ابھی یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ آسٹریلیا میں لگائی جانے والی ویکسین کتنی موثر ہوگی۔ ڈاکٹر کوئن کا کہنا ہے کہ ویکسین لگائے جانے کے دوران یہ اہم سوالات ہیں۔
” وائرس کے پھیلاو کے لئے ضروری ہے کہ وہ زیادہ تعداد میں موجود ہو جو کہ کسی دوسرے شخص کو لگ سکے۔ لیکن ابھی تک اس بارے میں کسی بھی کووڈ۔۱۹ ویکسین کی ریسرچ سامنے نہیں آئی۔
” ویکسین لگانے کے عمل کا چوتھا حصہ جسے فیز فور کہا جاتا ہے بہت اہم ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ویکسین کمیونٹی میں لگائی جارہی ہو اور لوگوں پر اس کا اثر بھی ہورہا ہو۔ لیکن اس افادیت کے عمل کے دوران خود وائرس اس سے کتنا تبدیل ہوجاتا ہے، یہ جاننا بھی ضروری ہے۔”
ویکسین لگنے کے بعد میں کب تک کرونا وائرس سے محفوظ رہوں گا؟
اس سوال کا جواب بھی اب تک سائنسدانوں کے پاس نہیں ہے، لیکن ابتدائی ٹرائلز کے نتائج مثبت آئے ہیں۔
ویکسین وائرس کا ایک بلُیو پرنٹ ہوتی ہے جو جسم میں داخل ہوکر اصلی وائرس کی طرح لگتی ہے اور جسم کا مدافعتی نظام اس سے لڑنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ جب آپ کے جسم میں اصلی وائرس داخل ہوتا ہے تو جسم اس سے لڑنے کے لئے پہلے ہی سے تیار ہوتا ہے۔
ڈاکٹر کوئن کا کہنا ہے کہ ویکسین کب تک موثر رہتی ہے وہ جسم کی مدافعتی قوت پر منحصر ہے۔
“ہمیں نہیں پتہ کہ ویکسین کی یادداشت کتنے عرصے تک جسم میں رہے گی، لیکن پچھلے آٹھ نو مہینے میں جن افراد کے ویکسین لگائی گئی ہے، ان کے جسم میں مدافعتی یادداشت برقرار رہی ہے۔”












