پارلیمنٹ ہاؤس میں جیو نیوز سےگفتگو میں وفاقی وزیرپارلیمانی امورطارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے 40 سے زائد ارکان استعفے نہیں دیں گے، پہلے 36 افرادکا کہا تھا اب میں 40 کا کہہ رہا ہوں، یہ جتنے احتجاج کی کالز دیں، ان کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں، لوگوں نے پی ٹی آئی کا اصلی چہرہ پہچان لیا ہے، فتنے اور فساد کی سیاست کا لوگ کب تک ساتھ دے سکتے ہیں، اسلام آباد سے کنٹینر ہٹانےکا کام شروع ہے، بہت جلد آپ اسلام آباد کی تمام شاہراہوں کوکلیئرپائیں گے۔

میڈیا سےگفتگو میں طارق فضل چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی، گورنر راج کے نفاذ کو اپوزیشن عدالت میں چیلنج کرسکتی ہے، اپوزیشن اپنی آل پارٹیز کانفرنس میں ہمیں بھی دعوت دے، ہم دہشت گردی اور شہدا کے حوالے سے پورا ڈیٹا ان کے سامنے رکھیں گے۔

خیبرپختونخوا میں مقاصد کے حصول تک ایمرجنسی برقرار رہےگی، طارق فضل چوہدری
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کی توثیق پارلیمان کرےگی، ایمرجنسی کا نفاذ تحریک انصاف کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہوا، ہم نے دہشت گردی کے خلاف تعاون مانگا، یہ کھیل تماشے تفریح کی سیاست کرتے رہے ہیں، ان کے عدم تعاون کی وجہ سے یہ اقدام کرنا پڑا، مقاصد کے حصول تک ایمرجنسی برقرار رہےگی، مذاکرات کے دروازے بند نہیں کریں گے، ہمارا مقصد دائمی امن ہے۔

کسی جگہ کوئی احتجاج نہیں ہوا، لوگ خوش ہیں: طارق فضل چوہدری
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان سےلانگ مارچ ملتوی کرنےکی درخواست نہیں کی تھی، ہم نے ان سے صرف دہشت گردی کے خلاف تعاون مانگا تھا، دہشت گردی سے متاثرہ علاقےکلیئر کرکے سول انتظامیہ کے حوالےکریں گے، عوام نےایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو سراہا ہے، کسی جگہ کوئی احتجاج نہیں ہوا، لوگ خوش ہیں کیونکہ 14سال میں صوبے میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY