رسول مجتبی کہیے، محمد مصطفی کہیے ۔ نعت گو ماہر القادری

0
2691

ماہر القادری کا اصل نام منظور حسین ہےـ آپ 30 جولائی 1906ء کو کسہیہ کلاں(انڈیا)میں پیدا ہوئے۔مدحیہ شاعری میں سب سے زیادہ شہرت انکے لکھے ہوئے سلام کو حاصل ہوئیجو منظرِ عام پر آتے ہی کلاسیک کا حصہ بن گیا ـ

انہوں نے عملی زندگی کا آغاز حیدر آباد دکن سے کیا، پھر بجنور چلے گئے۔ جہاں مدینہ بجنور اور غنچہ کے مدیر رہے۔ زندگی کا بڑا حصہ حیدرآباد دکن، دہلی، بمبئی میں گزرا اور پھر مستقل قیام کراچی میں رہا۔ چند ماہ ملتان میں بھی گزارے۔ اس کے علاوہ سیر و سیاحت کا بارہا اتفاق ہوا۔ 1928ء میں ریاست حیدرآباد کے مختلف محکموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ قیام حیدرآباد کے دوران میں جب نواب بہادر یار جنگ کی تقاریر کا طوطی بولتا تھا، نواب صاحب نے قائد اعظم سے ان کا تعارف یوں کرایا میری تقریروں اور ان (ماہرالقادری) کی نظموں نے مسلمانانِ دکن میں بیداری پیدا کی ہے۔

تصنیفات

1:ذکر جمیل (نعتیہ مجموعہ) 2:ظہورِ قدسی (نعتیہ مجموعہ) 3:فردوس 4:نغماتِ ماہر 5:جزباتِ ماہر 6:محسوساتِ ماہر

ذکرِ جمیل کی اشاعت نے ماہر القادری کو نعتیہ شاعر کے طور پر متعارف کروایا ـ

نعتیہ شاعری

رسول مجتبی کہیے، محمد مصطفی کہیے

سلام اس پرکے جس نے بے کسوں کی دستگیری کی

کہاں میں کہاں مدح ِ ذات ِ گرامی

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی

سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

سلام اس پرکہ اسرارِ محبت جس نے سکھلائے

سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے

سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں

سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں

سلام اس پر کہ دشمن کو حیاتِ جاوداں دے دی

سلام اس پر ابو سفیان کو جس نے اماں دے دی

سلام اس پر کہ جس کا ذکر ہے سارے صحائف میں

سلام اس پ ہوا مجروح جو بازارِ طائف میں

سلام اس پر وطن کے لوگ جس کو تنگ کرتے تھے

سلام اس پر کہ گھر والے بھی جس سے جنگ کرتے تھے

سلام اس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا

سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا

سلام اس پر جو سچائی کی خاطر دکھ اٹھاتا تھا

سلام اس پر جو بھوکا رہ کے اوروں کو کھلاتا تھا

سلام اس پر جو امت کے لیے راتوں کو روتا تھا

سلام اس پر جو فرشِ خاک پر جاڑے میں سوتا تھا

سلام اس پر جو دنیا کے لئے رحمت ہی رحمت ہے

سلام اس پر کہ جس کی ذات فخرِ آدمیّت ہے

سلام اس پر کہ جس نے جھولیاں بھردیں فقیروں کی

سلام اس پر کہ مشکیں کھول دیں جس نے اسیروں کی

سلام اس پر کہ جس کی چاند تاروں نے گواہ دی

سلام اس پر کہ جس کی سنگ پاروں نے گواہی دی

سلام اس پر کہ جس نے زندگی کا راز سمجھایا

سلام اس پر کہ جو خود بدر کے میدان میں آیا

سلام اس پر کہ جس کا نام لے کر اس کے شیدائی

الٹ دیتے ہیں تختِ قیصریت اوجِ دارائی

سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں

بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سرفروشی کے فسانے میں

سلام اس ذات پر کہ جس کے یہ پریشاں حال دیوانے

سنا سکتے ہیں اب بھی خالد و حیدر کے افسانے

درود اس پر کہ جس کی بزم میں قسمت نہیں سوتی

درود اس پر کہ جس کے ذکر سے سیری نہیں ہوتی

درود اس پر کہ جس کے تذکرے ہیں پاک بازوں میں

درود اس پر کہ جس کا نام لیتے ہیں نمازوں میں

درود اس پر، جسے شمعِ شبستان ازل کہیے

درود اس ذات پر فخرِ بنی آدم جسے کہیے

SHARE

LEAVE A REPLY