چلیں بھئی ، اللہ اللہ کرکے مُلک میں سینیٹ الیکشن ہوچکے ہیں،جیتنے والے خوشیاں منارہے ہیں تو شکست خوردہ ہارس ٹریڈنگ کا رونا روتے ہوئے آہ وفغاںکررہے ہیں،سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر ہم کب تک اپنی جیت کے لئے ہارس ٹریڈنگ اور ہار پر روتے رہیںگے؟ غلطیاں کر کے خوش حاصل کر یں گے اور الزام لگا کر سینہ گو بی کرتے ہو ئے محاذ آرا ئی پر قا ئم رہیں گے؟ یہ 21ویںصدی ہے ہمیں اپنی پیروں کو دیکھ کر رونے کے بجائے سامنے ترقی کرتی آگے بڑھتی اُوجِ ثریا سے آگے نکلتی دنیا کو دیکھتے ہوئے اِن سے آگے نکلنا ہوگا پتہ نہیں ہم اَب کب اِس قا بل ہوں گے؟ مگر ستر سالوں سے تو ہم ہر بار جتنے والے کی جیت پر شک کے سوا ل کرتے آئے ہیں اور اپنی ہار کی وجہ جا نے بغیر اپنے ہرا نے والے کی کامیا بی پر حسد کرتے ہیں، آج یہ بات کھلے دل سے راقم الحرف سمیت سب ہی کو تسلیم کرلینی چا ہئے کہ سینیٹ انتخابات 2018ءکے غیر سرکاری نتا ئج کے مطابق ن لیگ سینیٹ الیکشن میں 33 نشتوں کے ساتھ ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہم جس کی اِس عظیم کا میابی پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے اُمید رکھتے ہیں اَب یہ اپنی جماعت کے کسی فردِ واحد کو بچا نے کے لئے آئندہ اپنی یا اپنے ذاتی مفادات میں اپنے سامنے عدلیہ اورفورسز کے گھٹنے ٹیکنے کے لئے آئین اور قانون میں ترمیم کرنے سے قطعاََ اجتناب برتے گی اور ساتھ ہی اپنی مرضی کے مطابق وفاقی اور صوبا ئی قومی اداروں کی نج کاری کرنے سے بھی کنارہ کشی اختیار کرے گی ۔
اِس سے انکار نہیں کہ ُپچھلے چند ماہ سے مُلک کے سیاسی حالات جیسے ہیں اِس تنا ظر میں ہر لمحہ یہی گمان غالب رہاکہ تین مار چ کو ممکن ہے کہ سینیٹ الیکشن نہ ہو سکیں مگر ہمارے سیاسی چالبازوں اور بازی گروں نے اپنی دانش سے بڑا کمال یہ کردکھایا کہ خو د کو نہ صرف سنبھالا بلکہ مقررہ تاریخ پر 52 نشتوں کے لئے سینیٹ کے انتخابات پُرامن طریقے سے منعقد کراکے جہاں بعض اداروں اور عوام الناس و دیگر کو حیران کردیا ہے تو وہیں مُلک میں اگلے متوقعہ جنرل الیکشن 2018ءکے انعقاد کی بھی اُمید اور حوصلہ ضرور پیدا کردیاہے تاہم ابھی اداروں کی اِس کھینچا تا نی اور ضدو اَنا کی لڑا ئی میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ مُلک میں آئندہ ہو نے والے انتخابات اپنے وقت مقررہ پر ہو بھی پا ئیں گے کہ نہیں؟تاہم اِس سوال کے تسلی بخش جوا ب پر سوالیہ نشان باقی ہے ،بہر حال،ہمیں اچھے کی اُمید ضرور رکھنی چاہئے، انشا ءا للہ سب بہتر ہوگا، باقی اللہ مالک ہے!
آج اِس بات پر سب ہی (جیتنے اور ہارنے والے) متفق ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کی مد میں بذریعہ بریف کیس، لفا فے ، بلینک چیک ، تحریری چیکس ، اے ٹی ایم منشینوں سے سب بکے اور خوب سیل ہو ئی اِس حوالے سے پشاور سے یہ انکشاف ہو ا ہے کہ ایک جنرل ووٹ کی قیمت 8کروڑ تھی اِس طرح خریداروں نے سینیٹ الیکشن میں بے شما رضمیرفروشوں سے ضمیر، عزم وحوصلے اور ارادے خریدے اور بیچے گئے جو جتنا تونگر اور ضمیر خرید سرمایہ دار تھا اُس نے اپنی دولت کے بل بوتے منہ مانگی قیمت اداکرکے ضمیر فروشوں کو خرید کر اگلے سینیٹ کے الیکشن تک کے لئے بے ضمیرکرکے چھوڑ دیااور اپنے سرما ئے سے ضمیر فروشوں سے ضمیر خرید کر چلاگیا،ہمارے یہاں ا یسا تو ہر بار ہی ہوتا ہے مگر اِس بار تو کچھ زیادہ ہی نظر آیا۔
سترسالہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ سینیٹ الیکشن ایک ایسے وقت میں ہوئے جب اداروں کے درمیان گھمسان کا رن جاری ہے اگرچہ ، مُلک کی بڑی حکمران جماعت فرنٹ لائن پر ہے مگر ایسے میں کو ئی یہ نہ سمجھے کہ یہ اِس محاذ پر اکیلے ہی کھڑی ہے درپردہ خود کو بچا تے ہوئے بہت سی بڑی چھوٹی سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی ہیں جو کل بھی ن لیگ کے ساتھ تھیں اور آ ج بھی اِسی کے شا نہ بشا نہ کھڑی ایک دوسرے کا سیاسی اور ذاتی تحفظ میں متحرک ہیںاِن سبھوں کے اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات بس یہی ہیں کہ جمہوراور جمہوریت کی چادر میں خود کو لپیٹ کر مُلکی اور قومی مسائل حل کرنے کے نام پر آپس میں قومی دولت ہڑ پ کرو، اور ایک دوسرے کو بچاتے رہو، اداروں کو اتنا کمزور اور عوام کو مہنگا ئی اور مسائل کی کچی میں پیس کر ناتواں کردو کہ کو ئی ہماری جا نب آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھے پھر ہمیں جو کرنا ہے ہم وہ کئے جا ئیں اور مُلک اور قوم کا اتنا بیڑاغرق کردیں کہ ہم اشرافیہ طبقے سے تعلق رکھنے والے تو خود بن جا ئیں مگر ہمیں ووٹ دینے والے کیڑے مکوڑے جیسے غریب عوام مسائل کی دلدل ہی میں اتنے دھنسے رہیں کہ مر جا ئیں۔
تاہم غیر سرکاری اور غیر حتمی نتا ئج کے مطا بق حکمران جماعت ن لیگ کے33 حمایت یافتہ اُمیدواروں میں سے 16اُمیدوارکا میاب ہوئے واضح رہے کہ ن لیگ کے اُمیدواروں نے پہلی مرتبہ سینیٹ الیکشن میں آزادسے حصہ لیا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے20میں سے مجموعی طور پر12اورپاکستان تحریک انصاف کے 12میں سے 6نشتیں ایم کیو ایم اپنی اندرونِ خا نہ چپقلش کی وجہ سے 5میں سے صرف 1پر ہی کا میا ب ہو سکی ہے اِسی طرح جے یو آئی (ف) 4میںسے 2پشتونخوامیپ نے 3میں سے 1پی این پی نے2میں سے 1جماعت اسلامی نے 2میں سے 1، اے این پی نے 1میں سے 1اور وہ آزاد اُمیدوار جن کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کو ئی تعلق نہیں تھااُن کی تعداد 17تھی اِن میں سے ایک بھی کا میابی حاصل نہ کرسکا۔
اَب اِس منظر اور پس میںقوم یہ اُمید ہو چلی ہے کہ سینیٹ کے انتخابات کے بعد مُلک میں اگلے متوقعہ جنرل انتخابات بھی ٹائم پر ہوں گے مگر بشرطیکہ ن لیگ والے اپنی اصلاح کریںاور اداروں سے پنگے لینا چھوڑیں تو ہوسکتاہے کہ عام انتخابات وقت پر ہو جا ئیں ورنہ فرد واحد کے طلسماتی اثر میںجکڑی ن لیگ کے لچھن یہ نہیںبتا رہے ہیںکہ عام اتخابات وقت ہو ں گے بھی کہ نہیں؟ یا پھر کبھی ….؟؟
محمد اعظم عظیم اعظم

SHARE

LEAVE A REPLY