادبی طومار گردوں کی ناکام چالوں پہ اک فاتحانہ ہنسی کی وہ انمول ساعتیں۔
لے گیا ۔۔۔۔۔
بے تکلف مراسم پہ اظہار کوئی بھی اس کا نہ تھا واجبی
ہر جگہ زیرکی دلبری جانفزاں تھپتھپاتی ہنسی ۔
لاکے کہتا چلو کاظمی تم سا کوئی نہیں ۔
اور اگے بڑھو لکھتے جاو تسلسل سے تازہ نثر عہد آفریں ۔
شاعری سے میری اس کو کیا عشق تھا ۔ احتراما وہ کہہ دیتا وااااہ آغہ جی ۔
اس کی ساری وہ یادیں جو تھیں مشترک ۔ اثاثہ وہ میرا بھی تھیں ہمعصر ۔
پر وہ سب لے گیا ۔ ہائے سب لے گیا ۔
دعائے مغفرت ۔

SHARE

LEAVE A REPLY