وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے احتساب عدالت میں بتایا ہے کہ ویڈیو لیک کیس کے ملزم فیصل شاہین نے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو بنانے کا اعتراف کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ ویڈیو میں سابق جج نے اقرار کیا تھا کہ انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو دباؤ میں آکر سزا سنائی تھی۔

ایف آئی اے نے ملزم فیصل شاہین اور ویڈیو لیک اسکینڈل کے مرکزی ملزم ناصر بٹ کے بھتیجے حمزہ بٹ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا۔

سماعت میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیصل شاہین کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جبکہ حمزہ بٹ کے جسمانی ریمانڈ میں 3 روز کی تو سیع کردی۔

ڈائریکٹر جنرل ایف آئی نے ویڈیو لیک کیس کی تفتیش سائبر کرائم سرکل سے ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ منتقل کردی تھی جس کے بعد دونوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے نے 5 اکتوبر کو جج ارشد ملک کی ویڈیو بنانے والے ناصر بٹ کے بھتیجے حمزہ بٹ اور قریبی عزیز شعیب کوگرفتار کرکے مقامی عدالت میں پیش کرکے ان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔

قبل ازیں 7 ستمبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے ویڈیو لیک کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے دوران تفتیش کوئی ثبوت نہ ملنے کی رپورٹ کے بعد 3 ملزمان ناصر جنجوعہ، خرم یوسف اور مہر غلام جیلانی کو رہا کردیا تھا۔

عدالت کی جانب سے تینوں افراد کی رہائی پر سابق جج ارشد ملک نے 11 ستمبر کو ایف آئی اے کے چاروں عہدیداروں (ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر کلیم اللہ تارڑ اور فاروق لطیف اور سب انسپکٹر فضل محبوب) کے خلاف ناقص تفتیش کی شکایت دائر کی تھی۔

بعد ازاں ایف آئی اے حکام نے سائبر کرائم عدالت کی 23 ستمبر کو ہونے والی سماعت میں بتایا تھا کہ ایف آئی اے ڈائریکٹر جنرل نے نہ صرف انکوائری سائبر کرائم ونگ سے انسداد دہشت گردی ونگ کے سپرد کردی بلکہ چاروں عہدیداروں کے خلاف نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی کارروائی کا بھی آغاز کردیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY