عقل کے ناخن، زاہد نوید

0
823

اس وقت جو صورتحال ہے اس میں ایسا کیا ہو کہ حال سے بے حال سماج پھر سے سکھ کا سانس لے سکے۔گزشتہ کئ برسوں سے سماجی ڈھانچہ جس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا اس کی مرمت ہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وطن کا سب سے بڑا اور برا مسئلہ آبادی میں ہولناک اضافہ ہے۔ملک میں کروڑوں غریب روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں غریب پیدا کر رہے ہیں۔ جس رفتار سے آبادی بڑھ رہی ہے ایک زرعی ملک کی نباتاتی معیشت اس کی برابری کر ہی نہیں سکتی.یہ ناممکن ہے ۔ اس وقت ہر زبان پر یہی ذکر خیر ہے کہ سیاست کی شطرنج پر کون کیسے کھیل رہا ہے۔ملکی سیاست عملا پلے گراؤنڈ بن چکی ہے سیاستدان خود کو کپتان کہلانے پر بضد ہیں۔اب تو مرشد وغیرہ بھی کہا جانے لگا ۔سوشل میڈیا نے ایسی زبان کھولی کہ لوگ زبان دراز ہو گۓ۔اپنی پسند کے لیڈر کو جو چاہیں خطاب دیتے ہیں نا پسندیدہ کو بے نقط سناتے ہیں۔۔۔ماہرین معیشت کو صرف ایک ہی بات سمجھ ا رہی ہے کہ کچھ باقی نہین پچا سب کچھ لٹ چکا ملک خاکم بدہن اخری سانس لے رہا ہے۔۔ ان سے مسائل کا حل پوچھیں تو بغلیں جھانکتے ہیں۔کبھی کہا کرتےتھے کہ غم نہ داری بز بخر۔یعنی اگر تجھے کوی غم نہیں تو بکری خرید لے۔ اب یوں ہے کہ اگر أپ خوش وخرم بیٹھے ہوں مگر اپ چاہتے ہین کہ کوئ اپ کو رلاۓ دکھ دے أپ پھوٹ پھوٹ کر رویں۔کوئ أپ کو دلاسہ دینے والا نہ ہو اپ روئیں اپ کادل روۓ اور کافی دیر تک أپ مضطرب ورنجیدہ رہین حتی’کہ رات کو نیند بھی نہ أۓ تو اس کا اسان طریقہ یہ ہے کہ ٹی وی لگا لیں بس فورأ ہی ایک چیختی چنگھاڑتی اواز ایسی منحوس خبر سناے گی کہ اپ کو جزبات پر قابو نہین رہے گا اپ بے اختیار زاری کرنے لگیں گے۔یہ ہے اج کا خبر نامہ اور اج کے تجزیے۔

قاریئن محترم. ابھی میں یہ کالم لکھ ہی رہا تھا کہ ایک خبر نے سوچ کی دھارا ہی بدل ڈالی ۔عمران خان کو اخر کار گرفتار ہو گیۓ۔ ایک دلدوز اواز گلا پھاڑ کر بار بار یہ سبق دہرا رہی تھی ۔ اس خبر نے مجھے ہی نہیں پورے ملک کی اب و ہوا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ پی ٹی أئ کے لڑکوں بالوں نے سینئر أرمی أفیسر کی گھر کو اگ لگادی۔۔دل کی پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے۔۔اس گھر کو أگ لگ گئ گھر کے چراغ سے۔ مگر اس سے بھڑ کر دلخراش منظر وہ تھا جہاں ایک بانکا کور کمانڈر کی وردی پہنے پھر رھا تھا۔ مین سوچ رہا تھا۔ عدالت میں جج اور کلاس روم میں پروفیسر گاؤن پہن کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اگر کوئ ناراض ملزم یا نالائق طالب علم یہی گاؤن چھین کرخود پہن لے تو گاؤن کی یہ توہین برداشت نہیں کی جاسکتی اسی طرح فوجی وردی کی توہین بھی ناقابل برداشت ہے۔ وردی کو تو ہاتھ لگانا بھی جرم ہےچہ جاۓکہ یوں ہو۔۔عرصہ دراز سے سنتے چلے أۓ ہیں کہ ملک نازک حالات سے گزر رہا ہے

۔یہ جملہ سننے کی عادت ہوگئ تھی اس لیےسنی ان سنی کر دیتا تھا۔مگر اب احساس ہونے لگا ہے کہ ملک واقعی پریشان کن حالات سے رو چار ہے۔مگر ٹھریے یہ چار دن کا اندھیراہے کوئ بات نہیں۔ایک دن أے گا جب نہ یہ دن ہونگے اور نہ ملکی سیاست مین ہلچل مچانے والے یہ کردار۔نی دنیا ہوگی نئے لوگ ہونگے نئے مسائل ہونگے۔ البتہ شاید ابادی میں اضافہ ایندہ بھی سب سے بڑا مسئلہ ہو گا اس سے نبٹنے کے لیے ہمیں چاہیے کہ جلد عقل کے ناخن لیں۔ہوش و ہواس درست کریں۔اس وقت نئ مردم شماری کے مطابق أبادی چوبیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اگر یہی ٹھہری شرط وصل لیلی تو پھر کہاں کی ممیشت  کیسی جی ڈی پی کیسی ترقی۔ تو پھر کوئی ہے جو ابادی کے سیلاب کو روکے؟

SHARE

LEAVE A REPLY