میں کوئی نیا کالم کب لکھونگی ۔۔۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم

0
870

احمد فراز اپنی مقبول نظم “محاصرہ “ جب بہت مرتبہ پڑھ چکے تو امریکہ کے ایک مشاعرے میں کسی نے ان سے سوال کیا کہ آپ پاکستان کے حوالے سے ہر بار یہی نظم کیوں سنا دیتے ہیں ، کوئی نئی نظم کیوں نہیں لکھتے ۔ فراز نے جواب دیا جس دن پاکستان کا محاصرہ ختم ہوا ، حالات بدلیں گے ، اس دن نئی نظم بھی لکھیں گے ۔
میری کیفیت بھی آج فراز جیسی ہے ۔ اپنے کالموں کی نئی کتاب ترتیب دینے کے لیئے گذشتہ برسوں میں لکھے ہوئے کالم ایک جگہ پر جمع کر رہی تھی تو برابر یہی سوچ رہی تھی میں نیا کالم کب لکھونگی ۔۔ 2011 میں عالمی اخبار کے بلاگ کے شعبے میں ایک گفتگو کا آغاز میں نے کیا تھا اور اس موضوع پر بلاگ میں جس جس رخ سے تبادلہ خیال ہوا اگر سچ پوچھیں تو ایک ایسی دستاویز ہے جسے مجلد کر کے پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ میں بحث کے لیئے پیش کیا جانا چاہیئے لیکن پھر سوچتی ہوں کہ وہاں پہلے کونسے قومی امور پر بحث مباحثہ ہوتا ہے ۔ جو ہم عوام کے ان خیالات کو زیر بحث لایا جائے گا ۔
جالب نے کیا خوب کہا تھا ۔۔
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھریں ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
بیس مئی دوہزار گیارہ میں لکھی اس تحریر کو پڑھیئے اور سوچیئے کہ پاکستان میں کیا بدلا ہے ۔۔ کیا ہم وہیں نہیں کھڑے جہاں سے سفر کا آغاز ہوا تھا ۔۔۔
میں جب بھی کسی سوشل فورم پر جاتی ہوں ۔۔ جب بھی کبھی انٹرویو لینے یا دینے جاتی ہوں ۔۔ یا جب بھی کبھی کسی سنجیدہ انسان سے ملتی ہوں یا کسی کا لکھا ہوا بلاگ یا کہانی پڑتی ہوں تو ایک بات ضرور دیکھتی ہوں کہ اس لکھنے والے میں یا بات کرنے والے میں میٹریل یعنی روپیہ پیسے کی کتنی سمجھ بوجھ ہے ۔۔۔
میں یہ نہیں کہہ رہی کہ وہ پیسہ کتنا کماتا یا کماتی ہے ۔۔ یا بینک بیلنس رکھتا یا رکھتی ہے ۔۔ کسی غریب کو دیتا یا دیتی ہے ۔۔ میں صرف یہ دیکھتی ہوں کہ کیا وہ پیسے کے ہونے یا نہ ہونے سے اپنی موجودہ معیار زندگی اور ذاتی سوچ پر یا گھر والوں پر مایوسی کے اثرات پڑ جانے کو سمجھتے ہیں کہ نہیں ۔۔۔ جواب اگر ہاں میں ملتا ہے تو میں اس کی کہانی بھی پڑتی ہوں اور اس کی بات بھی سنتی ہوں ۔۔ اور اسے واقعی حساس انسان سمجھتی ہوں جو اپنے وجود سے لے کر حالات تک باخبر ہے۔
میں حیران ہوتی ہوں ان لوگوں کو پر جنہیں پیسے کی اہمیت سے انکار ہے اور یا پیسے اور انسانی اخلاق کو ایک دوسرے سے الگ دیکھتے ہیں ۔۔۔ غربت انسان سے وہ وہ کام کروا لیتی ہے جو امیری نہیں کروا سکتی ۔۔۔ یقین جانئے یہی سچ ہے ..
مجھے کہنے دیجئے بحثیت نفسیاتی معالج کے ہر نفسیاتی بیماری کی وجہ ننانوے فیصد اس مریض کا معاشی طور پر غیر مستحکم ہونا ہے ۔۔ کبھی کبھی میں نے پیسے کی اہمیت کو زندہ رہنے سے زیادہ اہم محسوس کیا ہے ۔۔ میں نے اپنی آنکھوں سے اپنے ہاتھوں میں پیسوں کی کمی سے لوگوں کو مرتے دیکھا ہے ۔۔ انہیں ہارتے ، شکستہ دیکھا ہے ۔۔ بہادر سے بہادر انسان کی آنکھوں میں بےبسی دیکھی ہے .. بہن بھائیوں کو آپس میں محبت سے انکاری ہوتے دیکھا ہے ۔۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بیٹا بیٹی اپنے ماں باپ کو فون اس لئے نہیں کرتے کہ کہیں وہ پیسے نہ مانگ لیں ۔۔ اور ماں باپ اپنے بچوں سے نہیں ملتے کہ اگر وہ ان کی ضرورتوں سے شناسا ہو گئے تو ان کی مدد کیسے کریں گے ۔۔ میرے ارد گرد کیسے کیسے دکھ ہیں شائد میں کبھی لکھ نہ پاؤنگی ..
دنیا میں بگڑتی ہو صورت حال صرف اور صرف معاشیات کا غیر متوازن ہونا ہے ۔۔۔
میر اخون کھول جاتا ہے جب کوئی یہ کہتا ہے کہ انسان کو پیسوں کی نہیں اخلاق کی ضرورت ہے ۔۔ ایمان کی ضرورت ہے ۔۔ اور یہ بھی کہ بندہ بھوکا مر جائے لیکن چوری نہ کرے ۔۔ کوئی یہ کہتا ہے ارے صرف دس روپے کی خاطر بندہ مار دیا ۔۔ ارے کرائے کے قاتل ۔۔ جلسوں جلوسوں میں کرائے پر بلائے گئے لوگ ۔۔۔ مرنے والوں کے لئے پیسے اہم تھے نہ کہ قاتلوں سے بدلہ لینا..
یہ باتیں صرف وہ لوگ کرتے ہیں جن کے اپنے پیٹ بھرے ہوتے ہیں ..
جنہوں نے کبھی بھوک دیکھی نہیں ہوتی …
جو کبھی بھی غریب نہیں ہوئے ہوتے …
جنہوں نے صرف ڈائیٹنگ کے لئے کھانا چھوڑا ہوتا ہے ۔۔
ایر کنیڈیشنڈ میں سونے والے ۔۔ شوہر حضرات کو رات دن مزدوری کروانے والی عورتیں صرف یہی کہہ سکتی ہیں کہ بھلا کیسے کوئی اپنی بچی کو بڑے میاں سے بیاہ سکتا ہے ۔۔ کیونکہ انہوں نے غربت نہیں دیکھی .. دن رات کالم لکھنے والے .. بلاگ پر قے کی طرح اگلنے والے لکھاری صرف ایک دن کی تنخواہ کسی غریب کو کیوں نہیں دیتے ..
یہ دلوں کے بدصورت خود کو خود ہی عظیم لکھاری سمجھنے والے .. رنگ برنگی اردو ادبی محفلوں کو رونق بخشنے والے .. ٹی وی ، ریڈیو پر بھاشن دینے والے وہ کیوں نہیں صرف ایک دن کا جو ان کا خرچہ ہے وہ کسی کو دینے کی ہمت رکھتے ..
دوستو پیسہ ایک زندہ حقیقت ہے ۔۔ ہر صاحب زندہ کو اس کی اشد ضرورت رہتی ہے ۔۔۔ زندگی کی ہر تار کو جوڑنے کے لئے پیسے کی سریش چاہئے ہوتی ہے ۔۔ رشتوں کو بارآور رکھنے کے لئے پیسہ پانی کی طرح ضروری ہو جاتا ہے ۔۔ اس حقیقت کو مانئے ۔۔ یہ سوچئے اگر یہ درست نہ ہوتا تو ہمارے پیارے نبی بکریاں نہ چراتے ۔۔ مولا علی کسی یہودی کے باغ میں پانی نہ دیتے ۔۔۔ ہمیں کبھی کفایت شعاری اور میانہ روی کی تلقین نہ کی جاتی ۔۔ ہمیں کبھی حقوق العباد کی طرف حقوق اللہ سے زیادہ خیال رکھنے کی تلقین نہ ہوتی ۔۔ بھائی چارے کی اہمیت نہ ہوتی ۔۔ اسلام میں کبھی خاندان کا تصور اور ایک اکائی کی طرح رہنے کی کوئی ہدایت ہوتی ۔۔۔
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سب ہمیں بتانے کے لئے تھا کہ پیسے کی اہمیت ہے اور اس کو کمانے کے لئے صرف کسی کام کو چھوٹا بڑا نہیں سمجھنا چاہئے ۔۔ صرف حق حلال رزق کی تلقین کی گئی ہے ۔۔ اور آپس میں مل بانٹ کر کھانے کی ہدایت ہے ۔۔ دسترخوان کی اہمیت صرف اسلام نے ہم تک پہنچائی ہے ۔۔ ایک دوسرے کی ستر پوشی اور بھرم رکنے کی اہمیت صرف ہمارے مذہب میں ہے ۔۔
اب مجھے کوئی امیروں کے قصے سنانے کی کوشش نہ کرے پلیز ۔۔ میں انہیں معاشی ابتری کی وجہ سمجھتی ہوں ۔۔ ایسے لوگوں ہی نے ہم سب کے پیسے مارے ہیں اور ہمارے پیاروں کو غربت اور افلاس کی راہ دکھائی ہے ۔۔ انہیں اتنا مجبور کر دیا ہے کہ ان کا اعتبار خدا رسول سے بس اٹھا جاتا ہے ۔۔
یقین کیجئے اگر میں بھی کئی دن فاقے سے رہتی ہوتی ۔۔ میرا بچہ بھی پیسوں کی وجہ سے لا علاج مر جاتا ۔۔ میرے سر پر بھی پستول رکھ کر میری ماں بہن بیٹی کو اٹھا لے جاتا اور تاوان نہ ملنے پر ان کے ٹکٹرے ٹکڑے کر دیتا تو میں بھی کسی اللہ رسول کو نہیں مانتی ۔۔۔ اگر میرا ہی کوئی بہن بھائی آج اپنے اللہ رسول سے مایوس ہے تو کیوں ۔۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟
کبھی کسی نے سوچا ہم کیسے اس جنگ کو جیت سکتے ہیں ۔۔؟
میں ایک عرصے سے ایک ماہ میں ایک شفٹ زیادہ کرتی ہوں تاکہ میں وہ تمام پیسے اپنے بہن بھائیوں کی مدد میں لگا سکوں ۔۔ انہیں تھوڑا سا سکون دے سکوں ۔۔
میں نے ایک عرصے سے خود سے کوئی نیا سوٹ نہیں خریدا ۔۔ میں زیادہ تر اپنی ماں اور اپنی ساس کی اترن پہنتی ہوں جس کی پہلی وجہ ان کی وجود کی برکت ہے جو مجھے حاصل رہتی ہے اور دوسری فضول خرچی سے پرہیز ہے ۔۔ میرا رہنا سہنا انتہائی معمولی ہے … میرا کھانا انتہائی سادہ ہے ۔۔ میں ہوٹلنگ نہیں کرتی ۔۔ میں قطعا فضول خرچ نہیں ہوں .. میں اپنے بچوں کو ہر وقت تلقین کرتی ہوں کہ اگر ایک ڈالر بھی بچا کر کسی کی مدد کر سکو تو پیچھے مت ہٹو ۔۔
ایک ڈالر کا مطلب ہے = پاکستانی پچاسی روپے جس سے کوئی ایک وقت کی روٹی کھا سکتا ہے .
میری آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنی زندگیوں کے رہن سہن پر نظر ڈالئے اور جتنا ممکن ہو سکے کفایت شعاری کو اپنایئے .. کوئی ایک ایسی فیملی کو چن لیجئے جنہیں آپ ماہانہ کوئی معقول سی آمدنی بھیج سکیں ۔۔ اور ایک اور بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ کام اپنے گھر سے اور گھر والوں سے شروع کیجئے ۔۔ ۔۔
خدا کے لئے کسی کے لئے بارش کا پہلا قطرہ بنئے اور ان کی زندگی کا سہارا بن جاہئے ۔۔ اللہ کریم و رحیم ہمیں دوگنا عطا فرمائے گا ۔۔ اور روز آخرت ہم سب کے بھرم بھی رکھے گا ۔۔۔ آمین
میر ایہ پیغام جہاں تک ہو سکے پہنچا دیجئے ۔۔ اور میرے لئے صدقہ جاریہ کا کوئی انتظام کر دیجئے ۔۔۔ جزاک اللہ
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY