خبردار نے کھوج لگا کر علی بابا اورچالیس چوروں کی ایک دوسری واردات معلوم کی ہے ۔۔علی بابا کے ان چار مستری چوروں(جن میں ہرایک دس چوروں کے برابر ہے) نے علی بابا کی ایماءپر ریڈیو پاکستان اسلام آباد صدر دفتر کے بنیادی ڈھانچے یعنی انفرا سٹرکچر میں تبدیلی کے نام پر 8 کروڑ 70 لاکھ روپوں کے عوض اس اکھاڑ بچھاڑ کا کام سرانجام دینے کا پروپوزل بنایا ہے ۔۔۔

خبردار کے ذہن میں پہلا سوال تو یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا اس اکھاڑ پچھاڑ سے پہلے ریڈیو پاکستان فعال نہ تھا. کیا تمام دفتری اورنشریاتی سرگرمیاں ماند پڑ گئ تھیں؟؟؟دوم یہ کہ اس معمولی سی اکھاڑ پچھاڑ پر اٹھنے والی اس خطیر رقم سے حکامِ بالا کی جیبیں کتنے روپوں میں گرم ہوں گی اور کونسی مقتدر ہستی زیادہ مستفید ہوگی ۔۔یاد رہے کہ تادم تحریر جبیب بنک میں ریڈیوکے حاضرسروس ملازمین اور پینشنر اکاؤنٹ ہولڈرز کو نہ تو ماہانہ تنخواہ ملی ہے اور نہ ہی پینشنرز کو فروری تا مارچ پینشن ملی حالانکہ نیشنل بنک کے حالات یکسر اس کے برعکس ہیں جمعہ 14 اپریل کو دو ماہ کی رکی ہوئی پینشن اورحاضر سروس ملازمین کو ماہ مارچ میں ملنے والی تنخواہ ادا کی جاچکی ہے۔۔
اب اگر خبردار یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ علی بابا حبیب بنک لمیٹیڈ فارن آفس برانچ اسلام آباد کے مینجر کی ملی بھگت سے بنک میں رکی ہوئی خطیر رقم پر وصول ہونے والے سود میں حصہ دار ہے ،تو بے جا نہ ہوگا ۔۔خبردار کو سننے میں پڑھنے میں یہ خبر بھی پہنچی کہ علی بابا اور ایمپلائز یونین یو ایس او والے بھی،جو کبھی علی بابا کے ہمنوا ہم پیالہ اور ہمنوالہ تھے کھلی کچہری کا اہتمام کیا جس میں ملازمین کی جانب سے پیسے ہونے کے باوجود ترسا ترسا کر تنخواہیں اور پینشن دینے اور ڈیڑھ ماہ لیٹ کرنے پر شدید رنج غم کا اظہار کیا گیا

جس پر سی بی اے یونین کے کور کمیٹی نے فوری احتجاج کا فیصلہ کیا اور موقف اختیار کیا کہ ڈی جی ریڈیو جناب طاہرحسن متعدد غیر ادارہ جاتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جس سے ریڈیو پاکستان کوشدید نقصان ہو رہا ہے۔ اور ریڈیو پاکستان کے انفراسٹرکچر کے اندر توڑ پھوڑ کوئی خاطر خواہ فوائد نہیں دے رہی بلکہ سوائے اخراجات بڑھانے اور پیسے کے بے تحاشہ استعمال کو پوائنٹ آؤٹ کیا گیا اس موقع پر اسی یونین کے وڈے چودھری نے جانے انجانے میں یہ راز بھی نگل دیا کہ توڑپھوڑ اور اکھاڑ پچھاڑ کے نام پر 8کروڑ 70 لاکھ کی رقم وزیر اطلاعات ونشریات کی زیرتعمیرکوٹھی کے سلسلے میں وزیر موصوفہ کو نذرانے کے طور پر دینی ہے اس موقع پر گو ڈی جی گو کے فلک شگاف نعرے بھی شاہراہِ دستور کی فضاؤں میں گونجے۔۔۔لو جی کرلو گہل۔۔۔خبردار کی خبرداریاں فی الحال یہیں تک ۔۔۔بشرط زندگی ، اگلی خبرداریوں تک ، اللہ ہی حافظ۔














بہترین تحریر لیکن بہت سے افسوسناک پہلو لیئے ہوئے۔
ریڈیو پاکستان کی تباہی کا انتظام کیا جا رہا ہے مسلسل
یہ تباہ کاریاں کب تک۔۔۔اللّہ کی پناہ۔۔ظالموں کاحِساب ہو گا۔۔ خالِداصغر۔۔