میں کالم مکمل کر چکا تھا اور ادارے کو میل کرنے ہی والا تھا کہ ٹی وی پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس کی خبر دیکھی اور پاک فوج کے ترجمان کی باتیں بڑے انہماک سے سماعت فرمائیں تو سب سے پہلے زبان جو الفاظ ادا ہوئے وہ یہ تھے ” کہ شکر ہے کہ ہمای سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے نے اپنے خلاف ہونے والے بے بنیا د پروپیگنڈا کی طرف دھیان کیا۔ کالم کے آغاز میں ہی چند سطریں شامل کی گئی کیں ۔
بالاآخر اللہ کے بعد ہماری اور ہمارے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے ذمہ دار اداے نے انگلرائی لے ہی لی اور کئی گزشتہ کئی ہفتوں سے الیکٹرا ک اور سوشل میڈیا پر چند مفادپرست اور ضمیر فروش اینکرز اور تجزیہ نگاروں کی جانب سے افواج کے متعلق من گھڑت پروپیگنڈا کے ذریعہ عوا کو گمراہ کرنے اور افواج پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا کر نے کاجو مذموم دھندہ شروع کررکھا تھا افواج پاکستا کی جانب سے اسکا نوٹس لے لیا اور پاک فوج کے ترجمان نے ان اینکرز اور تجزیہ نگاروں کو خبردار کرتے ہوئے راہ راست پر آنے کی درخواست کی ہے۔
آجکل ہر جگہ ایک ہی موضوع زیر بحث ہے۔ کہ “کیا ہوچکا ہے اور آئندہ کیا ہونے والا ہے” یہ سوال کرنے والے ہر پاکستانی کے کان ایساجواب سننے کے منتظر ہوتے ہیں جس سے اس کی روح اور قکب کو تسکین ملے۔ وہ ہر گز ایسا جواب سننے پر آمادہ نہیں ہوتا جس اسکی رائے مطابقت نہ رکھتا ہو۔
جب سےہماری سیاست میں مستقل مزاجی کی جگہ ابن الوقتی منسد نشین ہوئی ہے اخلاقیات اور اپنی روایات کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ چند دن قبل ہی مطالعہ کے دوران نظر سے گزرا کہ
” آج سیاست اور میڈیا میں ابن الوقت جو کچھ کررہ ہیں اسکی تصویر دیکھنی ہے تو موپساں کاناول” بل امی ” پڑھ لیں۔ ناول 1885 عیسوی میں شایع ہوا تھا۔جب فرانس میں پرانی اشرافیہ کی جگہ سرمایہ دار طبقہ طاقت پکڑ رہاتھا ۔اثر ورسوخ اور سیاسی قوت کے حصول کے لئے اخلاقیات تج دی گئ تھی۔یہ طبقہ جائیداد کے ساتھ اخبارات کی ملکیت اور صحافت کو کس طرح استعمال کرتاہے ناول میں پڑھا جاسکتا ہے اور آج پاکستان میں ایسے” بل امیوں”(مرکزی کردار ) کو پہچانا جاسکتاہے” “
” ’قوموں کے عروج و زوال کی کم از کم پانچ سو سالہ تاریخ تو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کبھی ایک بار بھی الیٹ گروہوں سے نجات اور خود مختار سیاسی اور معاشی اداروں کے قیام کے بغیر کوئی ایک ملک م بھی دیر پا ترقی کی منزل نہیں پا سکا۔‘ ”
جب ہر چیز خریدی جاسکے تو مال خرچ کرکے اہل مال ںظام کو خراب
کردیئے ہیں۔۔۔ تعلیم برائے فروخت، کالج نہ جائیں ٹیوشن سینٹر عدالت نہ جائیں مہنگا وکیل یا جج کرائے پر لیں ، اچھے جم، بیوٹی پارلر اسپتال جائیں اور صحت خرید لیں، بجلی پانی دیگر سہولتیں ، اپنا حفاظتی انتظامات کرلیں ۔۔۔۔ اور اگر پیسہ غیر قانونی ہے تو ضمانت قبل از گرفتاری بھی کروالیں۔۔۔۔ بیگم بچوں اور خاندان کو باہر ملک میں چھوڑدیں۔۔۔۔ اداروں کے نظام ، قانونی کی گلیوں ، عدالتی فیصلوں سب کو خرید کرلیں۔۔۔
بات کہاں سے کہا جا پہنچی ۔۔۔۔ بات ہو رہی تھی کیا ہو چکا ہے اور آئندہ کیا ہونے والا ہے اس سوال کا میرے پاس جواب یہ ہے کہ 2018 کے انتخابات سے قبل ہی امطاقت کے مراکز نے طے کر لیا تھا کہ اقتدار نہ مسلم لیگ نواز کو ملے گا اور نہ ہی پیپلزپارٹی کو مسند پر بٹھایا جائے گا اور یہ بات مسلم لیگ کے شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی بتا اور سمجھا دی گئی تھی۔ جس کا اظہار 2018 کے انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران دونوں پارٹیوں کی لیڈر شپ نے اپنی باڈی لینگویج سے کر دیا تھا۔ مطلب دونوں پارٹیوں کی قیادت نے انتخابات میں کی جانے والی پولیٹیکل انجینیئرنگ کو قبول کرلیا تھا۔
ہاکستان تحریک انصاف کو ریاستی اداروں کی مکمل حمایت کا اس سے بڑھ کر اور ثبوت ہو سکتا ہے کہ ان اداروں نے گزشتہ چالیس سالوں میں ایکبار بھی پیپلز پارٹی کو پنجاب میں اقتدار کی راہداریوں تک نہیں جانےدیا بلکہ چالیس کی محنت کرکے پی پی پی کو پنجاب سے دیس نکالا دینے میں کامیاب ہوئے۔ لیکن تحریک انصاف کو پہلی مرتبہ ہی پنجاب اور خیبر ہختونخوا حکومتیں طشتری میں رکھ پیش کی گئیں۔
اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خاں صاحب بہت ہی غصہ میں ہیں اس غصے نے ان کے چہرے پر سے مسکراہٹ اور حس لطفت چھین لی ہے۔ خاں صاحب فوری طور پر انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں وہ ایسا کیوں چاہتے ہیں وہ ایسا اس لیے چاہتے ہیں کہ اس وقت عوام انکی بات سن رہی ہے اور کچھ کر گزرنے کے موڈ میں بھی ہے اور یہی وقت ہے کہ اپنے مقاصد کے حصول کے کیے اس دباو کو استعمال کرکے بقول انکے امپورٹڈ حکومت اوران کے سرپرستوں کو فوری انتخابات کرانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
الیکشن کے فوری انعقاد
جس طرح کپتان ایوان اقتدار سے رخصت ہوئے ہیں ایسا کبھی انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ انکا پختہ خیال بلکہ انہیں یقین تھا کہ ہمارے ادارے اب پیپلز ہارٹی اور مسلم لیگ نواز کو تاحیات اقتدار کے نذدیک نہیں پھٹکنے دیں گے اب انکی پہلی اور آخری چوائس وہ ہی ہیں لہذ ا اداروں کو جس طرح مرضی ذلیل کروں کوئی انکا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا ۔
شیخ رشید احمد کسی غلط فہمی میں نہ رہیں اور نہ ہی اپنے اتحادی عمران خاں کو غلط فہمی میں رکھیں اس ملک میں ذوالفقار علی بھٹو جیسے ذہین فطین ہوشیار چالاک شخص کو منظر سے غائب کردیا گیا کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ عمران خاں اور آپ جیسے تیسرے چوتھے درجے کے لوگوں کے جیل جانے یا خانہ جنگی کرانے کی جستجومیں اس دنیا سے رخصت ہونے کی صورت میں بھی کچھ نہیں ہوگا۔ اول تو اس کی نوبت ہی نہیں آئے گی کیونکہ آپ سب نے گیٹ نمبر 4 پر قطار لگا لینی ہے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے ” اچھے بچوں ” کی طرح رہنے کی یقین دہانی کروا دینی ہے وہ بھی اسٹیپ پیپرز پر۔
بزبان شاعر
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
اق ذرائع کا کہنا ہےکہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے عمران خان کی تقریر کا اسکرپٹ الیکشن کمیشن کو فراہم کردیا ہے جو کمیشن کو موصول بھی ہوگیا ہے۔
اقتدار سے محرومی کے بعد پشاور میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خاں صاحب نے افواج پاکستان کے ایک اور اہم ریاستی ادارے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خلاف انتہائی ترش زبان استعمال کی اور اسے اپنی تنقید کا موضوع بنایا۔ اسی تقریر میں سابق وزیر اعظم نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو مسلم لیگ ن کا ایجنٹ تک قراع دے دیا۔ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے نوٹس لیتے ہوئے پیمرا سے عمران خاں کی تقریر کا اسکرپٹ طلب کرلیا۔
اطلاعات کے مطابق پیمرا کی جانب سے عمران خان کی تقریر کا اسکرپٹ الیکشن کمیشن کو فراہم کردیا گیا ہے جو کمیشن کو موصول بھی ہوگیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن نے عمران خان کی تقریر کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس طلب کرلیا ہے جس کے بعد ہی سابق وزیراعظم کو نوٹس جاری کرنے یا نہ کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
اقتدار سے محرومی کے بعد پشاور میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خاں صاحب نے افواج پاکستان کے ایک اور اہم ریاستی ادارے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خلاف انتہائی ترش زبان استعمال کی اور اسے اپنی تنقید کا موضوع بنایا۔ اسی تقریر میں سابق وزیر اعظم نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو مسلم لیگ ن کا ایجنٹ تک قراع دے دیا۔ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے نوٹس لیتے ہوئے پیمرا سے عمران خاں کی تقریر کا اسکرپٹ طلب کرلیا۔
اطلاعات کے مطابق پیمرا کی جانب سے عمران خان کی تقریر کا اسکرپٹ الیکشن کمیشن کو فراہم کردیا گیا ہے جو کمیشن کو موصول بھی ہوگیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن نے عمران خان کی تقریر کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس طلب کرلیا ہے جس کے بعد ہی سابق وزیراعظم کو نوٹس جاری کرنے یا نہ کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
لوگ اس حوالے سے بھی مضطرب ہیں ریاست کو پتہ ہے امریکی سازش کا رونا دھونا محض ڈرامہ ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں تو پھر ریاست کی جانب سے اسکا ڈراپ سین کیوں نہیں کیا جاتا ۔ایجنسیوں کو سب خبر ہے سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ کرنے کے پیچھے کون متحرک ہے ۔سوالات اٹھتے ہیں جب اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہو چکی ہے تو پھر مخصوص فکر کے حامل اینکرز اور ففتھ جنریشن وار کے یوٹیوبرز سپاہیوں کی آگ اگلتی زبانیں خاموش کیوں نہیں ہوتیں ۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ جنہوں نے یوٹیوبرز اور بے لگام اینکرز کے گلے میں پٹہ ڈالا تھا وہ چین آف کمانڈ توڑنے کی کوشش کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنا دینے کے ہنر سے بخوبی آشنا ہیں اس کے باوجود ریاست کی خاموشی سمجھ میں نہیں آتی خاص کر ان حالات میں جب خاص راویہ نگاہ رکھنے والےاینکرز اور یوٹیوبرز فوج کی اعلی قیادت کے لتے لے رہے ہیں۔
محترم اظہر سید کی رائے سے ہم بھی متفق ہیں کہ ” ہماری فوج بطور ادارہ حقیقت میں غیر جانبدار ہو چکی ہے ۔جنرل فیض حمید یا جنرل آصف غفور جو کچھ جانتے ہیں ان سے امیدیں رکھنے والے اس کا معمولی حصہ بھی نہیں جانتے ۔یہ بات تو ممکن ہے جنرل فیض حمید آرمی چیف بننا چاہتے تھے ۔ یہ بھی ممکن ہے جنرل آصف غفور کی خواہش ڈی جی آئی ایس آئی بننے کی تھی لیکن یہ ہر گز ممکن نہیں کہ فوج کے “چیک” کے موثر نظام کی موجودگی میں کوئی چین آف کمانڈ توڑنے کا سوچے بھی ۔”
محترم ندیم سعید نے اس رائے اظہار کرتے ہیں “اب تک پاکستان آرمی کی یونٹی آف کمانڈ مشہور تھی۔ سب سپہ سالار کے ماتحت۔ اگر کوئی اختلاف رائے ہوتا بھی ہوگا تو وہ کور کمانڈروں کے اجلاس میں ہی نمٹا دیا جاتا ہوگا۔ خبر کبھی نہیں بنا تھا۔ چیف آف آرمی سٹاف فوج کے ادارہ جاتی اور کاروباری مفادات کے پاسبان کے طور پر سیاستدانوں اور عوام سے سوداکاری کرتا آرہا ہے، کبھی براہ راست ایوب، یحییٰ، ضیاء، اور مشرف اور کبھی پس پردہ جیسے کاکڑ، کیانی، راحیل اور باجوہ۔لیکن ایسی صورتحال کبھی نہیں تھی جیسے موجودہ ہے جس میں واضح طور پر عسکری طاقت کے دو مراکز بنے ہوئے ہیں، پنڈی اور پشاور۔پنڈی ناکام ہائبرڈ حکومتی تجربے کی دلدل سے ملک کو نکالنا چاہ رہا ہے جبکہ پشاور اس میں مزید دھنسنے پر مُصر ہے۔فوج اور اس کے پروردہ ناپسندیدہ سیاستدانوں کو سکیورٹی رسک قرار دیتے رہے ہیں، لیکن عمران کی شکل میں انہیں پہلی دفعہ معلوم ہوا ہوگا کہ سکیورٹی رسک ہوتا کیا ہے۔ تمام دنیا سے تعلق خراب کرنے کے بعد وہ تمام ریاستی اداروں اور ان کے کارپردازوں کی روزانہ کی بنیاد پر عزت افزائی کررہا ہے۔ حتیٰ کہ نام لے لے کر بتا رہا ہے کہ کون سا جرنیل باطل اور کونسا حق کے ساتھ کھڑا ہے۔ جنرل فیض کو وہ اپوزیشن کو قابو میں رکھنے کے لیے ڈی جی آئی ایس آئی رکھنا چاہتا تھا۔ یعنی فوج لاکھ دعویٰ کرے کہ وہ غیر سیاسی ہے عمران دنیا کو بتا رہا ہے کہ آئی ایس آئی کا سربراہ کنگ میکر ہوتا ہے۔ عمران واضع طور پر اداروں کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار کیے ہوئے اور دلچسپ بات ہے کہ اسے اس میں کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے والے اقتدار سے سیدھا زنداں جایا کرتے تھے۔ زبان بندی کی شرط پر رہائی پاتے تھے۔ اپنے اقتدار کے بغیر عمران ملک کو انارکی کے راستے پر لے جانا چاہتا ہے اور اس کے اس طرح دندنانے کے پیچھے صرف ایک جرنیل یا کور کمانڈر نہیں۔ کہا جارہا ہے کہ مئی میں فوج میں اعلیٰ عہدوں پر اہم تقررریاں اور تبادلے ہونے ہیں۔ عمران نے بھی لانگ مارچ کی کال مئی کے آخر میں دے رکھی ہے، جس سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان سیاسی چالوں کے پیچھے جنرل فیض سمیت جرنیلوں کا ایک ایسا گروہ ہے جو پنڈی پر دباؤ ڈال کر ان تقرریوں اور تبادلوں میں اپنی منوانا چاہتا ہے۔اس صورتحال نے پاکستان آرمی میں یونٹی آف کمانڈ کی myth کو زمین بوس کردیا ہے۔استاد محمود نظامی کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں انارکی اور خانہ جنگی ہوئی تو وار لارڈز کور کمانڈر ہونگے۔عمرانی انارکی اور فوج میں طاقت کی واضح رسہ کشی معاملات کو اسی طرف لے جاتی نظر آرہی ہے۔”
” فوج امریکی ایجنٹ نہیں اور سی پیک روکنے کی سازش کا حصہ” بھی نہیں ۔ فوج امریکی ایجنٹ ہوتی تو سابق وزیر اعظم کو غیر جانبدار ہو کر فارغ نہ کرتی بلکہ ملک کے نادہندہ ہونے کا انتظار کرتی تاکہ سی پیک اپنی موت مر جاتا ساتھ میں نادہندہ ملک کا ایٹمی پروگرام بھی چھین لیا جاتا ۔”
“فوج نے بطور ادارہ ملک کے مفاد میں فیصلہ کیا اور ملک کو نادہندگی کا شکار ہونے سے پہلے ہی تبدیلی کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا ۔ ۔ ”
شہباز حکومت کے ناقد اور عمران خاں کے لیے سردھڑ کی بازی لگانے والے اینکرز کی جانب سے شور مچایا جا رہا ہے کہ سی پیک اتھارٹی ختم کردی گئی ہے اور امریکا کی خوشنودی کے لیے سی پیک پر کام بھی سست رفتاری کی طرگ گامزن ہے۔ شائد یہ اینکرز اور یوٹیوبرز اس حقیقت سے لاعلم ہیں کہ جو شخص اس وقت وزیرِ اعظم کی کرسی پر بیٹھا ہے چینیوں کا پسندیدہ ہے اسے وہ “شہباز سپیڈ”کہتے ہیں۔
چینی اس وقت دنیا کی مالیاتی سپر پاور ہیں ۔سی پیک کی محافظ تینوں سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن ،پیپلز پارٹی اور جمعیت علما اسلام اس وقت اقتدار میں ہیں ۔سی پیک کو نقصان پہنچانے والی سابق حکومت جس نے چار سال تک ائر پورٹ تک میٹرو بس تک نہیں چلائی شہباز شریف نے چار دن میں چلا کر چینیوں کو پیغام دے دیا ہے ۔
اس حوالے سے اتنا کہنا ہی کافی ہے پاکستان تحریک انصاف اور اسکے چیئرمین عمران خاں کی تمام تر تیزیاں اور فوری طور پر انتخابات کے انعقاد کی خوائش صرف لیے ہے کہ الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ کا فیصلہ رکوایا جا سکے۔ دوبارہ متخب ہوکر نئے آرمی چیف کا تقرر اپنے قلم سے کر سکوں لیکن فیصلے ہو چکے ہیں اور خاں صاحب کیفیت تو آخر شب کے چراغ سی ہیں جو بجھنے سے پہلے خوب پھڑپھڑاتا ہے۔
ایک ہی موضوع زیر بحث ہے۔ کہ “کیا ہوچکا ہے اور آئندہ کیا ہونے والا ہے” یہ سوال کرنے والے ہر پاکستانی کے کان ایساجواب سننے کے منتظر ہوتے ہیں جس سے اس کی روح اور قکب کو تسکین ملے۔ وہ ہر گز ایسا جواب سننے پر آمادہ نہیں ہوتا جس اسکی رائے مطابقت نہ رکھتا ہو۔
جب سےہماری سیاست میں مستقل مزاجی کی جگہ ابن الوقتی منسد نشین ہوئی ہے اخلاقیات اور اپنی روایات کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ چند دن قبل ہی مطالعہ کے دوران نظر سے گزرا کہ
” آج سیاست اور میڈیا میں ابن الوقت جو کچھ کررہ ہیں اسکی تصویر دیکھنی ہے تو موپساں کاناول” بل امی ” پڑھ لیں۔ ناول 1885 عیسوی میں شایع ہوا تھا۔جب فرانس میں پرانی اشرافیہ کی جگہ سرمایہ دار طبقہ طاقت پکڑ رہاتھا ۔اثر ورسوخ اور سیاسی قوت کے حصول کے لئے اخلاقیات تج دی گئ تھی۔یہ طبقہ جائیداد کے ساتھ اخبارات کی ملکیت اور صحافت کو کس طرح استعمال کرتاہے ناول میں پڑھا جاسکتا ہے اور آج پاکستان میں ایسے” بل امیوں”(مرکزی کردار ) کو پہچانا جاسکتاہے” “
” ’قوموں کے عروج و زوال کی کم از کم پانچ سو سالہ تاریخ تو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کبھی ایک بار بھی الیٹ گروہوں سے نجات اور خود مختار سیاسی اور معاشی اداروں کے قیام کے بغیر کوئی ایک ملک م بھی دیر پا ترقی کی منزل نہیں پا سکا۔‘ ”
جب ہر چیز خریدی جاسکے تو مال خرچ کرکے اہل مال ںظام کو خراب
کردیئے ہیں۔۔۔ تعلیم برائے فروخت، کالج نہ جائیں ٹیوشن سینٹر عدالت نہ جائیں مہنگا وکیل یا جج کرائے پر لیں ، اچھے جم، بیوٹی پارلر اسپتال جائیں اور صحت خرید لیں، بجلی پانی دیگر سہولتیں ، اپنا حفاظتی انتظامات کرلیں ۔۔۔۔ اور اگر پیسہ غیر قانونی ہے تو ضمانت قبل از گرفتاری بھی کروالیں۔۔۔۔ بیگم بچوں اور خاندان کو باہر ملک میں چھوڑدیں۔۔۔۔ اداروں کے نظام ، قانونی کی گلیوں ، عدالتی فیصلوں سب کو خرید کرلیں۔۔۔
بات کہاں سے کہا جا پہنچی ۔۔۔۔ بات ہو رہی تھی کیا ہو چکا ہے اور آئندہ کیا ہونے والا ہے اس سوال کا میرے پاس جواب یہ ہے کہ 2018 کے انتخابات سے قبل ہی امطاقت کے مراکز نے طے کر لیا تھا کہ اقتدار نہ مسلم لیگ نواز کو ملے گا اور نہ ہی پیپلزپارٹی کو مسند پر بٹھایا جائے گا اور یہ بات مسلم لیگ کے شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی بتا اور سمجھا دی گئی تھی۔ جس کا اظہار 2018 کے انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران دونوں پارٹیوں کی لیڈر شپ نے اپنی باڈی لینگویج سے کر دیا تھا۔ مطلب دونوں پارٹیوں کی قیادت نے انتخابات میں کی جانے والی پولیٹیکل انجینیئرنگ کو قبول کرلیا تھا۔
ہاکستان تحریک انصاف کو ریاستی اداروں کی مکمل حمایت کا اس سے بڑھ کر اور ثبوت ہو سکتا ہے کہ ان اداروں نے گزشتہ چالیس سالوں میں ایکبار بھی پیپلز پارٹی کو پنجاب میں اقتدار کی راہداریوں تک نہیں جانےدیا بلکہ چالیس کی محنت کرکے پی پی پی کو پنجاب سے دیس نکالا دینے میں کامیاب ہوئے۔ لیکن تحریک انصاف کو پہلی مرتبہ ہی پنجاب اور خیبر ہختونخوا حکومتیں طشتری میں رکھ پیش کی گئیں۔
اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خاں صاحب بہت ہی غصہ میں ہیں اس غصے نے ان کے چہرے پر سے مسکراہٹ اور حس لطفت چھین لی ہے۔ خاں صاحب فوری طور پر انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں وہ ایسا کیوں چاہتے ہیں وہ ایسا اس لیے چاہتے ہیں کہ اس وقت عوام انکی بات سن رہی ہے اور کچھ کر گزرنے کے موڈ میں بھی ہے اور یہی وقت ہے کہ اپنے مقاصد کے حصول کے کیے اس دباو کو استعمال کرکے بقول انکے امپورٹڈ حکومت اوران کے سرپرستوں کو فوری انتخابات کرانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
الیکشن کے فوری انعقاد
جس طرح کپتان ایوان اقتدار سے رخصت ہوئے ہیں ایسا کبھی انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ انکا پختہ خیال بلکہ انہیں یقین تھا کہ ہمارے ادارے اب پیپلز ہارٹی اور مسلم لیگ نواز کو تاحیات اقتدار کے نذدیک نہیں پھٹکنے دیں گے اب انکی پہلی اور آخری چوائس وہ ہی ہیں لہذ ا اداروں کو جس طرح مرضی ذلیل کروں کوئی انکا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا ۔
شیخ رشید احمد کسی غلط فہمی میں نہ رہیں اور نہ ہی اپنے اتحادی عمران خاں کو غلط فہمی میں رکھیں اس ملک میں ذوالفقار علی بھٹو جیسے ذہین فطین ہوشیار چالاک شخص کو منظر سے غائب کردیا گیا کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ عمران خاں اور آپ جیسے تیسرے چوتھے درجے کے لوگوں کے جیل جانے یا خانہ جنگی کرانے کی جستجومیں اس دنیا سے رخصت ہونے کی صورت میں بھی کچھ نہیں ہوگا۔ اول تو اس کی نوبت ہی نہیں آئے گی کیونکہ آپ سب نے گیٹ نمبر 4 پر قطار لگا لینی ہے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے ” اچھے بچوں ” کی طرح رہنے کی یقین دہانی کروا دینی ہے وہ بھی اسٹیپ پیپرز پر۔
بزبان شاعر
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
ذرائع کا کہنا ہےکہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے عمران خان کی تقریر کا اسکرپٹ الیکشن کمیشن کو فراہم کردیا ہے جو کمیشن کو موصول بھی ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے عمران خان کی تقریر کا جائزہ لینے کے لیے پیمرا نے عمران خاں کی تقاریر کے اسکرپٹ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فراہم کردیئے ہیں۔ لگتا ہے اب تحریک انصاف کے لیے برہ خنروم کا وقت پوا چاہتا ہے۔ منخرف ارکاکیم کئ خلاف ریفرنس مسترد ہوگیا ہے۔ ممنوعہ فنڈنگ کیس بھی منطقی انجام کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے













