ماہِ رمضان اورصلہ رحمی ۔۔شمس جیلانی

0
1490

 ہم سے قرآن میں یہ بھی فرمادیا گیا ہے کہ “ رحم کرو تاکہ تم پر رحم کیا جا ئے “ اور اس مہینے میں خصوصی طور پران کے بارے میں سلوک کرنے کی ہدایت فرمائی ہے جن کے ساتھ سلوک کرنا “ صلہ رحمی “ کہلاتا ہے۔ اور س پر یہاں تک تاکید کردی گئی ہے کہ جورشتہ توڑنا چاہیں ان سے تم رشتہ جوڑو اور یہ بھی فرمادیا کہ رشتہ توڑنے والے سے رشتہ جوڑ نے والا بہتر ہے۔ گزشتہ عشرے میں جو لفظ اور اس پورے نظام میں جو لفظ مشترک ہےوہ ہے “ رحم “ جس کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے لہذا اس کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم بھی اگر اس کی قربت چاہتے ہیں تواسے اپنے پورے کردار پر حاوی کرلیں اور ہمیشہ اپنا ئے رکھیں تو اسلام مثالی مذہب اور دنیا جنت بن جا ئے؟ کیونکہ یہ وصف ہے کہ تمام نہ صرف اصفیاء میں ملے گا بلکہ ماہ رمضان خود ماہ ِرحمت ہے، حضور(ص)“ رحمت اللعالمیں ہیں اوران کے صحابہ کرام (رض) کی قرآن میں تعریف یہ ہے کہ وہ آپس میں رحیم ہیں۔ حتیٰ کہ خود اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنی صفات میں رحمت کو اولیت دی ہے اور اپنے اوپر واجب کرلی ہے؟ تو اب اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ جو بھی یہ صفت اختیار کریگا اللہ سبحانہ تعالیٰ یقینا اس سے راضی ہوجا ئے گا۔ جبکہ اس کا الٹ ہے قطع رحمی یعنی ان رشتوں توڑنا جو اس قسم کے رشتہ دار ہیں جنہیں رحمی رشتوں کی بنا پر رشتہ دار کہا جاتا ہے؟ جو کہ ہمارے ہاں توڑنا روز کا معمول ہے۔ وہ بھی بات بات پر۔ بلکہ بعض اوقات توبلا بات کے بھی توڑدیتے ہیں ان میں سب سے بے وقعت سسرالی رشتہ دار ہیں جن کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ فرماکر اپنا احسان قرار دیا ہے کہ “ہم نے تمہیں سسرالی رشتہ دار عطا فرما ئے“ جبکہ ہم اس کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں اوراس سے ہم یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم پہ رحم فرما ئے گا؟ جبکہ وہ رشتہ توڑنے والوں سے اتنا ناراض ہوتا ہے۔ کہ حضور (ص) نے ایک حدیث میں یہاں تک فرمادیا کہ قطع رحمی کرنے والا جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا۔ جبکہ جنت کی خوشبو کے بارے میں دوسری احادیث میں ارشاد گرامی ہے کہ وہ لاکھوں میل کے فاصلہ سے مومن کی ناک کو معطر کر دیتی ہے؟لیکن ہم سب سے زیادہ لا پروائی انہیں رشتہ داروں کے ساتھ کرتے ہیں؟ کیونکہ اول تو حسد میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اللہ نے اس کو کیوں نوزا ہمیں کیوں نہیں دیا؟ جس کے بارے میں اللہ سبحانہ فرماتا ہے کہ کیا یہ میرے فیصلے سے ناخوش ہے جو حسد کرتا ہے؟ دوسرے اس کی مذمت متعدداحادیث میں بھی موجود ہے؟ تیسرے اپنے بھائی یابہن سے حسد کرکے آپکو حاصل کیا ہوگا سوائے نقصان کے؟ یہ آپ کسی بھی ماہرِ نفسیات سے جاکر پوچھ لیں کہ حسد کرنے والے کی اپنی نیندیں خراب ہوتی ہیں اور وہ آہستہ آہستہ اپنی صحت خراب کر بیٹھتا ہے، اسے دل کا عارضہ لا حق ہوجاتا ہے۔ جبکہ جس رشتہ دار سے وہ حسد کر تا ہے وہ بے خبر اور چین کی نیند سورہا ہوتا ہے۔ پھر قطع رحمی کرنا وہ گناہ ہے جس کی سزا اللہ سبحانہ تعالیٰ دنیا میں بھی کبھی کبھی دیدیتا ہے اور آخرت میں تو ملنا ہی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس ایک حدیث یہ بھی ہے کہ جو صلہ رحمی کرتا ہے؟ اس کی عمر بڑھ جاتی ہے؟ اور پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ صلہ رحمی کرنے والوں کو ہر نیکی کا جو وہ اپنے ایسے رشتہ داروں کے ساتھ کریں، تو دگنا ثواب ملتا ہے ؟تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ آپ ایسے رشتہ داروں کو جوکہ غریب ہیں زکات اور صدقات انہیں پہلے دیں پھر کچھ بچ جا ئے تو کسی دوسرےاور کو دیں۔ اوریہ بھی ضروری نہیں کہ اسے جتا کے دیں اور اس کی عزت نفس کو مجروح کریں؟ اور جب بھی کسی بات پر ناراض ہو جا ئیں توآپ اور آپ کے ا ہل خانہ اِ سے جتاکر اور طعنے دیکر اپناسارا ثواب ضائع کردیں۔ دوسرے کسی کے ہاتھ پھیلانے کا انتظار نہ کریں، بقول حضرت امام حسن ؓ کہ بہترین صدقہ دینا یہ ہے کہ جو کسی کے طلب کرنے سے پہلے اس کی حاجت پوری کردی جائے؟ جبکہ کسی حاجت مندکو دینے کا سب اچھا طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے دیں تو بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو؟ بدقستی سے یہ ہی شرط ہے جو اہم ہے وہی ہمیں سب کو صلہ رحمی سے روکتی ہے کہ ہمارے دل میں یہ دبی خواہش ہمیشہ موجود رہتی ہے کہ ہماری واہ واہ بھی ہو اور فنڈ ریزنگ جس مسجد یا ہال میں ہورہی ہو اس کے لاوڈ اسپیکر پراعلان بھی ہو کہ فلاں بھائی نے اتنے ہزار یا لاکھ دیئے ہیں اللہ قبول فرما ئے؟ جبکہ یہ آواز عموماًان پیشہ ور چندہ اکھٹا کرنے والوں میں سے کسی ایک کی ہوتی جنکا چندہ اکٹھا کرنا پیشہ ہے ؟ ان کا اس میں مفاد بھی ہوتاہے سوچئے کی بات یہ ہے کہ ایسوں کی دعا سے آپکو کیا ملے گا؟ غور کریں اس تمام معاملہ میں آپ کوحاصل کیاہوگا؟ جبکہ گزشتہ مضمون میں میں عرض کرچکاہوں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ صرف وہ مال قبول فرماتا ہے جو حلال کی کمائی میں سے ہو اور صرف اس کی ہی رضا کے لیے دیا جا ئے، یعنی دینے والا کو ئی اور مقصد نہ رکھتاہو ورنہ وہ اس کے منہ پر مار دیا جا ئے گا۔ لہذا دینے والوں کو ان تمام باتوں کا خیال رکھنا چاہیئے؟ تاکہ اس سے بچ سکیں کہ مالِ حلال خرچ بھی کریں اور فائیدہ بھی کچھ نہ ہو۔

SHARE

LEAVE A REPLY