ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر21

0
2412

مجھے لگا جیسے ۔۔۔
میر ا درد ۔۔ میرا کینسر صرف پانچ فیصد رہ گیا ہو !
اور میرے دکھ اور ملال کی دوا بھی راہ میں ہو ۔۔ بس ایک زرا انتظار !

یکم جون کی صبح ہو چکی تھی ۔۔ پیر کے دن کی یہ صبح بہت بہت نئی نئی سی لگ رہی تھی ۔۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔بالکل ایسے جیسے کسی نئے سفر کا پہلا دن ، پہلا لمحہ ہو ۔۔ اسکول ، کالج ، یونیورسٹی کے گیٹ کو پھلانگتے ہوئے پہلا قدم اور لمحہ کب بھولتا ہے ۔۔ ہاں کمرہ امتحان میں داخل ہونے والا پہلا لمحہ ۔۔۔ اور جب پیپر تقسیم ہو جاتے تھے ۔۔ اور ڈیسک پر الٹے دھرے رہتے تھے ۔۔ پھر ٹیچر کہتی تھی اب آپ پرچہ دیکھ سکتے ہیں ۔۔ امتحان شروع ہو جاتا تھا ۔۔ یونہی میرا امتحانی پرچہ لیبارٹری کے ڈیسک پر اوندھے منہ پڑا تھا ۔۔ بس ٹیچر کی صدا نہ آئی تھی کہ کھول کر دیکھوں کہ امتحان کیسا ہوگا ۔۔۔ اور امتحان سے پہلے کب بھوک لگتی ہے ۔۔ لیکن میں نے ناشتہ بالکل ایسے ہی کیا جیسے امی جی کی خوشی کی خاطر ناشتہ کر کے امتحان دینے جایا کرتی تھی ۔

میں گاڑی میں بیٹھ چکی تھی ۔۔ بچوں کے باری باری فون آ چکے تھے ۔۔ ہر بار تاکید ہوتی ایک لمحہ لمحہ انہیں بتایا جائے ورنہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گھر آ جائیں گے جو میں قطعا نہیں چاہتی تھی ۔۔ زندگی کو مرنا نہیں چاہیئے ۔۔ روانی میں ادا ہے ۔۔ پیار کی سانسیں آسانی دینے اور لینے میں بند ہیں ۔ میں نہیں چاہتی تھی وہ کینسر کو اتنی اہمیت دیں کہ خدا نہ کرے اگر انہیں اپنی زندگیوں میں ایسا کوئی مسلہ درپیش ہو تو ان کے پاس بیماری سے سنبھلنے کی کوئی مثال نہ ہو ۔۔۔ میرے پیار کاتقاضا تھا ۔۔ میری زمہ داری تھی کہ انہیں بتاؤں کہ بیماری کو بھی صحت ہی کی طرح عزت دینی ہوتی ہے ۔ وہ بھی اللہ پاک کی نعمتوں میں سے ایک ہوتی ہے ۔۔ ہمارے لئے پیار اور دعاؤں کے تحفے لے کر آتی ہے ۔۔۔ اور ہمیں اس کا استقبال بھی کھلے دل سے کرنا چاہیئے ۔

رستے سے مور بینک شاپنگ ویلج کی ایکسرے کلینک سے رپورٹس لیں اور ساتھ ہی ڈاکٹرمدحت نے کاونٹر پر میری بلڈ رپورٹس اور ٹیومر مارکرز کی رپورٹس بھی پیلے لفافے میں بند کر کے رکھ دیں تھیں اور خود مریض دیکھ رہی تھی۔ میں نے ساری رپورٹس اٹھائیں اور گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی ۔۔ آفتاب کا خیال تھا کہ میں جلدی سے پڑھونگی ۔۔ لیکن میں نے رپورٹس پچھلی سیٹس پر رکھ دیں ۔۔۔ اب کیا فرق پڑتا تھا ۔۔ جو بھی ہے ۔۔ ٹھیک ہی ہو گا ۔۔ میں مسکرا رہی تھی ۔۔ باہر سرد ہوائیں چل رہی تھیں اور مجھے ویسے بھی سردی سب سے زیادہ لگتی ہے ۔۔ آفتاب نے ہیٹر کو ایک درجہ بڑھا دیا ۔ میں نے ڈاکٹر برلنگ سے ملنے کے لئے نیب مین پر ان کا پتہ فیڈ کر دیا ۔۔ گاڑی کی ہدایات جاری تھیں اور ہم دونوں کی نظریں سڑک پر تھیں ۔

سنیئے ڈاکٹر جو بھی کہے آپ نے پریشان نہیں ہونا ۔۔ کچھ سمجھ نہ آئے تو پوچھ لیجئے گا ۔۔ لیکن مجھے سمجھ میں آ جائے گا ۔۔ میں آپ کو بعد میں سمجھا دونگی ۔ آفتاب ہنس پڑے کہ وہ ماسکو سے میٹرلجیکل انجنیئر پڑھے ہوئے تھے ، لیکن خود کو مجھ سے بہتر ڈاکٹر سمجھتے تھے ۔ اس کی وجہ بھی تھی کہ میں جب پڑھائی اور نوکری کے سلسلے میں ہسپتال جایا کرتی تو بچوں کے پاس آفتاب ہی ہوا کرتے تھے ۔ اگر کسی کو کچھ ہوتا تو وہ مجھ سے پوچھتے اور میں انہیں بتاتی کہ اب یہ دوا دیں اور یہ کریں ۔۔ بچے سمجھتے پاپا ہی انہیں دوا دے رہے ہیں ۔۔۔ مزے کی بات یہ تھی کہ تینوں بچے ابھی تک آفتاب کو ڈاکٹر ہی سمجھتے تھے ۔۔ انہیں کوئی مسلہ ہوتا سب سے پہلے ان ہی سے پوچھتے ۔۔ اور میں جب کہتی کہ ڈاکٹر میں ہوں تو کہتے پاپا کو زیادہ پتہ ہے ۔۔۔ مجھے اپنے بچوں کا اپنے پاپا پر یہ مان بہت اچھا لگتا ہے ۔۔ میں نے خود کو کبھی ان کے درمیان نہیں آنے دیا ۔۔ میرے گھر کی یہی تو چار دیواری تھی اور میں ان کے درمیان محفوظ اور مطمئن ۔

اب ہم پارکنگ میں تھے ۔۔۔ گاڑی کھڑی کر کے ماسک پہنا ، سینی ٹائیزر ہاتھوں پر لگایا ، کوویڈ کے ضروری سوالوں کی جوابدہی کے بعد ویسٹ میڈ ہوسپٹل میں داخل ہو گئے ۔۔

ویسٹ میڈ ہوسپٹل                                         انتظار گاہ۔ویٹنگ روم           

آفتاب کے ہاتھ میں میری ساری رپورٹس تھیں اور ہم کمرہ امتحان میں داخل ہو چکے تھے ۔۔ امتحانی پرچہ الٹنے میں تھوڑا سا وقت رہ گیا تھا ۔۔ آفتاب بچوں کو بتا رہے تھے کہ ہم اب ڈاکٹر مائیکل برلنگ کے انتظار میں ہیں ۔۔ ہاں تمہاری ممی بہت بہتر ہیں ۔۔ نہیں بالکل نروس نہیں ہے ۔۔۔ میں ہوں نابیٹا اس کے ساتھ ۔۔ ہم باہر نکلتے ہی تم تینوں کو سب کچھ بتایئں گے ۔۔ میں جان سکتی تھی فون پر تینوں باری باری اپنے پاپا سے مخاطب تھے ۔۔۔ میرے پیارے بچے ۔۔ مجھے خوشی تھی میرے بچے اپنے پاپا سے دوستوں سے جیسے قریب تھے ۔۔ ایک وقت تھا منیب نجیب اور آفتاب سگریٹ بھی ایک ساتھ پیا کرتے تھے ۔۔ جو بڑی منت سماجت کے بعد تینوں نے چھو ڑدی تھی ۔۔ اب بھی کچھ کرنا ہو ۔۔ کہیں جاناہو ۔۔ گھر خریدناہو کہ گاڑی ۔۔سب پاپا کے ساتھ مشورے ہوتے اور مجھے صرف برکت کے طور لیا جاتا کہ دعا کر دیں ۔

میں بہت محبت سے سب کچھ سن رہی تھی ۔۔۔ انتظار گاہ میں بیٹھے ہوئے محبوب بھائی کی بات بہت یاد آئی وہ شکرانے کے طور پر کہا کرتے اور اللہ مجھے دے بھی کیا ۔۔۔ مجھے بھی اس وقت یہی لگا مجھے اللہ پاک اس سے زیادہ اور کیا دے جو میں اس کی رضا پر راضی نہ رہوں ۔۔

مجھے مولائے متقیان امام علی علیہ السلام کی دعائے کمیل کا ایک اقتباس یاد آگیا جو میں نے اپنی کتاب “ دعاؤں کے چراغ “ کے لئے منظوم کیا تھا ۔

اے میرے پاک و پاکیزہ رب
میں ڈری ہوئی
جھکی ہوئی
گری ہوئی
تجھ سے فریاد کرتی ہوں
میری خطاؤں سے
چشم پوشی فرما
مجھ پر رحم فرما
مجھے توفیق دے
میں راضی رہوں اس پر
جو تونے میرے نام کیا
مجھے قناعت عطا کر
مجھے ہرحال نرم خو بنا

میرا رواں رواں مُجسم دعا تھا ۔۔
ڈاکٹر مائیکل برلنگ نے آہستگی سے مسکراتے ہوئے پکارا “ ڈاکٹر نسیم “ ۔۔ اور ۔۔۔۔۔

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY