٭23 ستمبر 2004ء کو تابش دہلوی کراچی میں وفات پاگئے

0
334

وقار زیدی ۔ کراچی
بھنبھور میں پاکستان کی قدیم ترین مسجد کے آثار کی برآمدگی مکمل ہوئی
٭23 ستمبر 1962ء کو بھمبھور میں پاکستان کی پہلی مسجد کے آثار کی برآمدگی مکمل ہوئی۔ 17 جون 1960ء کو جب ماہرین آثار قدیمہ کی زیر نگرانی‘ کراچی سے 37 میل دور بھنبھور کے مقام پر آثار قدیمہ کی کھدائی کا کام جاری تھا‘ ایک مسجد کے آثار برآمد ہوئے۔ اس مسجد کے ساتھ ہی کچھ کتبے بھی برآمد ہوئے جن پر خط کوفی میں تحریر کی گئی ایک عبارت کے مطابق یہ مسجد 109ھ (مطابق 727 ء) میں تعمیر ہوئی تھی۔
اس تحریر کی برآمدگی کے بعد ماہرین آثار قدیمہ اور ماہرین مذہبیات اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ مسجد پاکستان میں تعمیر ہونے والی‘ اولین مسجد تھی اور یہ مسجد محمد بن قاسم کے ساتھیوں نے تعمیر کروائی تھی۔
بھنبھور کے مقام پر برآمد ہونے والی پاکستان کی اس پہلی مسجد کا طول 122 فٹ اور عرض 120 فٹ تھا۔ اس کے چاروں طرف چونے کے پتھر کی اینٹوں کی ایک ٹھوس دیوار تھی جس کی موٹائی 3 تا 4 فٹ تھی۔ مسجد کے صحن کا طول 75 فٹ اور عرض 58 فٹ تھا۔ مغرب کی جانب ایک وسیع دالان تھا جس کی چھت لکڑی کے 33 ستونوں پر قائم تھی۔ اس مسجد کا نقشہ کوفہ اور واسط کی مساجد سے مشابہ تھا اور انہی کا تسلسل لگتا تھا۔
——————————————————————————————

تابش دہلوی کی وفات
٭ اردو کے ممتاز شاعر تابش دہلوی کا اصل نام سید مسعود الحسن تھا اور وہ 9 نومبر 1911ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔
وہ ایک طویل عرصے تک ریڈیو پاکستان سے بطور نیوز کاسٹر اور پروڈیوسر وابستہ رہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں نیم روز، چراغ صحرا، غبار انجم، گوہر انجم، تقدیس، ماہ شکستہ اور دھوپ چھائوں اور نثری تصانیف میں دید باز دید شامل ہیں۔
٭23 ستمبر 2004ء کو تابش دہلوی کراچی میں وفات پاگئے اور سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
تو ہی رہتا ہے دیر تک موجود
بزم میں تو جہاں سے اٹھتا ہے
——————————————————————————————

محسن احسان کی وفات
٭23 ستمبر 2010ء کو اردو کے ممتاز شاعر محسن احسان برطانیہ کے شہر لندن میں وفات پاگئے۔
محسن احسان کا اصل نام احسان الٰہی تھا اور وہ 15 اکتوبر 1932ء کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا تھا اور 35 سال تک اسلامیہ کالج، پشاور میں انگریزی کی تدریس سے وابستہ رہے تھے۔
محسن احسان کی نظموں اور غزلوں کے مجموعے ناتمام، ناگزیر، ناشنیدہ، نارسیدہ اور سخن سخن مہتاب، نعتیہ شاعری کا مجموعہ اجمل و اکمل، قومی نظموں کا مجموعہ مٹی کی مہکار اور بچوں کی شاعری کا مجموعہ پھول پھول چہرے کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے خوشحال خان خٹک اور رحمن بابا کی شاعری کو بھی اردو میں منتقل کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 1999ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
محسن احسان کی تاریخ وفات ’’محسن احسان شاعر بے مثل‘‘ سے نکلتی ہے۔ ان اعداد کا مجموعہ 1431 ہوتا ہے جو ان کا ہجری سن وفات ہے۔ وہ پشاور میں پشاور یونیورسٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کے دو اشعار ملاحظہ ہوں:
ایک اک کر کے ستاروں کی طرح ڈوب گئے
ہائے کیا لوگ مرے حلقہ احباب میں تھے
……٭٭٭……
امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر
سمندروں کے سفر پر کیا روانہ ہمیں

SHARE

LEAVE A REPLY