ایک وقت تھا کہ تعلیم یافتہ ہونا، پڑھا لکھا ہونا، شرافت، خاندانیت، مذہبی ہونا، بااخلاق ہونا خوبی گردانے جاتے تھے اور یہی خوبیاں کسی بھی شخص کی وجہ شہرت ہوتے تھے۔ آجکل بھی انہی خوبیوں کو لوگ پسند کرتے ہیں لیکن شاید ہمارا میڈیا چاہتا ہے کہ ہم ان روایات اور خوبیوں کو چھوڑ دیں اور گانے بجانے اور لچر پن کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں۔ بات کریں گے ایک وائرل ویڈیو کی جس میں ایک لڑکی مہندی کے فنکشن میں ایک ری مکس گانے پر بےہودہ رقص کررہی تھی۔ پہلے تو ہماری قوم نے وہ واہیات رقص خوب وائرل کیا اور لڑکی کا مذاق بھی اڑایا۔ لیکن کل ایک حیرت انگیز بات ہوئی اے آر وائے چینل کے مارننگ شو کی میزبان ندا یاسر نے اس لڑکی کو مہمان کے طور پر بلایا اور اس کی خوب پذیرائی کی۔ سوال یہ ہے کہ کیا عائشہ نامی لڑکی اتنی مشہور شخصیت بن چکی ہے کہ کسی بھی شادی میں رقص کی ویڈیو وائرل ہونے پہ اس کے انٹرویوز شروع ہوجائیں؟ یا پھر آپ کے شو میں اس دن کا مصالحہ نہیں تھا اور آپ نے اسے بُلا لیا؟
پاکستان کا پہلا مارننگ شو مستنصر حسین تارڑ نے 1987 میں شروع کیا تھا۔ انتہائی تہذیب یافتہ ٹرانسمیشن۔ جس میں حالاتِ حاضرہ کے علاوہ لوگوں کی دلچسپی کے کئی پروگرام ہوا کرتے تھے۔ یہ ٹرانسمیشن تارڑ صاحب نے آٹھ سال تک روزانہ کی۔ نئی صدی کے آنے پر جیسے جیسے نت نئے رواج آئے، اقدار، عادات و رویے بدلے ویسے ہی نئے نئے ٹی وی چینلز مارکیٹ میں آئے جنہوں نے دھیرے دھیرے لوگوں کی سوچ اور معیار تبدیل کردیا۔ پی ٹی وی پاکستان میں ایک تعلیمی ادارے کی حیثیت رکھتا تھا۔ ہر بڑا شاعر، لکھاری اور دانشور کا تعلق اس سرکاری چینل سے جڑا تھا جہاں سے اداکار، ہدایتکار، موسیقار کندن بن کر نکلے۔ بہترین ڈرامے جنہوں نے عوام کا تعلق ادب اور فلسفے سے جوڑا، مذہبی پروگرامز، بہترین موسیقی، کئی مغربی پروگرامز نشر کئیے جاتے جو کلاسیکی حد تک معیاری تھے، حالات اور تہوار کی مناسبت سے مشاعروں کا انعقاد ہوتا، نوجوان نسل کیلئے ٹاک شوز، حالاتِ حاضرہ اور ذہنی آزمائش کے پروگرام ہوتے، بچوں کیلئے کارٹونز، قرآن مجید کی تلاوت، ڈرامے اور موسیقی کے پروگرام تک دکھائے جاتے۔ آج تک سکولوں میں وہی گانے دوہرائے جارہے ہیں جو پی ٹی وی نے اپنے سنہری دور میں بچوں کی موسیقی کے پروگرام عوام کو دئیے۔ آج اس عظیم الشان ادارے کو بنے اٹھاون سال ہوگئے ہیں۔
میں بات کررہی تھی کہ وہ لڑکی عائشہ جس کی بھارتی گانے پر بےہودہ رقص کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے ندا یاسر کے پروگرام میں آئی۔ لڑکی کافی خوش تھی کہ ٹک ٹاک سٹار نہ ہونے کے باوجود رات و رات سٹار بن گئی۔ ندا یاسر نے اس سے انتہائی بھونڈے سوال کئیے کہ یہ لڑکی بالکل شرمائی نہیں بالکل گھر والا ڈانس کردیا وغیرہ وغیرہ۔ بھئی قوم کیا صرف ناچنے گانے والے طبقے سے ہے جن کے گھر میں ہر وقت ناچ گانا ہوتا رہتا ہے۔ لوگوں کا وہاں خوشی سے برا حال تھا۔ پتا نہیں کس بات کی پذیرائی کررہے تھے۔ جس طرح کے ڈرامے ہمارے پرائیویٹ چینلز دکھا رہے ہیں اس نے معاشرے میں خاصا بگاڑ پیدا کیا ہے۔ رہی سہی کسر اس طرح کے مارننگ شوز نے پوری کردی ہے۔ مجھے یہ بتائیے کہ ایک دو چینلز کے مارننگ شو کے علاوہ کسی پروگرام میں کوئی تعمیری، تربیتی، اخلاقی، تعلیمی بات کی جاتی ہے۔ اور کچھ نہیں ملتا تو لوگوں کی شادیوں کے فنکشن شروع کردیتے ہیں۔ سوائے میک اپ کرنے کے نت نئے طریقوں، رقص و سرود، فضول بکواس، نت نئے فیشن اور لچر بازی کے علاوہ ان مارننگ شوز میں کچھ نہیں ہوتا۔ اور یہ بند بھی نہیں کئیے جاتے کیونکہ ایک مخصوص طبقہ یہی سب دیکھنے کا عادی ہوچکا ہے۔ رہی بات ندا یاسر کی تو جناب ان کے گھر صرف ایک ہی آرٹسٹ تھے وہ ان کے سسر تھے جن کے نام پہ ندا ، ان کے شوہر یاسر اور دیور روزی روٹی کما رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معیار اب یہی رہ گیا ہے کہ ہم اپنے چینلز اور پروگراموں کی ریٹنگ بڑھانے کیلئے اس قسم کے گھٹیا پن پر اتر آئے ہیں۔ رقص بری بات نہیں ہے لیکن کوئی معیار بھی تو ہو۔ کیا ندا یاسر یا کسی اور اینکر نے کبھی کسی لڑکی کو انوائیٹ کیا ہو جس نے کسی امتحان میں ٹاپ کیا ہو؟ کسی نوجوان لڑکی کی پہلی کتاب چھپنے پہ پروگرام کیا ہو؟ کسی ورکنگ وومن کے مسائل پہ پروگرام کیا ہو؟ جناب عوام کا معیار متعین کرنا پڑتا ہے ان کی ذہنیت بدلنی پڑتی ہے تاکہ روشن خیال پڑھی لکھی قوم کے طور پر ہم سامنے آسکیں۔ اس قوم نے کبھی بھی اصلی ہیروز پہ توجہ نہیں دی جب تک زندہ ہوتے ہیں وہ بیچارے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں جب مر جاتے ہیں تب قوم کو ہوش آتا ہے اور ہیرو بنا کر پیش کردیتے ہیں۔ اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کی کردار سازی میں اقدار، اخلاقیات اور تہذیب کی بہتری کیلئے اقدامات نہ کئیے تو کچھ ممکن نہیں آنے والی نسلیں ایسی بھیڑ چال کی بدولت بے راہ روی شکار رہے گی۔













