وہ بہت اچھے دوست تھے ـ دھیمے دھیمے لہجے میں بولنے والے، ماتھے پر فکرمندی کی لکیریں گہری ہو گئی تھیں جو انکے بردبار چہرے کو اور وقار بخشتی تھی، ہمیشہ انکا لہجہ شکوے سے بھرا رہتا تھا، سال دو ہزار سولہ سے ان سے بالمشافہ ملاقاتیں اور ھر چوتھے پانچویں دن بعد ان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوتا تھا دعا سلام کے بعد فورا ہی وہ اپنے لوگوں کا دکھڑا سنانے لگتے، ریاست سے ناراض عثمان کاکڑ ہمیشہ پختونوں کی پستہ حالی پر پریشاں رہتے ـ
انکا میرے ناول چاند گل کی تقریب رونمائ میں آنے کا وعدہ تھا ـ اور وہ وعدہ کرونائ حالات نے وفا نہ ہونے دیا ـ لگتا پے در پے صدمات ہمیں کھا جائنگے، جب سے انکی حالت کا پتہ چلا عبدالحیم زیارتوال صاحب اور عصمت ترین بھائ کے ساتھ رابطے میں رہی کہ شاید اب وہ کہہ دیں کہ ” عثمان کاکڑ کی طبیعت ٹھیک ہورہی ہے ” مگر جیسے انھوں نے آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کی تھی ـ
آخر وہ کس سے اتنے شدید ناراض ہوئے؟ کیا یہ سانحہ کوئ واقعہ ہے؟ اس کا پتہ چل جائے گا مگر جو بھی ہے اس المیے نے بہت دھچکا پہنچایا ہے ـ عثمان کاکڑ جہاں رہو خوش رہو کہ آپ جیسے پیارے لوگ دنیا میں کم ہی آتے ہیں ـ فرشتے خوش ہونگے کہ انکے ہاس آپ جارہے ہو مگر انکی اس خوشی کی قیمت ہم پر بہت بھاری گزری ہے دوست ـ
کلثوم زیب












