زندگی یا کھیل !ارحم علیم

0
891

زندگی یا کھیل
گزشتہ برس جس جگہ شیرنی کی موت واقع ہوئی تھی وہاں اس کی باقیات کی شکل میں چند ایک پسلیوں کی ہڈیاں پڑیں تھیں۔ ارد گرد زمین کی بھربھری مٹی میں جنگلی جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں لیکن پسلیوں والی جگہ پر تازہ گھاس اور جنگلی جڑی بوٹیاں نکل آئی تھیں۔

ایک برس پہلے کی ایک سجری سحر کےوقت جب مطلع بالکل صاف وشفاف تھا، سوریا مہارج نےسمندر سے ابھی اپنا تانبے کا آدھا سر ہی نکالا تھا کہ سمندر کی لہروں کی رنگت سرخی مائل ہونے لگی تھی۔ چھوٹی مچھلیاں تخمِ ماہی اور کیڑوں مکوڑوں سے ناشتہ کر رہی تھیں اور بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں پر ہاتھ صاف کر کے آتشِ شکم بجھا رہی تھیں۔ نیلگوں آسمان اور سمندر کی پرسکون لہروں پر اُڑتے ہوئے لاتعداد بگلے تلاشِ رزق کی خاطر فضا میں منڈلا رہے تھے۔ اچانک ایک بگلے نے پانی میں ڈبکی لگائی اور مچھلی چونچ میں پکڑ ے فضا میں بلند ہوا ۔ ابھی وہ شکار کو پوری طرح نگل بھی نہ پایا تھا کہ دور افق سے پروں کو سمیٹے ہوئے ایک عقاب فضا میں غوطہ زن ہوا اور بگلے کو مضبوط پنچوں میں دبوچ کر چلتا بنا۔

تین دن کے بعد وہی عقاب شکار کی تلاش میں دوبارہ نکلا۔ جنگل کے اوپر اڑتے ہوئے اس کی دور بین نظریں شیر کے تین بچوں پر پڑیں جو ٹانگیں پسارے لیٹی ماں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے میں مگن تھے۔ عقاب نے غوطہ لگایا اور ایک بچے کو پنجوں میں اُچک لیا۔ بچے کو بچانے کے لیے شیرنی نے ہوا میں چھلانگ لگا کر بچے سمیت عقاب کے پنجے کو قابو کر لیا۔ فطرت کا ازل سے جاری :”ایک کی حیات اور دوسرے کی موت” کا کھیل شروع ہوا۔

عقاب پوری طاقت سے جان چھڑا کر اُڑنے کی بھر پورکوشش کر رہا تھا لیکن شیرنی کی آہنی گرفت کے آگے بے بس تھا۔ کوئی داو پیچ کام نہ آیا تو عقاب نے گردن موڑ کر جوابی وار کیا اور آری جیسی تیز چونچ سے شیرنی کی آنکھیں نکال دیں. اور شیرنی چشمِ زدن میں اسے چیر پھاڑ کر نگل گئی۔

(ارحم علیم )

SHARE

LEAVE A REPLY