ایک لیڈر کا کام آگ بجھانا ہوتا ہے، نہ کہ اس پر تیل ڈالنا۔ ارحم علیم

0
683

ٹرمپ کا ایران کے بارے میں حالیہ بیان پڑھ کر پہلا احساس یہی ہوتا ہے کہ یہ کسی سنجیدہ عالمی رہنما کی زبان نہیں ہو سکتی۔ ایک ایسا شخص جو دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی قیادت کر رہا ہو، اگر وہ گالیوں اور دھمکیوں پر اتر آئے تو یہ صرف اس کی شخصیت نہیں بلکہ پوری عالمی سیاست کے معیار پر سوال اٹھا دیتا ہے۔ “پل اور پاور پلانٹس تباہ کر دیں گے” اور “ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے” جیسے جملے محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک خطرناک ذہنیت کی جھلک ہیں جس میں انسان کی جان اور وقار کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔

بات صرف ایران کی نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب طاقتور لوگ اس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں تو وہ دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ قانون اور اخلاقیات صرف کمزوروں کے لیے ہیں۔ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دینا کھلی طرح عام لوگوں کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔ جنگیں فوجوں کے درمیان ہوتی ہیں، مگر ایسے بیانات صاف بتاتے ہیں کہ نقصان عام انسان کو اٹھانا پڑے گا-

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسی پہلو پر سب سے زیادہ زور دیا ہے اور ان بیانات کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی زبان بڑے پیمانے پر تباہی کو جنم دے سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے اسے بیمار کن قرار دیا اور یہ کوئی ہلکا لفظ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے وہ خوف ہے کہ کہیں الفاظ حقیقت نہ بن جائیں۔ ماہرین نے بھی واضح کیا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بات بین الاقوامی قانون کی سیدھی خلاف ورزی ہے اور اسے جنگی جرم سمجھا جا سکتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ قیادت ہے؟ ایک لیڈر کا کام آگ بجھانا ہوتا ہے، نہ کہ اس پر تیل ڈالنا۔ دنیا پہلے ہی کشیدگی، جنگوں اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ ایسے میں اگر کوئی رہنما اشتعال انگیزی کو اپنی سیاست بنا لے تو یہ صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ انداز نیا نہیں، لیکن اس بار اگر اسے جواب نہ دیا گیا اور اگر ہم نے اس طرزِ سیاست کو معمول سمجھ لیا تو کل شاید بہت دیر ہو چکی ہو گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY