پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 874 نئے مریضوں کی تصدیق۔ کیسز کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ خیبر پختونخوا کے بعد پنجاب اور سندھ میں بھی مرنے والوں کی تعداد 100 تک پہنچ گئی۔
کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 15758 اور اموات کی تعداد 346 تک پہنچ گئی ہے۔
خیبرپختونخوا کے بعد پنجاب اور سندھ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 100 ہو گئی ہے۔
امریکہ نے پہلی بار پاکستان کو براہ راست پروازیں چلانے کی اجازت دے دی ہے۔
خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوبے میں کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے تحت خاندان کے سربراہ کو پابند کیا جائے گا کہ زیر کفالت افراد میں کسی کو بھی اگر وبائی مرض لاحق ہوا تو وہ انتظامیہ کو آگاہ کرنے کا پابند ہو گا۔
خیبر پختونخوا کی کابینہ کا اجلاس وزیرِ اعلیٰ محمُود خان کی زیرِ صدارت میں جمعرات کو ہوا۔ اجلاس میں حالیہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں لاک ڈاؤن میں میں بعض اداروں کی تعطیل میں 15 مئی تک توسیع کی گئی جب کہ کابینہ نے کرونا ریلیف آرڈیننس کی بھی منظوری دی۔
اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کو تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے کہا کہ کابینہ نے آرڈیننس کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے خاندان کے سربراہان کو زیر کفالت افراد کے متاثر ہونے کی صورت میں اطلاع دینے کا پابند کیا جائے گا جب کہ آرڈیننس کی خلاف ورزی پر سزائیں اور جرمانے بھی تجویز کیے گئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس میں صوبے کے مختلف علاقوں میں مویشی منڈیاں کھولنے پر اتفاق ہوا۔ اجلاس میں دودھ کی دکانیں 4 بجے کے بعد بھی کھلی رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ریسٹورنٹس اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس تاحکم ثانی بندرہیں گے۔ تمام سیاحتی مقامات تاحکم ثانی بند رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے کرونا سے ہلاک ہونے والے فرنٹ لائن ورکرز یعنی طبی عملے وغیرہ کے لیے 70لاکھ روپے کے پیکج کی بھی منظوری دی۔
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ چھ ہزار سے زائد فیس وصول کرنے والے تعلیمی ادارے فیسوں میں 20 فی صد رعایت دیں گے جبکہ چھ ہزار سے کم فیس وصول کرنے والے 10 فی صد رعایت دیں گے۔
اجلاس میں طے پایا کہ مالک کرایہ دار کو کرائے کی عدم ادائیگی کی صورت میں تین ماہ تک کے لیے بے دخل نہیں کر سکے گا۔













