اسلام قرآن اور صاحبﷺ قرآن کے مجموعہ کانام ہے۔۔۔ شمس جیلانی

0
1428

اسلام قرآن اور صاحبﷺ قرآن کے مجموعہ کانام ہے۔۔۔ شمس جیلانی
ان میں سے اگر ایک چیز الگ کرو گے تو اسلام نامکمل رہے گا۔ اور صاحبﷺ قرآن کے بھی دو حصے ہیں ایک حصہ وہ ہے جو انہوں ﷺ نے عمل کر کے دکھایا اس میں اختلافات ہیں مثلاً کبھی انہوں ﷺ نے ہاتھ چھوڑ کر اورکبھی ہاتھ باند ھ کر نماز پڑھی اور کبھی سینے پر ہاتھ رکھ کر بھی پڑھی لہذا ان میں جو فرقہ جس کو اختیار کیئے ہوئے ہے وہ اپنی جگہ پر درست ہے۔ دوسر جو ہے وہ احادیث پر مشتمل ہے۔ اس کا اتباع بہت ضروری ہے ان میں سے کسی کو چھوڑا نہیں جا سکتا۔ آجکل یہ عام فیشن چل گیا ہے کہ جہاں کسی نے حدیث سنائی فوراً کہدیتے ہیں صرف سنے سنائے پرو پیگنڈے بنا پرکہ یہ ضعیف بھی ہوسکتی ہے۔ حدیث کے سلسلہ میں حضور ﷺ نے پرکھنے کی پہچان یہ بتائی ہے کہ جو حدیث قرآن سے ٹکراتی ہو وہ کہنے والے کے منہ پر مار دو؟ ایسی حدیثیں بہت کم ہیں کہیں شاذ ہی ملیں گی جوتعداد میں نہ ہونے کے برابر ہیں عموماً صا ح ستہ میں نہیں ملتی ہیں وہ پہلے ہی آئمہ کرام نے نکالدی ہیں۔ جبکہ ضعیف بہت زیادہ ہیں وہ سب نے استعمال بھی کی ہیں صفحے کہ صفحے لکھ کر آخر میں لکھ دیا ہے کہ ضعیف ہے؟ کبھی کبھی وجہ بھی نہیں بتا ئی ہے ان میں سب زیادہ اس بنا پر ضعیف ہیں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے وہ یہ ہیں مثلاً ًاس کا ایک راوی اہل ِ تشیع میں سے ہے یا اس کاستاد بھی ضعیف ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کااستاد بھی اس کے اپنے اپنے فرقہ سے ہوگا؟ مگر اس بنا پر کسی حدیث کوضعیف قرار دینا مناسب نہیں ہے؟ فرقہ واریت کی ترازو سے نکل کر دیکھا جا ئے تو نا انصافی ہے؟ کیونکہ فرقہ کی بنا پر کسی کی شہادت کو رد نہیں کی جا سکتا جو اسے کلمہ پڑھنے سے حاصل ہوئی ہے یہ حق صرف اسلامی حکومت کو ہے وہ طے کر سکتی جو کہ اب دنیا میں کہیں نہیں ہے یا پھر اللہ سبحانہ تعالیٰ روز ِ قیامت میں اس کا فیصلہ فر ما ئے گا۔ اس سلسلہ میں حضرت علیؓ کا قول ایک دلیل کی طور پر میں پیش کرتا ہوں۔ کہ ًکسی نے ان سے پوچھا یہ سب کچھ جو ہم اور آپ کر رہے ہیں نہ ہوا تو کیا ہوگا؟ ان کا جواب تھا کہ اگرہوا تو پھر تم وہاں کیا کروگے؟ بالکل یہ ہی معاملہ احادیث کا ہے۔ کہ رد کرتو کسی بنا پر کردی لیکن اگر صحیح ہوئی تو حضور ﷺ کی نافر مانی کی سزا بھگتنا پڑیگی؟ اور اگر عمل کرلیا جو نیک نیتی مبنی تھا۔ تو انشا ء اللہ باز پرس نہیں ہوگی۔سوا ئے اس نقصان کے جو وقت یا جو مال اس پرخرچ ہواجوکہ ایسی اہم بات نہیں اس لیئے کہ دلوں کہ حال تو تعالیٰ ہی جانتا ہے باقی کوئی نہیں جانتا۔ بس اسی کا فیصلہ آخری ہے جو بروز ِ قیامت ہوگا۔ میری اس بحث کا مقصد یہ ہے کہ ہر حدیث کو عزت دیں اس کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیں تو کیا یہ دین کے لیئے بہتر نہیں ہوگا؟ میں کوئی رائے نہیں دے رہا ہوں صرف اس پر غور کرنے کی دعوت دے رہا ہوں۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو ہدا یت دے (آمین)ِؒ

SHARE

LEAVE A REPLY