پاناما عمل درآمد کیس،تیسری سماعت کل جمعرات تک کیلئے ملتوی

0
165

سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پر پاناما عمل درآمد کیس کی تیسری سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ وزیراعظم خود کسی بھی پراپرٹی کے مالک ہیں،ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا کیس میں کوئی شواہد ہیں جو وزیراعظم کو معاملے سے منسلک کرتے ہیں۔

جے آئی ٹی رپورٹ پر پاناما عمل درآمد کیس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے 2001-02تک کے گوشوارے فراہم نہ کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔

آج ہونے والی سماعت میں وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل مکمل کر لیے۔

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ لندن فلیٹس کے لیے کب اور کس نےادائیگی کی؟ فنڈز سعودی عرب، دبئی یا قطر میں تھے، سوال یہ ہے کہ فنڈر کیسے لندن پہنچے، میاں شریف نے فنڈز کہاں سے اور کیسے منتقل کیے، یہ جواب مل جائے تو بات ختم ہو جائے گی۔

سماعت میں جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ جے آئی ٹی نے معلوم کرایا کہ مریم نواز نیلسن اور نیسکول کی بینیفشل مالک ہیں، باہمی قانونی معاونت سے بھی یہی بات ثابت ہوئی۔

وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ شریف فیملی نےگوشواروں کی صورت میں آمدن اور اثاثوں کی تفصیلات جمع کرادی ہیں، وزیراعظم سے کسی اثاثے کے بارے میں سوال نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں پیشی تک اور کوئی اثاثہ تھا ہی نہیں۔ جے آئی ٹی کے پاس کچھ ہوتا تو سوال ضرور کرتی، وزیراعظم کے رشتہ داروں نے کوئی جائیداد نہ چھپائی نہ وزیراعظم کی کوئی بے نامی جائیداد ہے۔

دوران سماعت وکیل خواجہ حارث نے وزیراعظم کا جے آئی ٹی کو دیا گیا بیان بھی پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے دلائل کے دوران نیب سیکشن کی شق 5 اے کا حوالہ بھی دیا جس کی رو سے نیب قوانین کےمطابق شوہر یا والد کو بیوی بچوں کےنام اثاثوں کاذمہ دارنہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

سماعت میں جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ قانون میں اس شخص کا بھی ذکر ہے جس کے قبضے میں اثاثہ ہو۔ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ اثاثے جس کے زیر استعمال ہوں وہ بھی بے نامی دار ہو سکتا ہے۔
جسٹس عظمت کے کہا کہ کیاآپ کہناچاہ رہےہیں کہ دوسرے کے گھر کچھ عرصہ رہنے والا ملزم نہیں بن سکتے؟زیر استعمال ہونا اور بات ہے، اثاثہ سے فائدہ اٹھاناالگ بات ہے۔ان کا کہناتھا کہ آپکے مطابق کسی کے گھر رہنے والے پر نیب قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔
جسٹس اعجاز افضل کے کہا کہ مہینوں سے سن رہے ہیں، فلیٹ ملکیت کے علاوہ ساری چیزیں واضح ہیں، اس کیس میں سوال 1993 سے اثاثے زیر استعمال ہونے کاہے۔

وکیل خواجہ حارث کے عدالت کو بتایاکہ کیس کی نوعیت مختلف ہے، اثاثہ وزیر اعظم کے نام نہیں، جس پر جسٹس اعجاز افضل کے کہا کہ اس کیس کے تمام پہلو ہم پر واضح ہیں۔اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ وزیراعظم خود کسی بھی پراپرٹی کے مالک ہیں۔
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سیاق و سباق سے ہٹ کر بنائی ہے جس میں قانونی تقاضوں کو سامنے نہیں رکھا گیا اور اس میں وزیراعظم کے بے نامی اثاثوں کا کوئی ثبوت نہیں۔
خواجہ حارث نے کہا کہ لندن فلیٹ کے مالک کا نام سامنے آچکا ہے، ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں کہ وزیراعظم لندن فلیٹس کے مالک ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سوال یہ تھا کہ پراپرٹی کب خریدی گئی، فنڈ کہاں سے آئے، کہاں گئے؟ وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ سب کی منی ٹریل دیں گے مگر انہوں نے ابھی تک یہ جواب نہیں دیا ۔
خواجہ حارث کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے یہ نہیں کہا کہ وزیراعظم کے ایما پر کسی نے پراپرٹی خریدی، بے نامی کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کے نام پراپرٹی رکھنا۔

SHARE

LEAVE A REPLY