کوئی بھی مسئلہ ہو مگر ہم اسے متنازعہ ضرور بنا دیتے ہیں۔ لوگوں کو صحیح معلومات فرا ہم کرنے کے بجا ئے ہم الٹا کنفیوزڈ کر دیتے ہیں۔ کیونکہ ہر ایک اپنا چورن بیچنے کی فکر میں ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارے دین نے کوئی مسئلہ ایسا نہیں چھوڑا ہے جس پر بات نہ کی ہو، اس کا حل نہ بتایا ہو کیونکہ دین اسلام صرف مسلمانوں کے لیئے نہیں ہے بلکہ انسانیت کے لیئے ہے۔ اس لیئے کہ یہ ایک مکمل طریقہ حیات ہے جو مکمل حضور (ص) پہلے نہیں ہوا تھا نہ کسی نے اس سے پہلےدعویٰ کیا؟ جو اس پر عمل کریگا وہ مسلمان ہو یا نہ ہومگر اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے کہ قرآن شفع فی الناس بھی ہے اور شفع فی المونین بھی ہے۔ فرق یہ ہے کہ مومن ہے تو اسے دین اور دنیا دونوں ملیں گے ۔جبکہ اول الذکر کو صرف دنیا ملے گی۔ اس لیئے جو بھی اس سے فا ئدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا وہ بے شک اور شبہ فائدے میں ہی رہے گا۔ مثلا ً ایک کاشتکار اگر محنت نہیں کریگا تو چاہیں وہ کتنا ہی متقی کیوں نہ ہو؟ اپنے کھیت سے پیدا وار حاصل نہیں کرسکتا ہے۔ جو محنت کریگا وہ پیداوار بھی لےگا۔ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ جو چا ہے کرے؟ بے شک، ایسا ہی ہے مگر وہ بے عملی کی کسی کوترغیب نہیں دیتا۔ بلکہ یہ فرماتا ہے کہ “ میں روزی سب کو دیتا ہوں،مگر پرندوں کو بھی اپنے گھونسلوں سے اڑ کر جانا ہوتا ہے۔
اس کی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ جہاں ہم نے عمل نہیں کیا تو وہاں نقصان اٹھایا۔ جیسےاللہ! نے ہم سے فرمایاکہ “عدل قائم کرو، اور جہاں جس حیثیت میں بھی ہو اپنی بہترین صلاحیتیں استعمال کرو “جب تک ہم اس حکم پر عامل رہے اس وقت تک ہم دنیا کی ان دونوں معاملات رہنمائی کرتے رہے۔ مگر ان دونوں ہدایتوں کو بعد میں چھوڑ دینے کی وجہ سے ا نہیں میں بہت پیچھے چلے گئے۔ جبکہ میدان انہوں نے مارلیا جنہوں نے اس نصیحت کوہماری لا ئبریریوں سے لیکر اس پر عمل کیا؟ اوراب ہم شارٹ کٹ ڈھونڈتے پھرتے ہیں؟ بجا ئے اپنی بہترین صلا حیتیں کام میں لانے کے۔ جبکہ پورے عالم اسلام کی حالت عدل میں سب سے بد تر ہے۔ اس لیئے کہ ہمیں جس بات سے منع کیا گیا ہم وہی ہم کرتے ہیں جبکہ حضور ﷺ نےیہ سب کچھ عمل کرکے دکھادیا تھا؟یہ موضوع بہت طویل ہے اگر میں گناؤنگا تو آپ گنتے گنتے تھک جا ئیں گے؟
یہ ہی اس وقت کرونا وائرس کا معاملہ ہے۔ جو کہ آج سے نہیں صدیوں سے موجود تھا۔ اور عام طور پر جانوروں سے انسانوں کو منتقل ہوتا تھا جس میں پرندوں میں صرف چمگاڈر، گھریلوجوانوروں میں بہت سی نسلیں شامل تھیں مثلاً بلی اور اونٹ وغیرہ وغیرہ۔ چین میں حال میں جس قسم نے سر اٹھا یا ہے وہ نئی ہے اس کی ویکسین بھی نہیں ہے۔ اس میں سبقت عزرائیل نے لی ہے کہ وہ ایک سال کے اندر اس کا ویکسین تیار کر لیں گے؟اس کے علاوہ دوسرے یورپین ممالک میں سوا ئے امریکہ کہ کوئی اور ابھی تک میدان نہیں آیا ہے۔ کیونکہ یہ ایک دن کا کام نہیں ہے یہاں کسی کو بھی نئی دوا لانے کے لیئے بیس سال تک لگ جاتے ہیں۔ہماری ایک ارب اسی کروڑ آبادی کی طرف سے اس قسم کا کوئی ابھی تک دعویٰ سننے میں ابھی تک نہیں آیا۔ البتہ ان میں بہت عطائی بغیر تحقیق کہ اعلانات کر تے رہتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ اور ہر ایک یہ کہتا ملے گا کہ میرے پاس اس کا شرطیہ علاج ہے؟ ایک مرتبہ ایک حکیم جی نے مجھے وطن عزیز میں سڑک پر چلتے ہوئے دیکھ کرآواز دی! میں ان کے مطب میں گیا تو کہنے لگے کہ آپ کو تو شوگر کا مرض ہے؟ میں نے کہا جی ہاں! آپ نے درست فرما یا۔کہنے لگے میرے پاس اس کا شرطیہ علاج ہے۔میں نے پوچھا کہ اب تک کتنے مریضوں کو آپ ٹھیک کرچکیں ہیں، تاکہ میں کسی ایک سے ملکر تصدیق کرسکوں؟ کہنے کہ ٹھیک تو ابھی تک کوئی نہیں کیا !مگر نسخہ میرے پاس بہترین ہے جوکہ آباو اجداد سے چلا آرہا میں وہ کسی کو نہیں دیتا ہوں۔ آپ مجھے پردیسی لگے اس لیئے میں نے آواز دی ؟ جبکہ بغیر علم یاکم علموں کوجنہیں عرف عام میں( عطا ئی کہتے ہیں وہ بے حساب ہیں)۔ حالانکہ اسلام انہیں پریکٹس کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اگر ان سے کسی کی موت واقع ہوئی تو قاتل گردانا جا ئے گا؟ مگر ڈرتا کون ہے۔ جعلی حکیموں کی بھر مار ہے، جعلی ڈاکٹروں کی بھر مار ہے، حتیٰ کہ جعلی اسپتالوں کی بھی بھر مار ہے۔ اس کے علاوہ اس کار خیر میں بہت سے عامل، کامل اور جعلی پیر بھی (جن کی نظر بجا ئے قلب کے جیب پر ہوتی ہے کیونکہ دونوں میں فاصلہ بہت کم ہے) وہ سب شامل ہیں۔ سعود آباد (کراچی)میں ایک پیر صاحب پڑھا ہواگڑ دیتے تھے اور ایک صاحب حیدر آباد (پاکستان) میں چینی کی پڑیا دیتے تھے۔ انکی مقبولیت دیکھتے ہی دیکھتے اتنی بڑھی کہ شام تک پورا ٹرک ختم ہوجا تا ہے آخر میں انتظامی مسائل پیدا ہوئے۔ پھر نہیں معلوم ہوسکاکہ انکا کیا بنا۔ جبکہ چینی اس مرض میں زہر ہے۔
جبکہ اسلام نےآج سے چودہ سو سال پہلے اس کا حفظ ما تقدم عطا کردیا تھا جبکہ کوئی متعدی امراض کو جانتا تک نہیں تھا صرف ایک مرض طاعون تھا جو اس وقت عروج پر تھا جس کا کوئی علاج نہیں تھا اسلام نے اس کے حفظ ماتقدم کے طور پر حل یہ بتا یا کہ جو لو گ وہاں موجود ہیں وہ دوسری جگہ نہ جائیں اور باہر سے آنے والے وہاں نہ آئیں؟ اس کا عملی ذکرتاریخ میں موجود ہے کہ جب حضرت عمر (رض) مدینہ منورہ سے تشریف لائے اور موصل کے قریب پہنچے تو وہاں طاعون پھیلا ہوا تھا۔ ان کو جب یہ حدیث یاد دلائی گئی تو وہ آگے نہیں بڑھے واپس تشریف لے گئے۔ اور دوسرے جو کمانڈر انچیف تھے جنہیں دربار رسالت مابﷺ سےامین امت کا خطاب تھا اور عشرہ مبشرہ شامل تھے انکا نام تھا حضرت ابو عبیدہ بن جراح (رض) انہوں نے فوج کے ساتھ جان دینا پسند فرمایا مگر اس حدیث کی خلاف ورزی پسند نہیں فرمائی۔ جبکہ آج کا مسلمان کہہ رہا ہے ہمیں چین سے اپنے آدمیوں کوواپس لانا چاہیئے۔ وہ سب کو یاد ہیں کہ جلیل القدر صحابہ کرام ؓ میں سے تھے جبکہ یہ بھی مسلمان ہیں؟ مگر راستے الگ الگ ہیں۔ علماء نے بھی فتوے کسی نہ کسی طرح حمایت میں دیدئے ہیں۔ کہ رواداری بھی تو کوئی چیز ہے؟
آئیے حفظ ِ ماتقدم پر عمل کی طرف پہلی حدیث تو ہم نے بیان کردی مگر اس پر قرآن بھی خاموش نہیں ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ “جو تم پر حلال کردیا گیا ہے وہ کھاؤ اور جو حرام کردیا گیا ہی اس سے بچو! آگے ایک شرط دوسری آیت میں اور بھی لگادی ہے کہ “وہ چیز کھاؤ جو طیب بھی ہو“ یعنی کسی وجہ سے ناقابل ِ استعمال نہ ہو گئی وہ بھی مت کھاؤ؟ مگر ہم کیا کرتے ہیں۔ پرندوں کھائے پھل ممکن ہے کسی چمگادڑ ہی کھایا ہو؟ سستے داموں خرید لیتے ہیں اور تھوڑا حصہ کاٹ کر پھینک دیتے ہیں بقیہ کھا جاتے ہیں، غربت جو ئی ہوئی؟ اگرخود نہ کھائیں تو بھی ہوٹل کے مالکان اور فٹ پاتھی دکاندار فروٹ چاٹ بنا کر کھلا دیتے ہیں۔ بیکری والے گندے انڈے کا کیک پیسٹری اور بسکٹ بنا کے کھلادیتے ہیں۔ہوٹل میں جانا بھی فیشن میں شامل ہے۔ لہذا جانا بھی مجبوری ہے۔ نہ عوام کچھ کرسکتے ہیں نہ خواص کچھ نہ حکومت ہی کچھ کرسکتی ہے کہ سرکاری ملازمین کے بھی بال بچے ہیں۔ہائے رے انسان کی مجبوریاں۔













