ولادتِ با سعادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لاکھوں درود لاکھوں سلام ہمارے پیارے نبی کریم پر انتہائی جوش اور جزبے سے منائی گئی اور منانا بھی چاہئے کہ ہم اُمتی ہیں اُس پاک ذات کے جسے اللہ رحیم و کریم نے رحمت بنا کر بھیجا کُل عالَم کے لئے ۔ہم صرف ایک بات کہنے کی جسارت کریں گے کہ کاش جس طرح ہم اس روز چراغاں کرتے ہیں خوشی مناتے ہیں اپنے نبی محترم کے اآنے کی خوشی میں کبھی اس دن اپنے گریبانوں میں بھی جھانک لیں کہ کتنی سنتیں ہیں جن پر ہم عمل کرتے ہیں ۔کتنی پیاری باتیں ہیں پیارے رسول (ص) کی جن پر ہم عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کاش جس طرح ہم چراغاں کرتے ہیں، اپنی زندگیوں کو بھی اسی طرح اُس تعلیم سے روشن کر لیں جو ہمارے پیارے جان سے عزیز نبی نے ہمیں سکھائیں کر کے دکھلائیں جن میں سب سے پہلے سچ بولنا ہے، پھر ہر انسان سے محبت ہے، بڑوں کا ادب ہے ۔نرم گفتگو ہے ۔ایمانداری ہے زندگی کے ہر شعبے میں چاہے پیسے کا معاملہ ہو یا زندگی کے کسی بھی شعبے کا۔ اولاد کی تربیت ہو یا خود شناسی کا معاملہ ہر ہر شعبئہ زندگی میں ہمیں اسوئہ حسنہ ملتا ہے جس کی تعلیمات سے ہم کوسوں دور ہو رہے ہیں ۔جو لوگ ہم پر مسلط رہے انہوں نے تعلیم میں مغربی رنگ تو کُھل کر بھر دیا لیکن اپنی بنیادی تعلیمات سے بچوں بڑوں کو کوسوں دور کر دیا ۔۔
ہمیں خوشی ہے کہ اس دفعہ کچھ اچھی باتوں کا فیصلہ کیا گیا ہے جنپر عمل لازمی ہونا چاہئے کہ ہماری نجات اور بخشش صرف اسی میں ہے کہ ہم اُن باتوں پر عمل کریں جو ہمارے پیارے نبی نے ہمیں بتائیں اور اپنی زندگیوں میں بھی چراغاں کر لیں اآمین
اب ہم اپنے مسائل کی طرف آتے ہیں یو ٹرن کا اتنا شور ہے کہ ہمیں لگتا ہے کہ یو ٹرن نہ ہوا ملک اور قوم کا ایک بڑا مسئلہ ہو گیا ۔حالانکہ اگر دیکھا جائے تو یو ٹرن منزل سے ہٹاتا نہیں بلکہ اس کی طرف سیدھا رستہ دکھاتا ہے ۔کیونکہ منزل اپنی جگہ موجود ہے کہ کرپشن کو ختم کرنا ہے اب اس کے لئے کون کون سا رستہ اختیار کرنا ہے اُس میں اگر غلط طرف جانے لگیں تو یو ٹرن لے کر پھر اُسی طرف جایا جا سکتا ہے جس طرف جانا ہے لیکن یہ بات اُن لوگوں کو پسند نہیں آرہی جن پر مقدمات ہیں جن کے وہ بڑے پھنس رہے ہیں جن کی طرف کبھی کسی کی اُنگلی تو کیا نظر بھی نہیں اُٹھ سکی کیونکہ پیسوں کا اتنا دبیز پردہ پڑا ہوا تھا کہ ہر کوئی اس بہتے گنگا سے مستفید ہو چکا تھا اب اگر اُس طرف ٹرن لیا جارہا ہے تو تکلیف تو ہوگی نہ صرف تکلیف ہوگی بلکہ بقول ہمارے وزیرِ اعظم چیخیں بھی نکلیں گی ۔اَول فِول بھی بولا جائیگا کیونکہ وہ بُت گر رہے ہیں یا گرائے جا رہے ہیں جن کے گرنے کا اُنکی پارٹی کے کچھ لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے ۔سنا ہے کہ دائرہ وسیع ہو گیا ہے ۔۔
ہم بھی شاید ایسا سہانا منظر دیکھنے کی حسرت رکھتے تھے کہ کب انصاف ہر ایک کو لپیٹے گا ۔یہ باتیں کوئی نئی نہیں ہیں جو جو لوگ اُن ملکوں میں جا چکے ہیں گھومنے پھرنے یا کسی سے ملنے اُن سب کو پتہ ہے کہ کہاں کہاں جائیدادیں ہیں کون کون سے ہوٹل ہیں ۔کون کون سے بینک ہیں جہاں ملک کی لوٹی دولت جمع ہے لیکن شاطر لوگوں نے ایسا جال بُنا تھا کہ اُس کی طرف کوئی نظر نہیں اُٹھتی تھی لیکن اب ہمیں وہ جال مکڑی کا جالا لگتا ہے کہ میرے پروردگار نے فرمایا مفہوم کہ سب سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہے اور اب یہ جالا ٹوٹنے کو ہے ۔۔ بس ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہا کہ اتنی مُہلت اتنی نرمی کیوں ؟؟ جس طرح وقت دیا جاتا ہے وہ بھی ہماری سمجھ میں نہیں آتا ۔لیکن اگر سمت صحیح ہے تو ضرور ہم اپنے ملک کو بچا بھی لیں گے اور اُسے صحیح رستے پر بھی لے آئینگے ۔کتنے ہی یو ٹڑن لو بس منزل کی طرف رہنا یہ ہی سب سے بڑا مقصد ہے کہ ہم صاف ستھری سیاست کریں اور اپنے ملک کو مقدم رکھیں ۔
سندھ میں جو کچھ ہو رہا ہے یا ہورہا تھا وہ بھی کھُل رہا ہے بڑے بڑے برج گرنے کو ہیں ۔زرداری صاحب نے کہا تھا نیب کی کیا مجال ؟؟ بالکل نیب کی کیا مجال کہ آپ جیسے شاطر اور چالاک لوگوں پر ہاتھ ڈال سکے مگر جناب ایک طاقت اور بھی ہے جس کے آگے آپ ہم سب بے بس ہیں وہ جب رسی کھینچ لے تو بچا کوئی نہیں سکتا یہت دنیاوی طاقتیں ہیں جنہیں آپ استعمال کرتے رہے ایک غیبی طاقت ہے جو پکڑ لے تو کوئی چھڑا نہیں سکتا ۔ہم دعا کرتے ہیں کہ ہر کوئی عبرت پکڑے اور خود کو دیکھے کہ کہاں کہاں حق مارا کہاں کہاں بے ایمانیاں کیں ،کس کس طرح جُل دئے ۔ طاقت کے نشے میں کتنے بڑے بول بولے جو اب سامنے آرہے ہیں ۔کاش اب ہر کوئی اپنا اپنا محاسبہ خود ہی کر لے اور قوم اور ملک کے لئے سچ بولنے کی طرف راغب ہو جائے کہ اب پرانے سیاست دان اور جاگیر دار جن عمروں میں ہیں وہ عمریں معافی مانگنے اور بخشش طلب کرنے کی ہیں اس لئے اگر اپنی غلطیوں کو یو ٹرن لے کر دھو لیا جائے تو شاید اُن کے لئے بھی اچھا ہوگا
ایک یو ٹرن سب ہی لے لیں کہ بس سچائی کا ساتھ دینا ہے سچ بولنا ہے اور حق اور سچ کی طرف ہی جانا ہے ۔اپنے ملک اور نئی نسل کی بھلائی دیکھنا ہے اور ہر اُس رستے کو اختیار کرنا ہے جس سے ہم سب کی ترقی اور خوشحالی کا حصہ بنیں ناکہ ملک کو کھوکھلا کرنے اور نئی نسل کی راہیں مسدود کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں ۔
حکومت کے سو دن پورے ہونے کو ہیں پارلیمان ہو یا سینٹ اُس میں جو جو ہوتا رہا وہ سب کے سامنے ہے لیکن ہمیں ایک بات اب تک سمجھ نہیں آئی کہ جب بھی چوروں ڈاکوؤں کو پکڑنے کی بات کی گئی اپوزیشن بینچوں سے اتنا شور کیوں اُٹھا ۔وہ کیوں اتنا تلملائے ؟؟ شاید جنہیں خبر بھی نہیں تھی کہ کرپشن کس کس نے کی اُسے بھی ان کے چیخنے چلانے سے پتہ چل گیا کہ پانی کہاں مِرَ رہا ہے اور کون کون ان باتوں میں ملوث ہے ۔اکثر تو ایسے ایسے نام سامنے آرہے ہیں چاہے حکومت کے ہوں یا حزبِ مخالف کے کہ سُن کر سوائے افسوس کے کچھ نہیں کہا جاتا ۔وہ نقاب بھی اُتر رہے ہیں جو ان لوگوں نے شرافت کے نام پر اوڑھے ہوئے تھے ۔چاہے حکومتی ارکان ہوں یا مخالف سب کو احتساب کے کٹہرے میں لانا چاہئے بلا امتیاز ۔
کراچی میں تجاوزات ہٹائی جا رہی ہیں ۔بہت اچھی بات ہے بس ایک خیال ضرور رکھنا چاہئے کہ جن کے کاروبار ختم کئے جارہے ہیں جن کی دوکانیں ہٹائی جارہی ہیں اُنہیں متا بادل جگہ ضرور دی جائے تاکہ اُن کی روزی روٹی چلتی رہے ۔دوکان انیس سو پچاس سے بنی ہوئی ہو یا اُنیس سو اڑتالیس سے اگر قبضہ ہے تو وہ غلط ہے ۔لیکن اُنکی داد رسی لازم ہے ان سب کو دوسری جگہ کاروبار کے لئے الاٹ کرنی چاہئے ۔جسٹس صاحب اُن لوگوں سے بھی پیسہ نکلوائیے گا جنہوں نے ان معصومون کو یہ جگہیں دیں اور پیسہ لیا کیوں کہ بڑی مچھلیاں ہمارے ہاتھوں سے ہمیشہ پھلستی رہی ہیں اور ہم سب یہ دن دیکھنے پر مجبور ہیں ۔جہاں غریب پھر فریب کھا کر رو رہا ہے ؟ حکومت سے بھی استدعا ہے کہ ان غریب کاروباریوں کی تکلیف کا ازالہ کرے انکی بد دعاؤں سے بچے ۔کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو کرپٹ کوگوں کی بے حسی کا شکار ہوتے ہیں اور اپنی جمع پونجی ان کی نظر کر کے تہی دست ہو جاتے ہیں ۔ضروری ہے کہ ہر اُس بڑے کی پکڑ ہو جو کسی طرح بھی لوگوں کو نقصان پہنچانے کا زمے دار ہے ۔یہ بیچارے نا خواندہ لوگ اسی طرح ان کے جال میں پھنستے رہتے ہیں ۔
ہمیں اندر کہیں بہت طاقت اور خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ پہلی دفعہ سوپر پاور کو ہماری طرف سے کرارا جواب دیا گیا ورنہ ایسی بیان بازی پر تو ہمارے سابق بڑے منہ پر تالے لگا لیتے تھے جنکی چابی بھی شاید سوپر پاور ہی کے پاس تھی ۔بس اب اور نہیں ۔ ہم نے سب کے لئے بہت کچھ کر لیا اب ہم اپنے لئے کرینگے جو کچھ کرینگے انشاءاللہ
بلاول صاحب کہتے ہیں کہیں سے کچھ نہیں ملا نون کہتی ہے سب دورے ناکام کیونکہ آپ کو پیسہ نہیں ملا ہمیں دکھ اور افسوس ہے کہ ان سب کی نظر میں بس پیسہ ہی سب کچھ ہے وہ زرائع نہیں جن سے ہم خود پیسہ کمائیں گے ۔ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے وزیرِ اعظم نے کہیں خود کو نیچا نہیں کیا بلکہ ہر جگہ سے تجارت اور معیشت پر بات کی ۔ہمارے یہ پیسے کے پجاری یہ نہیں کہتے کہ ہماری وجہ سے آج ملک اس حال کو پہنچا کہ ہم مشکل میں ہیں کاش یہ نشاندہی بھی کرتے بلاول صاحب ۔اور شھباز صآحب ۔
اللہ ہم سب کو عقل و شعور اور فہم و فراست سے مالا مال کردے آمین
یو ٹرن اور سو دِن , عالم اآرا
1016
0












