مریم نواز شریف نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ میں متفرق درخواست دائر کر دی

0
1226

مریم نواز شریف نے کہا ہے پی ٹی آئی کو اپنی دستاویزات اور الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت دینا ہونگے، پی ٹی آئی کی دستاویزات غیر قانونی ہیں، یہ بات دوران سماعت ثابت کرونگی۔

مریم نواز شریف نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ میں متفرق درخواست دائر کر دی۔ عدالت نے درخواست کے ساتھ منسلک مریم نواز کا تحریری بیان دستخط نہ ہونے پر واپس کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آج مریم نواز کے دستخط کے بعد بیان دوبارہ جمع کرایا جائے گا۔

شاہد حامد ایڈووکیٹ کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی متفرق درخواست میں مریم نواز کا موقف ہے کہ کومبر کمپنی سے کبھی کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں کیا،ایف آئی اے اور موزیک فونسیکا کے درمیان مبینہ طور پر خط وکتابت میں کبھی شامل نہیں رہی۔

متفرق درخواست میں مریم نواز کا کہنا ہے کہ حسین نواز نیلسن اور نیسکول کمپنیوں کے حقیقی مالک ہیں، درخواست گزار نے ان پر جھوٹے الزامات لگائے ہیں اور ان کی طرف سے پیش کی گئی دستاویزات نہ صرف غلط ہیں بلکہ انکی کوئی قانونی حیثیت بھی نہیں۔

مریم نواز کا درخواست میں کہنا ہے کہ حسین نواز ان کا بڑا بھائی ہے اور انہیں بہت عزیز ہے، حسین نواز اپنے مرحوم دادا کو بھی بہت عزیز رہے، حسین نواز نے دو شادیاں کی ہیں، ان کی بیگمات مختلف قومیتوں کی حامل ہیں، پہلی شادی سے چار دوسری سے تین بچے ہیں۔

درخواست کے مطابق انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی طرف سے پیش کی گئی دستاویزات پر مزید اعتراضات اٹھانے کا قانونی حق محفوظ رکھتی ہوں اور ان دستاویزات کو کیس کی سماعت کے دوران غلط ثابت کروں گی

ادھر مکمل کرتے ہوئے وزیراعظم کو عدالت بلانے کی درخواست کی جس پر عدالت نےکہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو نواز شریف کو بلائیں گے ورنہ نہیں۔

سپریم کورٹ میںپانامالیکس سے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربینچ کررہا ہے ۔

جماعت اسلامی کے معاون وکیل احسن الدین نے موقف پیش کیا کہ تمام ثبوت آگئے ہیں اب عدالت کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے۔

اس پرعدالت نے پوچھاسارے ثبوت کون سے ہیں؟ انہیں ثبوت نہیں میٹریل کہہ سکتےہیں، قانون شہادت کےتحت مواد پرکھ کرمعلوم ہو کہ اسکابڑاحصہ فارغ ہےتو پھرکیاہوگا۔

جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے کہا کہ گہرا شک ہے کہ دبئی مل کی فروخت سے لندن فلیٹس خریدے گئے۔

اس پرجسٹس آصف سعید کھوسہ نےسوال کیا کہ شک کا فائدہ کس کو جاتا ہے؟

توفیق آصف نے کہا کہ نوازشریف کوعدالت بلا کر الزامات کا جواب طلب کیا جائے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو نواز شریف کو بلائیں گے ورنہ نہیں

SHARE

LEAVE A REPLY