محرم علی شہید پر علمائے کرام کی خاموشی؟؟علی شان

0
1077

محرم علی شہید پر علمائے کرام کی خاموشی؟؟؟

کیوں نہ ہو جب شہید نے انکے پیٹی بند کو اپنے جنازے پر آنے سے روک دیا تھا۔ میرا بھی دل چاہتا ہے کہ جیسا سلوک میرے ساتھ روا رکھا گیا میں بھی علماء کو اپنے جنازے میں آنے سے روکدوں مگر کیا کروں میرے جد نے تو اپنے قاتل کو بھی شربت پیش کیا تھا تو میں پھر کیسے ان خود پرست ابن الوقت علماء سے منہ پھیر سکتا ہوں۔ذکر محرم علی کا تھا۔ گو میری اس سے ملاقات نہ تھی مگر جب اسلام کا نام لیکر مسلمانوں کو چھپ کر گولیاں مارنے اور دینی و دنیاوی درسگاہوں کو بموں سے اڑانے والے یزید کے پیروکاروں نے مجھے بھی ایک نام نہاد جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرا دیا تو کیمپ جیل میں ہسپتال سے نالے کی آخری بیرکس سے پہلے علیحدہ دو کوٹھریوں کو دیکھنے کا موقع ملا جن میں سے ایک کوٹھری کی موٹی لوہے کی سلاخیں چالیس ڈگری تک ٹیڑھی تھیں۔

پوچھنے پر ڈیوٹی اہلکار نے بتایا کہ اس کوٹھری میں محرم علی کو رکھا گیا تھا اور یہ سلاخیں اس نے اپنے ہاتھوں سے ٹیڑھی کی تھیں۔مجھے بتایا گیا کہ اسکی بیک وقت کئی سنتری نگرانی کرتے تھے کیونکہ وہ مکہ مار کر کوٹھری کی دیوار جو ڈیڑھ دو فٹ موٹی ہے کی اینٹیں توڑ دیتا تھا۔اسے خوف کے مارے بہت کم کوٹھری سے باہر نکالا جاتا تھا جب اسے تاریخ پر لیجانا ہوتا تو اسے قابو کرنا جیل انظامیہ کے لئے ایک امتحان ہوتا تھا۔

جیل ہی میں محرم علی کے ساتھ چوہنگ میں دوران تفتیش مقید ایک قیدی نے بتایا کہ جن دنوں محرم علی چوہنگ سنٹر میں زیر تفتیش تھا تو اعظم طارق کو بھی گرفتار کر کے وہاں لایا گیا۔ اتفاق سے دونوں کی کوٹھریاں آمنے سامنے تھیں محرم علی زیادہ تر سلاخوں کو پکڑ کر اعظم طارق کو گھورتا رہتا تھا تب ایک دن اعظم طارق نے متعلقہ حکام سے کہا کہ وہ اسکی کوٹھری تبدیل کر دیں کیونکہ محرم علی اسے ہر وقت جن نظروں سے گھورتا ہے ان سے وہ بہت پریشان ہوتا ہے۔یہ تھا فرق حق پر جان قربان کرنے اور ناحق انسانوں کو مارنے والے کے درمیان۔

مجھے امید ہے جہاں نثار علی ترمذی دن رات کتب کے تراجم اور تاریخ لکھنے میں مصروف ہیں وہ اُن افراد سے محرم علی کے بارے میں تمام معلومات اکٹھا کر کے اُسے کتابی شکل دیں گے جو ابھی زندہ ہیں تاکہ آنیوالے وقت میں قوم کے اس بہادر امام زماں کے سپاہی کو لوگ یاد رکھ سکیں اور اسکے کارناموں کو محافل میں تسلسل سے بیان کیا جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY