پارلیمنٹ ربڑ سٹمپ بن چکی، پرامن سیاسی جدوجہد کے علاوہ کوئی راستہ نہیں:حافظ نعیم

0
776

حکومت اور جماعت اسلامی میں مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوگیا، حکومتی مذاکراتی ٹیم نے جماعت اسلامی کی کمیٹی سے ملاقات کی۔

حکومت کمیٹی میں وزیر اطلاعات عطا تارڑ، انجینئر امیر مقام، ڈاکٹر طارق فضل چودھری اور بدر شہباز شامل تھے، جماعت اسلامی نے فوری دھرنا ختم کرنے کی حکومتی درخواست مسترد کردی۔

عطا تارڑ نے حکومتی مذاکراتی ٹیم میں تبدیلی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر توانائی اویس لغاری ملک میں موجود نہیں، وہ چین گئے ہوئے ہیں۔

مہنگائی اور بھاری بجلی بلوں کیخلاف جماعت اسلامی کا راولپنڈی میں دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا، خواتین اور کارکنوں نے لیاقت باغ میں ڈیرے جمائے رکھے ہیں، مری روڈ کی بندش سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

……………………

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کام نہ کرے اور ربڑ سٹیمپ ہو تو پھر پرامن سیاسی جدوجہد کے علاوہ کوئی راستہ نہیں

راولپنڈی میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے تیسرے روز شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ کسی کی خواہش نہیں ہوتی کہ گھر چھوڑ کر راستوں پر بیٹھ جائے، احتجاج اور مزاحمت آئین و قانون کے مطابق ہے، ہم اپنی آواز بلند کرنے کیلئے دھرنا اور احتجاج کرسکتے ہیں، غریبوں کا جینا دوبھر کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کم ازکم تنخواہ 37 ہزار رکھی ہے، مجھے بجلی کے بلوں اور مہنگائی میں غریب کا گھر چلا کر دکھا دیں، بجلی کے بلوں کی ادائیگی کیلئے غریب آدمی یا تو چوری یا ڈاکہ ڈالے گا اور کیا کر سکتا ہے، میرے کارکنان عوام کی حق کی بات کرتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں تعلیم صرف چند لوگوں کیلئے رہ گئی ہے، بجلی کے بل پورے پاکستان کا مسئلہ ہے، بجلی کے بلوں میں ہمیں ہر صورت کمی چاہیے، بجلی کے بل شہریوں پر بم بن کر گررہے ہیں، ملک میں قرضوں سے جکڑا ہوا نظام ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پرامن سیاسی جدوجہد کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، تمام طبقات سے گزارش ہے کہ تحریک کا حصہ بن جائیں، چھوٹے گھروں میں رہنے والوں کو بجلی کے بل کرایے سے بھی زیادہ آتے ہیں، بھارت کے مقابلے پاکستان کے تنخواہ دار طبقے پر4گنا زیادہ ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:امیر جماعت اسلامی کا مطالبات نہ ماننے پر ڈی چوک اور پارلیمنٹ ہاؤس جانے کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے مطالبہ ہے ٹیکسز کا ظالمانہ نظام ختم کیا جائے، زرعی ترقی نہ ہونے کے برابر ہے،ملک کا کسان بے حال ہے، بڑے سرمایہ دار عوام کی قسمت کے فیصلے کررہے ہوتے ہیں، حکمران اپنے حق میں فیصلے کرتے ہیں اور پھر آئی پی پیز وجود میں آتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت دھرنے سے پہلے ہماری بات مان لیتی تو ہمیں یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی، جماعت اسلامی اب حکومت کی جان نہیں چھوڑے گی، اب حکومت کو 25کروڑ عوام کا حق دینا ہوگا، آج مذاکرات سے پہلے ہمارے تمام کارکنان کو رہا کیا جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY