امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے صدر حسن روحانی کی جانب سے مستعفی ہونے کی دھمکی پر فوج نے یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا اعتراف کیا ورنہ وہ اس معاملے کو چھپانے کی کوشش کررہے تھے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 7 جنوری کو ایران نے امریکی فورسز پر بیلسٹک میزائلز داغے تھے، جس پر ایران، امریکا کی جانب سے جوابی حملے کے لیے ہائی الرٹ پر تھا اور ایرانی فوج کی جانب سے مزید میزائل داغے جانے کی دھمکی دی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے افسر نے تہران کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک نامعلوم طیارہ دیکھا اور ان کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے چند سیکنڈز تھے۔
عہدیدار نے طیارے کو مار گرانے کی اجازت کے لیے کمانڈ سینٹر تک رسائی کی کوشش کی لیکن رابطہ نہیں ہوسکا لہٰذا انہوں نے ایک اینٹی ایئر کرافٹ میزائل داغا اور پھر دوسرا جس کے نتیجے میں یوکرینی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا اور اس میں سوار 176 افراد ہلاک ہوگئے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ طیارہ مار گرانے کے چند منٹ بعد پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز کو احساس ہوگیا تھا کہ انہوں نے کیا کردیا اور اس وقت انہوں نے واقعے کو چھپانے کی کوششیں شروع کردیں۔
اس میں مزید بتایا گیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے ایران کے صدر حسن روحانی کو بھی حقیقت بتانے سے انکار کردیا تھا جن کی حکومت عوامی سطح پر طیارہ مار گرانے کے بیانات کو مسترد کررہی تھی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق جب پاسداران انقلاب نے حسن روحانی کو یوکرینی طیارہ گرانے سے آگاہ کیا تو ایرانی صدر نے الٹی میٹم دیا کہ ذمہ داری قبول کریں یا وہ استعفیٰ دے دیں گے۔
یوکرینی طیارہ مار گرائے جانے کے واقعے کے 72 گھنٹوں کے اندر ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے مداخلت کی اور حکومت کو سنگین غلطی سے آگاہ کرنے کا حکم دیا۔
رپورٹ کے مطابق 7 جنوری کو ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی جوابی کارروائی کی تیاری کررہا تھا لیکن حکومت نے تہران ایئرپورٹ سے سویلین کمرشل فلائٹس کو لینڈ کرنے اور اڑان بھرنے کی اجازت دے رکھی تھی
پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے جنرل امیر علی حاجی زادہ نے کہا تھا کہ ان کے یونٹس نے تہران میں موجود حکام کا ایران کی فضائی حدود بند کرنے اور تمام پروازوں کو گراؤنڈ کرنے کا کہا تھا۔
تاہم ایرانی حکام کو خدشہ تھا کہ ایسا کرنے سے افراتفری پھیل جائے گی کہ امریکا کے ساتھ جنگ قریب تھی۔
8 جنوری کو تحقیقاتی کمیٹی نے کہا تھا کہ انسانی غلطی کہ وجہ سے طیارہ مار گرایا تھا، اس دوران آیت اللہ خامنہ ای کو آگاہ کیا گیا تھا لیکن صدر دیگر منتخب حکام اور عوام کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے بتایا کہ 9 جنوری کو حسن روحانی نے ملٹری کمانڈرز کو کئی مرتبہ فون کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا، ان کی حکومت کے اراکین نے فوج سے رابطے کی کوشش کی اور انہیں بتایا گیا کہ طیارہ مار گرانے کے الزامات جھوٹے ہیں، ایران کی سول ایوی ایشن ایجنسی کو بھی یہی بتایا گیا تھا۔
10 جنوری کی صبح حکومتی ترجمان علی ربیعی نے ایک بیان جاری کیا اور کہا کہ ایران کی جانب سے طیارہ مار گرانے کا الزام ایک بڑا جھوٹ ہے۔
اسی روز کئی گھنٹوں بعد ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے ایک نجی اجلاس طلب کیا اور حسن روحانی کو سچ بتایا۔
ایرانی صدر کے قریبی عہدیداران کے مطابق حسن روحانی برہم تھے اور انہوں نے فوری طور پر یہ المناک غلطی کے اعتراف اور نتائج قبول کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
تاہم فوجی حکام نے انکار کیا اور کہا کہ اس سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہوگا لیکن حسن روحانی نے استعفیٰ دینے کی دھمکی دی تھی۔
جس کے بعد 11 جنوری کو صبح 7 بجے ایران کی فوج نے بیان جاری کیا تھا کہ ایران نے ’انسانی غلطی‘ کی وجہ سے یوکرین کا طیارہ مار گرایا تھا۔












