فیصلہ آج بھی صفدر نہیں ہوتا مجھ سے

0
111

اسکی خواہش ہے محبت کا میں نوحہ لکھوں
اور پھر گہرے سمندر کو بھی پیاسا لکھوں

آج سوچا ہے لکھوں ایک غزل اس کے لیئے
اور غزل میں بھی محبت ہی کی چرچا لکھوں

اس شش و پنج میں گزرے ہیں کئی روز مرے
لکھوں منزل یا اسے گم شدہ رستہ لکھوں

میں جو خود اپنے نقائص ہوں بتاتا سب کو
کیسے ممکن ہے رُکے پانی کو دریا لکھوں

اس سے ملنے کی طلب کا یہ نتیجہ نکلا
میرے بس میں ہو تو امروز کو فردا لکھوں

جسکو دیکھا ہی نہیں دل کی نگاہوں سے کبھی
کیسے اس شخص کا بتلاؤ سراپا لکھوں

فیصلہ آج بھی صفدر نہیں ہوتا مجھ سے
اسکو امید لکھوں پھر یا تمنا لکھوں

صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY