ایک جلسہ ہوا اور اس میں کچھ ایسے کلمات ادا کئے گئے جو گالی تو نہیں ہین کیونکہ ہم نے ساری لُغات دیکھ لیں ان میں کہیں بھی اس لفظ کوگالی نہیں کہا گیا بلکہ معنی ہیں بے زار ،
سر زنش ،دُھتکار ،اب ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہر جملے کو یا لفظ کو گالی کیسے کہہ دیا جاتا ہے ۔اُوئے کو بھی گالی کی صنف میں لے آتے ہیں اور ایسے ہی بہت سارے الفاظ جن کو کوئی بھی گالی نہیں کہتا ہم نے یہ لفظ اس کثرت سے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے کہ اب کچھ دنوں میں شاید نام لینا بھی گالی بنا دیا جائے گا ،
یہ مت سمجھئے گا کہ ہم ان الفاظ کے حق میں ہیں۔ نہیں ہر گز نہیں لیکن جس طرح کی زبان آج کل استعمال ہو رہی ہے وہ کسی صورت بھی اچھی نہیں ہے ۔مگر ہر بات کو گالی بنا دینا مخالفت میں ،یہ بھی کوئی اچھی روایت نہیں ہے ۔
اب آئیے پارلیمنٹ کی توقیر پر، ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ کم از کم عمران خان نے اور شاید شیخ صاحب نے بھی پارلیمنٹ کے فلور پر جس کے احترام کا یہ لوگ اس قدر قصیدہ پڑھتے ہیں ایسے الفاظ نہیں بولے جیسے کہ ہمارے ایک وزیر استعمال کرتے ہیں اور اب تو اپوزیشن لیڈر بھی پارلیمنٹ کے احترام میں اس قدر بڑھ گئے کہ انہوں نے بھی پارلیمانی زبان کے پرخچے اُڑا دئے ۔ کیا یہ ہے احترامَ پارلیمنٹ کے اُس میں کھڑے ہو کر نازیبا زبان کا استعمال کیا جائے ،کیا کبھی جھانکا اپنے گریبانوں میں کہ جس کی عزت کی بات کرتے ہو وہاں کھڑے کہو کر کس طرح کی زبان استعمال کرتے ہو ۔
کس پارلیمنٹ کی توقیر کی بات کرتے ہو جس میں ایسے ارکان موجود ہیں جن کے اثاثے اُن کی آمدنی سےکہیں زیادہ ہیں ،کس اسمبلی کی عزت کی دُہائی دیتے ہو جس میں بیٹھے لوگ بیرونی ملکوں کے اقامے لئے ہوئے ہیں وہاں سے بھی تنخواہیں لیتے ہیں کیا وہ اسمبلی میں کھڑے ہو کر بولنے کا حق رکھتے ہیں جنہوں نے ہمارے اعتمناد کو دھوکہ دیا ۔کس توقیر کی بات کرتے ہو جس اسمبلی میں کوئی نہ پانی پر بولتا ہے نہ تعلیم پر نہ نوغریوں پر نہ کرپشن پر اور نہ ہی غریبوں کی حالت بدلنے پر
پارلیمنٹ کا احترام کیسے کریں جب نہ اس میں کوئی عوامی بات ہوتی ہے نہ مسائل کی نشاندہی ۔نہ کوئی قانون بنتا ہے نہ کسی مسئلے کا حل ،کسی بھی اہم اور نازک مسئلے پر پارلیمنٹ کے یہ ممبران جو ہر وقت اسکی توقیر کی بات کرتے ہیں آواز تک نہیں اُٹھاتے
کیا ایسی پارلیمنٹ کی بات کرتے ہیں جس میں ایسی زبان استعمال کی جائے مخالفوں کے لئے کہ سُنی بھی نہ جائے ۔کیا یہ عزت ہے پارلیمنٹ کی کہ آپ لوگوں کے منہ مین خاک ڈالیں اُس معزز ایوان میں کھڑے ہو کر جس کی آپ دُہائی دے رہے ہیں کیا آصف صاحب نے اپنے الفاظ پر غور کیا وہ لوگ تو ایک جلسے میں بولے آپ تو اُس ایوان میں بولے جس کی تقدیس کی آپہ بات کرتے ہیں اب آپ زیادہ خطا وار ہیں یا وہ دونوں ؟
کیسے کریں اس پارلیمنٹ کی عزت جس میں کھڑے ہو کر دوسروں کی عزت اُتاری جائے کوئی بھولا نہیں شیری مزاری کی بات کوئی بھولا نہیں آپ کی وہ تقاریر جو آپ نے اسی معزز پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر کیں اور آپ کے دوسرے ساتھیوں نے ۔آپ یہاں جھوٹ بولے ۔آپ نے یہاں کھڑے ہو کر غلط بیانی کی ۔آپ نے اسی پارلیمنٹ میں ختمِ نبوت جیسی شقِ کو چھیڑا ۔یہاں گونگے بیٹھتے ہیں جن کے منہ سے چار سال میں ایک لفظ نہیں نکلتا ، جو اپنے علاقے کا کوئی ایک مسئلہ ایوان میں حل نہ کراسکلے ۔یہ وہ ہی پارلیمنٹ کے جس نے ایک بڑے ادارے کے فیصلے کی دھجیاں بکھیر دیں ایک نااہل کو پارٹی لیڈر بنا کر یہ ہے آپ سب کا تقدُس ،کس عزت کی بات کرتے ہو جب خود کھڑے ہو کر سوائے مخلفوں پر تیشہ زنی کے کچھ نہیں کرتے ۔
کیا کوئی ایک قرار داد لائے اُن معصوم بچوں کے لئے جن کے ماں باپ آج بھی پولیس کا ظلم سہہ رہے ہیں جن کی ویڈیوز بنائی گئی تھیں ۔کیا اُن مصوم بچیوں اور بچوں کے بارہ خون اس پارلیمنٹ کی عزت میں آڑے نہیں آئینگے یہ وہ لاٹھی ہے جو بے آواز ہے اور جب چلتی ہے تو ساری لفاظی دھری رہ جاتی ہے ۔ایوان کی توقیر تو آپ کے وزراء اس قدر کرتے ہیں کہ خالی کرسیاں آپ کا ہی مزاق اُڑاتی ہیں ۔
ہم ہمیشہ لکھتے ہیں کہ پی پی پی کبھی بھی کسی کے ساتھ نہیں سوائے میاں صاحب کے اور یہ بات ہمیشہ ہی سامنے آجاتی ہے جب خورشید شاہ بولتے ہیں یا زرداری صآحب ،کاش ہمارے لیڈڑ رحم دل ہوتے اور سوچتے کہ ہم نے کیا دیا ہے سوائے پیسہ کمانے اور ملک کو کمزور کرنے کے ،جس طرح اداروں پر روز لعن طعن ہوتی ہے وہ بھی ایک المیہ ہے لیکن ہم اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ ہمیں یہ باتیں نہ گالیاں لگتی ہیں نہ قابلِ نفرین ۔ہمیں میڈیا کے لوگوں سے بھی اختلاف ہے جو صرف اور صرف اپنا شو چمکانے کے لئے بلا تحقیق بات کرتے ہیں کم از کم انہیں تو گالی اور کمزور الفاظ کا تعین کرنا چاہئے ۔کیونکہ ان کا پروگرام سارا ملک دیکھتا ہے ہمیں امید ہے کہ وہ بھی لوگوں کی سوچ میں اچھائی پیدا کرینگے ۔بلا شک برے الفاظ کا استعمال ختم ہونا چاہئے لیکن ہر لفظ اور جملہ گالی نہیں بنا دینا چاہئے ۔
اچھے لوگ اچھا ماحول بناتے ہیں ایسا ماحول جس میں سب ہی محتاط ہوتے ہیں اپنے روئیوں کے ۔لیکن ان چند سالوں میں جس طرح شخصی انحتاط آیا ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے ۔یہاں تک کہ خود کو ایسے شخص کی طرف بھی لے جانے کی بات کردی جو ملک کے دو ٹکڑے کرنے میں پیش پیش تھا ،کیا یہ ہم سب کے لئے گالی نہیں کہ ایک ایسے شخص کو جو ملک توڑنے والے کو غدار نہ سمجھے ہم اُس کے پیچھے کھڑے ہوں ،کہاں ہیں پارلیمنٹ کے با توقیر ارکان جن کے منہ سے پھول جھڑتے ہیں ۔
میاں صاحب رو رہے ہیں دُہائی دے رہے ہیں کہ مجھے بھول جانے دو جو کچھ میں نے کیا ،لیکن میاں صاحب یہ تو مکافاتَ عمل ہے جس میں آپ کا ساتھ سوائے آپ کے ان تیشہ برداروں کے کوئی نہیں دے سکتا ۔لیکن یہ بھی خیال رکھئے گا کہ جب برا وقت آتا ہے تو سب سے پہلے یہ ہی چھوڑ جاتے ہیں ۔آپ کویہ سوچ سوچ کر ضرور ازیت ہو رہی ہو گی کہ آپ نے ملک اور قوم کے ساتھ کتنا ظلم کیا پیسہ باہر لے جاکر اپنی امپائر بنا کر اس غریب ملک کےغریبوں کی بے بسی سے کھیل کر ۔تو اب بھلانے سے کیا فائدہ ہوگا آپ تو کرچکے جو کچھ کرنا تھا اب تو شاید آپ کا اور آپ جیسے بہت سارے لوگوں کا ضمیر کچوکے دے گا کہ آپ نے کتنا ظلم کیا اس معصوم قوم پر ۔بہت سے معاملات ہیں جو آپ کوبھولنے نہیں دینگے کہ تین دفعہ ایسے عہدے پر رہ کر بھی آپ ملک کو کچھ نہ دے سکے سوائے سڑکوں کے جس نے آپ کو شاہ بنا دیا ۔تو بھولنا تو بہت مشکل ہے میاں صاحب اور کسی کے بِس میں نہیں کہ وہ آپ کے ماضی کو مٹا سکے ۔
ہمیں اتنی سخت باتیں لکھتے ہوئے بہت تکلیف ہوتی ہے مگر آپ ہمیں مجبور کرتے ہیں ۔ہمارا سوال اُن لوگوں سے ہے جو ادارے کی توقیر کی بات کرتے ہیں کہ آپ نے کبھی سوچا کہ آپ نے اس ادارے کی عزت بڑھانے کے لئے کَیا کِیا ؟یا آپ کی سیٹوں سے صرف جھوٹ ،لغو اور بد زبانی سننے کو ملی ۔
اللہ میرے ملک کے لوگوں کو شعور اور عقل عطا فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY