جو کچھ دیکھ سُن اور پڑھ رہے ہیں لگتا ہے کوئی اور ہی دنیا ہے جس میں ہم سب بلا خواہش آگئے ہیں ۔کرونا جیسا وائرس جس نے دنیا کی تاریخ میں ہلچل مچا دی علاج دریافت ہونے میں کتنا وقت لگے گا نہیں پتہ لیکن ہمارے تجزیہ نگار ہر روز یہ ضرور بتا دیتے ہیں کہ کتنے لوگ اس مرض کی بھینٹ چڑھ جائیں گے اور ساتھ ہی یہ بھی کہ اسکی وجہ سے آبادی میں کتنا اضافہ ہوگا ۔ہم سوچتے رہ جاتے ہیں کہ بھائی اس کے علاوہ بھی کچھ کرنے کو ہے کہ یہ بتا سکو کہ کس طرح اس وباء سے بچا جا سکتا ہے لوگوں کو ترغیب دو کہ بلا ضرورت جب تک وائرس ہے گھروں سے نہ نکلو ۔احتیاط ہی ابھی تک حل ہے کب تک رہے گا یہ بھی پتہ نہیں ۔کیونکہ آج کل اس وباء کے بارے میں کوئی بھی ہتمی بات سامنے نہیں آرہی ساتھہ ساتھ لوگوں کی برداشت اور صبر بھی جواب دے رہا ہے ۔
دوسری طرف ایک اور منظر ہے جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا جب ہم نے خبروں میں ایک سفید فام امریکی پولیس والے کو ایک کالے فام کی گردن پر گھٹنا رکھے اس کا گلا گھٹتے دیکھا تھا اسکی آواز کانوں میں گونج رہپی ہے کہ مجھے سانس نہیں آرہا لیکن سفید فام اپنی برتری جتانے کو اسکی ایک نہیں سُن رہا تھا بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی خاطر میں نہیں لا رہا تھا ۔شاید نہیں جانتا تھا کہ اس کا اثر کیا ہوگا ۔
آج سات دن سے ہم جو کچھ امریکہ میں دیکھ رہے ہیں وہ نا قابلَ یقین ہے کہ کس طرح سپر پاور کی ساری پاور، غبارے کی ہوا کی طرح نکل رہی ہے لیکن کوئی حل انکی سمجھ میں نہیں آرہا ۔دوکانیں لوٹی جا رہی ہیں ۔اسٹور سے لوگ چیزیں لے لے کر بھاگ رہے ہیں ۔میڈیا کے لوگوں کو بھی پولیس تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے ادہر وھائٹ ھاؤس کو گھیر لیا تو ٹرمپ صاحب کو بنکر میں چھپنا پڑ گیا ۔لیکن کہتے ہیں کہ ہم سپر ہیں ۔ایسا لگ رہا ہے کہ مودی اور ٹرمپ ایک ہی خمیر سے بنے ہیں ۔
امریکہ کا جو حال ہو رہا ہے وہ شاید کبھی تصور میں بھی نہیں تھا کہ اس طرح افرا تفری پھیلے گی ،ہر شہر میں احتجاج ہے ہمارے قریب سیاٹل ہے وہاں بھی زبردست احتجاج کیا گیا ۔اور شاید اب یہ احتجاج بجائے کم ہونے کے بڑھ رہا ہے آج ٹرمپ نے فوج بلانے کا بھی عندیہ دیا ہے لیکن لوگ نکل رہے ہیں ۔ویسے شاید کرونا نے بھی کرنے کو تو کچھ چھوڑا نہیں نہ جاب ہے نہ کام ہیں لوگ فارغ ہیں سب کے سب باہر نکل پڑے کسی کو اب اس وائرس کا بھی خوف نہیں ہے ۔ہم صرف دعا کر سکتے ہیں کہ مزید ھنگامہ ہو، نہ جانیں جائیں ۔
اس سال میں جس طرح ہم نے پوری دنیا کی بازی پلٹتی دیکھی ہے وہ ایک تاریخ ہے کہ جو کبھی تصور میں نہیں تھا وہ سب کچھ سامنے ہے ۔مذہبی اسکالر اسے مذہب سے جوڑ رہے ہیں اور دنیاوی اسکالر اسے کسی اور رنگ میں دیکھ رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اب سپر پاور چائنا بنے گا ۔واللہٰ اعلم
سپر کا نشہ کسی کو بھی راس نہیں آتا خود اپنے ہی وزن سے نیچے گرتے ہیں اس قدر زور سے کہ اُٹھنا مشکل ہو جاتا ہے ساری طاقت دھری رہ جاتی ہے ۔اصل طاقت عوام ہے وہ اگر کسی مسئلے پر نکل پڑے تو اُسے روکنا شاید اختیار میں نہیں ہوتا سوائے طاقت استعمال کرنے کے ۔ جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں انڈیا نے کشمیریوں کو کرفیو کے شکنجے میں رکھا ہوا ہے بغیر یہ سوچے کہ اس کا انجام کیا ہوگا ؟ جس دن سارے کشمیری نکل پڑے اُس دن کشمیر بھی اس عزاب سے نکل اآئے گا ۔
ہمارے ملک کے عدل کرنے والے اپنے اثاثوں کا منی ٹریل نہیں دیتے بلکہ کہتے ہیں پہلے پوچھنے والا بتائے کہ اس کے پاس کیا ہے ۔ہم صرف حیران ہوتے ہیں کہ جہاں جسٹس بھی اپنی منی ٹڑیل نہ دے سکے اپنے بیوی بچوں کے اثاثوں کے بارے میں نہ بتا سکے وہاں کس سے سچ کی امید کی جائے ،فائز عیسیٰ صاحب کے بارے میں ہم سمجھ رہے تھے کہ وہ فورا` اپنی بیگم کی منی ٹریل دے دیں گے لیکن ہمیں ہمیشہ کی طرح سُبکی ہوئی کہ نہیں ابھی ہم اُس نہج پر نہیں پہنچے کہ صاف شفاف لوگ ہمارے عدل کے محافظ ہوں ۔ہمیں تو لگتا ہے کہ ہمیں اپنے تمام ہی اداروں کو کنگھال لینا چاہئے تاکہ گند صاف ہو لیکن ایسا کرنے کے لئے جن لوگوں کی ضرورت ہے وہ شاید ابھی ٹیم کا حصہ نہیں بنے کاش ہم اپنی صفوں میں ایمانداری اور سچائی کو فروغ دے سکیں ۔
نواز کی ایک تصویر نے پھرھنگامہ سا کر دیا اب یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ جن کے بارے میں اب کوئی شبہ ہی نہیں کہ وہ جھوٹ اور لفاظی میں سب کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں انکی مٹر گشتی پر اتنا ھنگامہ کیوں ۔ہاں دکھ یہ ضرور ہے کہ جن لوگوں نے عمران خان صاحب وزیرِ اعظم پاکستان کو انہیں باہر بھیجنے پر اُکسایا یا ان کے سامنے غلط رپورٹس رکھیں ان کے نام بھی سامنے لائے جائیں ۔ان میں محترمہ یاسمین راشد صاحبہ بھی شامل ہیں ہم نے جب ان کے منہ سے یہ بات سنی تھی تو ہمیں لگا تھا کہ وہ پوری تحقیق کریں گی ان رپورٹس کی پھر کوئی بیان دیں گی لیکن شاید انکی نا تجربہ کاری یا نہ معلوم کون سی مصلحت نے انہیں بھی موم کر لیا ۔
کچھ لوگ کہتے ہیں جن میں اینکر بھی شامل ہیں کہ نواز نے پیسے دئے ہیں واپس ،اگر یہ سچ ہے تو سامنے لائیں ورنہ انکار کریں لیکن اس بات پر ہم نے حکومت کی طرف سے کوئی جواب نہیں سُںا ، بعض اوقات ہمیں لگتا ہے کہ ہم ابھی ان کے سحر سے نہیں نکلے کاش نکل آئیں اور ایک نیا پاکستان واقعئی وجود میں آجائے جہاں غلط کام کرنے والوں کے نام لئے جائیں اور ہر ادارے کو مضبوط بنایا جائے تاکہ وہ ایسے تمام معاملات سے نمٹ سکے جو ہمیں بہت کمزور کر دیتے ہیں ۔۔
کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ شریف خاندان میں ایسی کیا بات ہے زرداری خاندان میں ایسی کیا طاقت ہے کہ یہ سب پھنستے ہیں اور ایک چوہا آکر جال کاٹ دیتا ہے اور یہ پھر آزاد ہو جاتے ہیں کاش ہم اُس چوہے کو پکڑ سکیں ۔
نواز کے ڈاکٹر جن کے بغیر وہ ہل نہیں سکتے تھے خیر سے واپس وطن آگئے ہیں اب انکی جھوٹ کی پٹاری کہاں کہاں کن کن پروگراموں میں کن کن اینکرز کے سامنے کھلے گی ہم اس کے منتظر ہیں ۔لگتا ہے کہ وہاں کے پلیٹ لیٹس بھی ختم ہو گئے ہیں اس لئے یہاں کچھ نئے کفگیر چمچے اور پلیٹیں تیار کی جائیں گی ۔عدل جس طرح ضمانت کے ختم ہونے پر بھی خاموش ہے وہ ہمیں عجیب سا لگ رہا ہے ،آٹھ ہفتے دئے گئے تھے کتنے ہی مزید ہنتے گزر گئے لیکن عدلیہ کا کیلنڈر شاید ابھی تک نہیں پلٹا گیا اس لئے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا ،اور کوئی عام آدمی ہوتا تو اب تک اس کے پرخچے اُڑادئے ہوتے عدل نے ،
اللہ سے بہتری کی اُمید اور سب کی صحت کے لئے دعا

SHARE

LEAVE A REPLY