مارچ ملتوی کرنے کیلئے خط لکھنے کا معاملہ، شوکت یوسفزئی اپنے خلاف ٹرولنگ پر لائیو شو میں رو پڑے

0
784

پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی لانگ مارچ ملتوی کرنے کے حوالے سے پارٹی قیادت کو لکھے گئے خط کے بعد سوشل میڈیا ٹرولنگ اور پارٹی رویے پر لائیو شو کے دوران رو پڑے۔

جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا سینئر پارٹی ممبر ہونے کے ناطے میں نے خدشے کا اظہار کیا تھا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے میرے خط سے متعلق جو کہا وہ مجھے برا لگا، مجھے سہیل آفریدی سے اس بات کی توقع نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے جب 4 اکتوبر کو مارچ کا اعلان کیا، میں نے کہا سب سے پہلے میں ہوں گا، میرے خلاف سوشل میڈیا پر جو زبان استعمال ہوئی اس پر مجھے افسوس ہے، 9 مئی کے بعد جتنے لوگ پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں انھوں نے سخت وقت دیکھا۔

شوکت یوسفزئی پروگرام میں اپنے اوپر لگنے والے الزامات پر بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ مجھ پر شک کیا جا رہا ہے کہ میں بک گیا ہوں، میں اصول کی بات کرتا ہوں، مجھے کس چیز کا ڈر اور خوف نہیں، میں نے سہیل آفریدی کا دفاع کیا کہ وہ دہشت گردوں کے سہولت کار نہیں۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا 26 نومبر احتجاج کے دوران بھی میں نے اس قسم کے خدشات کا اظہار کیا تھا، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی وجہ سے پارٹی کو نقصان ہو رہا ہے، یہ بے غیرت ہیں، میرے پارٹی چھوڑنے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ پہلےکہا جاتا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسمگلرز کا سہولت کار ہے، اس کے بعدکہا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا دہشت گردوں کا سہولت کار ہے، وفاقی حکومت کا کہنا ہےکہ خیبرپختونخوا کی کارکردگی ٹھیک نہیں، وفاقی حکومت اپنی اداؤں پر بھی غور کرے، وفاقی حکومت کی اپنی کارکردگی صفر ہے۔

شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ شہبازشریف حکومت نے پچاس ہزار ارب کا قرضہ لیا ہے، وفاقی حکومت دہشت گردی کے خاتمےکے لیےکیا چاہتی ہے جس میں خیبرپختونخوا حکومت رکاوٹ ہے؟ خیبرپختونخوا میں آئینی مشینری کام کر رہی ہے، آئینی مشینری جب رک جاتی ہے تب گورنر راج کی بات ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے اعلان کے بعد خیبرپختونخوا حکومت کو ہٹانےکا بیانیہ بنایا جا رہا ہے، وفاقی حکومت کو لانگ مارچ کا خوف ہے اس لیے خیبرپختونخوا حکومت کو ہٹانے کی باتیں کی جارہی ہیں،کون وزیراعلیٰ چاہےگا کہ اس کے دور میں زیادہ دہشت گردی ہو؟

SHARE

LEAVE A REPLY