اکثر لوگوں کو تعلیم اور تربیت کا فرق معلوم نہیں ہوتا ۔۔ تعلیم ڈگریوں کی مرہون منت ہوتی ہے اور تربیت ماں کے رحم میں آتے ہی شروع ہو جاتی ہے ۔ پھر ماں باپ کی گود ، خاندانی تقافت اور روایات ، اساتذہ اور دوست احباب مل کر ایک انسان کی تربیت کرتے ہیں ۔ اسے اچھا انسان بناتے ہیں یا برا انسان ۔۔ جو بھی انسان بنتا ہے وہ اپنے گھر، خاندان ، اساتذا اور دوستی کی تربیت کا سفیر ہو جاتا ہے ۔
تربیت کبھی تعلیم کی مرہون منت نہیں ہوتی ۔۔۔ تعلیم سے زیادہ تربیت شخصیت کا پتہ دیتی ہے ۔ جیسے گفتگو کے آداب ، اٹھنے بیٹھے لباس کے آداب ، اپنے سے بڑوں کو مخاطب کرنا اور ان کی عزت کی پاسداری بہت ضروری ہے ۔
حتی کے اپنے دوستو کو بھی مخاطب کرتے وقت ان کی عزت بے حد ضروری ہے ۔ ان سے ہنسی مذاق کرتے ہوئے بھی عزت کو ملحوظ اور حدود کا خیال رکھنا ازحد ضروری ہے ۔
فیس بک کا مسلہ یہ ہے کہ آپ مجھے نہیں جانتے اور میں آپ کو نہیں جانتی ۔ لہذا اس برقی رابطے میں صرف طرز تخاطب اور لفظوں کے چناؤ کاسلیقہ ہی انسان کی تربیت کا عکاس ہوتا ہے ۔ کئی ماہ سے دوستوں کی پوسٹ پر اور آج اپنی پوسٹ پر کچھ نا زیبا تبصروں کو پڑھ کر دلی رنج ہوا ۔۔ اور یقین جانئے تمام تبصرے کرنے والے مرد و خواتین صاحب تعلیم ( ڈگری ) تھے پر تربیت کے فقدان نے ہمیشہ ہی ازیت میں مبتلا رکھا ۔۔ جیسے آج محمد عبدل الرحمان کے سطحی تبصرے نے اتنی تکلیف دی کہ میں نے پوسٹ ہی ہٹا دی ۔۔۔ جو کہ میں نے پہلی بار ایسا کیا ہے۔
دوستو ۔۔!
میری زندگی اور میرے دین کا محور ایک حدیث پاک ہے کہ ” جو چیز اپنے لئے پسند کرو وہی دوسروں کے لئے پسند کرو” ۔۔۔
میں اس لئے آپ سب کی عزت کرتی ہوں ۔۔ دعاوں میں رکھتی ہوں ۔۔ آپ کی حدود کا خیال رکھتی ہوں اورکبھی ایسا تبصرہ نہیں کرتی جس کو آپ کے دوست احباب اور گھر والے پڑھیں تو آپ کو شرمندگی محسوس ہو ۔۔۔۔ میں تنقید بھی کرتی ہوں تو بہت مثبت کرتی ہوں کہ آپ کے احساسات اور دل کے رنج سے وقف رہتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں یہ سب اس لیئے کرتی ہوں کہ میں آپ سب سے بھی یہی رویہ یہی سلوک اپنے لئے چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نگہت نسیم












