سان فرانسسکو میں قائم ’نویں سرکٹ کورٹ آف اپیلز‘ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلمان اکثریتی ملکوں کے تارکینِ وطن پر پابندی کے حکم نامے پر ماتحت عدالت کی عبوری معطلی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا ہے۔
تین ارکان پر مشتمل اپیلز عدالت نے اس ہفتے کے اوائل میں اس معاملے پر زبانی دلائل سنے تھے، اور جمعرات کی شام گئے اپنا فیصلہ سنایا۔
متوقع طور پر اب امریکی عدالتِ عظمیٰ مقدمے کا حتمی فیصلہ کرے گی۔
گذشتہ ہفتے، امریکی ضلعی عدالت کے جج، جیمز روبرٹ نے ٹرمپ کے انتظامی حکم نامے پر عبوری حکمِ امتناع جاری کیا تھا۔
اِس پر، صدر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں برہمی کا اظہار کیا کرتے ہوئے، اُنھیں ’’خودساختہ جج‘‘ قرار دیا تھا، جس نے، بقول اُن کے، ’’بیکار‘‘ فیصلہ دیا ہے، جس کی نتیجے میں، ’’بہت سارے خراب اور خطرناک افراد کو ملک میں داخل ہونے کی‘‘ اجازت ہوگی۔













