ہوا ہوا ہوئی اور دیا جلا ہی رھا
صنم صنم ہی رھے اور خدا خداہی رھا
یزید مٹنے ہی والا تھا مٹ گیا آخر
میرے حسین کاپرچم مگر کھلاہی رھا
پیاسا لوٹ تو آیا تھا نہر سے غازی
اور آب زیر نگیں مرد دیں پناہ ہی رھا
مقام حضرت عباس کون جان سکا
علی کا لال تھاوہ شیر لا فتیٰ ہی رھا
وہ سجدہ جس میں کٹا سرذبیح داورکا
تمام سجدوں کا سجدہ وہ پیشواہی رھا
نجات حضرت انسان کا سفینہ ھے
ہمارا حرف دعا شاہ کربلا ہی رھا
بس ایک حرف تھاانکار جس کی ضربوں سے
غرور سطوت شاہی غبار راہ ہی رھا
یزید مرگیا لیکن حسین زندہ رھا
منار وقت پہ پرچم شہید کا ہی رھا
ہماری قبر میں آئیں گے وہ ضرور رضا
ہماراجینا بھی تو بس ان کا معجزہ ہی رھا
سلام یا مظلوم حسین
سید رضامہدی باقری













