٭ پاکستان کے مشہور اداکار ادیب 4 اکتوبر 1928ء کو بمبئی میں پیدا ہوئے تھے

0
670

وقار زیدی

شاہد آفریدی
٭4 اکتوبر 1996ء کو نیروبی میں چار قومی ٹورنامنٹ کے ایک اہم میچ میں سری لنکا کے خلاف کھیلتے ہوئے پاکستان کے 16 سالہ آل رائونڈر شاہد خان آفریدی نے 37 گیندوں پر 102 رنز اسکور کرکے ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کے اس اسکور میں گیارہ چھکے اور چار چوکے شامل تھے۔
اس چار قومی کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستان کے علاوہ جنوبی افریقہ، سری لنکا اور کینیا نے حصہ لیاتھا۔
شاہد آفریدی سے پہلے ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں تیز ترین سنچری کا ریکارڈ سری لنکا کے جے سوریا کا تھا جنہوں نے اپریل 1996ء میں سنگر کپ میں پاکستان کے خلاف 48 گیندوں پر سنچری بنائی تھی۔ شاہد آفریدی نے اپنے اسکور میں گیارہ چھکے مار کر ایک میچ میں سب سے زیادہ چھکوں کا جے سوریا کا ریکارڈ برابر کردیا، البتہ وہ ایک گیندکے فرق سے تیز ترین نصف سنچری کا ریکارڈ نہ بنا سکے جو جے سوریا نے صرف 17 گیندوں پر 50 رنز بناکر قائم کیا تھا۔
ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں دنیا کی تیز ترین سنچری بنانے کاشاہد خان آفریدی کا یہ ریکارڈ آج بھی برقرار ہے۔

اداکار ادیب
٭ پاکستان کے مشہور اداکار ادیب 4 اکتوبر 1928ء کو بمبئی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام مظفر علی تھا ۔
ادیب نے اپنے فنکارانہ زندگی کا آغاز ایک تھیٹر کمپنی سے بطور مصنف کیا پھر انہیں پرتھوی راج کپور کے ساتھ انڈین نیشنل تھیٹر میں کام کرنے کا موقع ملا بعدازاں انہوں نے دس سے زیادہ بھارتی فلموں میں کام کیا۔ 1962ء میں وہ پاکستان آگئے اور یہاں ہدایت کار اقبال یوسف کی فلم دال میں کالا سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا۔ ادیب نے 500 سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ وہ کاسٹیوم فلموں اور فیچر فلموں میں کام کرنے میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔ فیچر فلموں میں سے بیشتر میں انہوں نے ولن کا کردار ادا کیا تھا۔
26 مئی 2006ء کو اداکار ادیب وفات پاگئے۔

سجاد باقر رضوی
٭ اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد، مترجم اور ماہر تعلیم ڈاکٹر سجاد باقر رضوی 4 اکتوبر 1928ء کو پھول پور ضلع اعظم گڑھ (یوپی) میں پیدا ہوئے تھے۔
قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلے کراچی میں قیام اختیار کیا اور کراچی یونیورسٹی سے بی اے آنرز اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں پھر انہوں نے اسی یونیورسٹی سے اردو میں پی ایچ ڈی بھی کیا بعدازاں وہ لاہور منتقل ہوگئے جہاں وہ اسلامیہ کالج سول لائنز اور اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔
ڈاکٹر سجاد باقر رضوی کا شمار اردو کے ترقی پسند نقادوں میں ہوتا ہے اور ان کی تنقیدی کتب مغرب کے تنقیدی اصول اور تہذیب و تخلیق اردو تنقید کی اہم کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ’’تیشۂ لفظ‘‘ اور ’’جوئے معانی‘‘ شامل ہیں جبکہ ان کے تراجم میں داستان مغلیہ، افتاد گان خاک، حضرت بلال اور بدلتی دنیا کے تقاضے کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پی ایچ ڈی کا مقالہ طنز و مزاح کے نظریاتی مباحث اور کلاسیکی اردو شاعری 1857ء تک بھی اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔
٭13 اگست 1992ء کو اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد، مترجم اور ماہر تعلیم ڈاکٹر سجاد باقر رضوی لاہور میں وفات پاگئے۔
ڈاکٹر سجاد باقر رضوی لاہور میں ماڈل ٹائون کے جی بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY