اسکی خواہش ہے محبت کا میں نوحہ لکھوں
اور پھر گہرے سمندر کو بھی پیاسا لکھوں
آج سوچا ہے لکھوں ایک غزل اس کے لیئے
اور غزل میں بھی محبت ہی کی چرچا لکھوں
اس شش و پنج میں گزرے ہیں کئی روز مرے
لکھوں منزل یا اسے گم شدہ رستہ لکھوں
میں جو خود اپنے نقائص ہوں بتاتا سب کو
کیسے ممکن ہے رُکے پانی کو دریا لکھوں
اس سے ملنے کی طلب کا یہ نتیجہ نکلا
میرے بس میں ہو تو امروز کو فردا لکھوں
جسکو دیکھا ہی نہیں دل کی نگاہوں سے کبھی
کیسے اس شخص کا بتلاؤ سراپا لکھوں
فیصلہ آج بھی صفدر نہیں ہوتا مجھ سے
اسکو امید لکھوں پھر یا تمنا لکھوں
صفدر ھمدانی













