بھارت کو یہ مذہبی شدت پسندی لے ڈوبے گی (قند مکرر)شمس جیلانی

0
263

نوٹ۔ اب سے دو سال پہلے یہ مضمون آُپ کی نظروں سے گزرا ہوگا۔ اب بلی تھیلے سے پوری طرح باہرآگئی ہے اور بھارت کی پوری کوشش ہے کہ وہ ہمیشہ طرح پاکستان کو جنگ میں الجھا دے تاکہ کشمیر کا مسئلہ دب جائے؟ دانشوری کا تقاضہ یہ ہےکہ ہم اسے سیاسی میدان میں شکست دیں۔ آئے دعا کریں اللہ سبحانہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے (آمین)

بہت مشہور کہانی ہے کہ ایک چڑی ماراپنے بیٹے کو بھی اپنا آبائی پیشہ سکھانے کے لیے ساتھ لے گیا۔ اس نے جال ڈالا اور بہت سے پرندے جال میں پھنس گئے ۔ ان میں غالبا ً کوئی ترقی پسند بھی تھا کہ اس نے یونین بناڈالی اور سب نے ملکر طے کیا کہ جال کو لے اڑیں اور لے بھی اڑے؟ باپ آرام سے بیٹھ کر تماشہ دیکھتا رہا کہ دیکھیں اب یہ کیا کرتے ہیں ۔ بیٹا اس قسم کے نشیب و فراز سے کبھی گزرا نہ تھا، گھبرا گیا اور بولا کہ پرندے تو کیا! اب ہمارے ہاتھ سے جال بھی گیا؟ اس نے جواب دیا کہ بیٹا آرام سے بیٹھا رہ، چونکہ پرندے ایک قسم کے نہیں ہیں یہ زیادہ دور نہیں جاسکتے ۔ کیا تونے فارسی کا یہ مقولہ نہیں سنا کہ کند ہم جنس با ہم جنس پرواز، کتوبر بہ کبوتر باز بہ باز۔ وہی ہوا جو اس کے جہاندیدہ باپ نے پیش گوئی کی تھی۔کہ وہ جال کو لیکر تھوڑی دور تو چلے پھر زمین پر آرہے ۔ ہوا یہ کہ سب پر ندےایک جیسے نہیں تھے لہذا پرواز میں یکسانیت پیدا نہ ہو سکی اور آپس میں شکایات پیدا ہوگئیں ہر گروہ کہنے لگا کہ ہم پر سارا وزن ڈالدیا ہے، ہم چھوڑے دیتے ہیں ۔چونکہ ازالہ کسی کے بس میں نہ تھا سب نے اڑنا بند کر دیا اور جال نیچے آرہا ۔ چڑی مار آرام سے اٹھا جال سمیٹا اور پرندوں کو پکڑلیا۔

ہندوستان میں گاندھی جی کی بنائی ہوئی ہندو جاتی کی یکجہتی کی پالیسی نے وقتی طور پر تو ہندوستان کو جمہوریت چلانے کااہل بنا دیا تھا۔اوراسی کی بناپر اعلیٰ ذات کی اقلیت نے ساٹھ سال تک ہندوستان پر راج بھی کرلیا۔ وہ نہرو جی کو کانگریس میں شاید یہ سوچ کر لائے تھے کہ ہندوستان جلد ہی سوشیل ازم کو قبول کر لے گا اور مذہب کی حیثیت ثانوی سی رہ جا ئے گی۔ مگر ہوا الٹ کہ سوشیل ازم بہت جلدہی دم توڑگیا ۔ اس میں سب سے زیادہ اپنے مذہب کی حفاظت کرنے والا طبقہ مسلمانوں کا تھا جو جہاں بھی تھا متاثر نہیں ہوا۔ اس سے بھی نہرو جی نے اپنے خیال میں پہلے ہی جان چھڑالی تھی کہ ان کے اکثریتی علاقے بیکار کرکے انہیں دیدیئے جائیں ۔ مگر اس کاکیا کریں کہ ان کی تعداد پھر بھی گھٹی نہیں پھر اتنی ہی ہوگئی جتنی کہ پہلے تھی بلکہ اس سے چوگنی اور اب پھر خطرہ بنی ہوئی ہے۔ دوسری گاندھی جی کی نیچ ذات کے لو گو ں کو اپنانے کی پالیسی جوکہ وہاں اچھوت (شودر) کہلاتے ہیں اور وہی اصل ہندوستانی بھی ہیں اپنائی جن سے ان کی پہچان آرین نے وہا ں آکر چھین لی تھی۔ ان کا گروتھ ریٹ بھی اعلیٰ ذات کے ہندؤ ں سے زیادہ رہا لہذا وہ بھی تیزی بڑھے۔ جنہیں کہ آرین نے ہندوستان آنے کہ بعد غلام بنا لیا تھا مگر یہ انہیں خود میں پوری طرح سمو ع نہیں سکے اس لیے کہ اس میں انکی اپنی قدریں مانع رہیں اس کی وجہ وہ طبقاتی تقسیم ہے جو ان کے ایمان کا حصہ ہے کہ برہما جی کے سر سے برہمن پیدا ہوئے ۔ سینے سے چھتری (راجپوت) پیدا ہوئے ،پیٹ سے کھتری (بنیئے) پیدا ہوئے اور پیرو ں سے شودر۔ چونکہ وہ اسکا خلاف نہیں کرسکتے تھے۔ لہذا وہ ان میں ضم نہیں ہوسکے ۔ اس کو پہلا جھٹکا اس وقت لگا جبکہ کانگریس کے صف ِ اول کے رہنما ختم ہو گئے اور ایک اچھوت جگ جیون رام کی باری آئی، کیونکہ اب وہی بچے تھے سب کا خیا ل تھا کہ وہی اپنی سینیریٹی کے اعتبار سے وزیر اعظم ہونگے،لیکن ہوئے دوسرے ؟ یہاں سے ان کی آنکھیں کھل گئیں ۔اور انہوں نے مسلمانو اور دوسری اقلتوں کو اپنے ساتھ ملاکر صوبوں میں بہت ہی کامیابی کے ساتھ حکومتیں بنالیں۔ تو انہیں خطرے کا احساس ہوا ؟ حقیقت یہ ہے کہ نہ یہ ان میں ضم ہوسکتے ہیں نہ وہ ان میں ضم ہو سکتے ہیں ۔اس لیے کہ ان میں اور اعلیٰ نسل کے ہندؤں میں کوئی چیز بھی مشترک نہیں ہے؟ وہ ان کے دیوتاوں کو نہیں مانتے یہ ان کے دیو تاؤں کو نہیں مانتے، اُن کی تہذیب علیحدہ ہے ان کی تہذیب الگ ہے ان کارنگ الگ ان کا رنگ الگ ہے ۔ اب ان سے بھی وہ بہت شاکی ہیں جو شیو سینا کہ ایک انتہائی فعال لیڈر کی تقریر سے ظاہر ہوتا ہے ۔ جس میں انہوں نے فرمایا کہ جب ہم مسلمانوں کے خلاف کچھ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں حکومت ہوشیار کردیتی ہے، اس دن مسلمان ٹوپی اوڑھ کر ہی نہیں آتے جو پہچانے جائیں اور مسجدوں میں تالے لگا دیتے ہیں لہذا بچ جاتے ہیں ۔

اس کا حل انہوں نے یہ بتایا کہ نوجوان تھوڑا ساوقت دیں تو ان جیسے لاکھوں سیوک پیدا ہوسکتے ہیں اور مسلمانوں کو ختم اورمسجدوں کو ہمیشہ کے لیے بند کرسکتے ہیں۔ تین بڑے گرہوں، مسلم ، اچھوت اور عیسائی برادری کے علا وہ وہاں اور بہت سے چھوٹے گروپ ہیں جن سے پہلے دن سے وہ بر سرِ پیکار ہیں جیسے کہ پنجاب میں سکھ، آسام میں ناگا وغیرہ ۔ جبکہ بھارت کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ وہ کبھی ایک ملک نہیں رہا وقتی طور پر آنے والوں نے انہیں فتح کیا غلام بنا یا آنے والی اقلیت نے ہی ان پر زیادہ تر راج کیا چونکہ وہ دوربادشاہی کا دور تھا ۔ لہذا اکثریت پر راج کرنا مشکل نہ تھا۔ مگر اب دور جمہوریت کا ہے۔ اور اعلیٰ ذات کے ہندؤں کے لیے اپنی بقا کا مسئلہ ہے۔ اس لیے شدت پسندی کو فروغ دینے میں ہی ان کی بقا ہے۔ اس وقت وہ بہت سے محاذوں پرلڑ رہے ہیں ۔ وہ یکجہتی جو گاندھی جی نے اپنی دور اندیشی اور فراست سے پیدا کردی تھی مصنوعی ہونے کی وجہ سے چل نہیں سکی اور دم توڑ رہی ہے۔ کیونکہ کوئی چیز ان میں مشترک نہیں ہے۔ اس لیئے وہ دن دور نہیں ہے کہ یہ عظیم ملک جیسے پہلے بنتا اوربگڑتا رہا ہے۔ ایک مرتبہ پھر پارہ پارہ ہوجائے۔ ساؤتھ الگ ہو جائے گاتو نارتھ الگ ہو جائے۔ اس کا بیج اعلیٰ ذات کے ہندؤں نے نادانی میں خود ہی بو دیا ہے یہ سمجھ کر کہ ہم مارپیٹ کر سب کو ٹھیک کرلیں گے اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے شدت پسندی ختیار کرلی ہے۔ وہ بہ یک وقت مسلمانوں کو بھی مار رہے، اچھوتوں کے ساتھ بھی کئی سال سے صوبہ بہار میں ان کے ساتھ حالت ِ جنگ میں ہیں اس میں اب ہر یانہ کا فرید آباد بھی شامل ہوگیا جو دراصل دہلی سے ملا ہونے کی وجہ سے اسی کا حصہ سمجھ لیجئے جہاں ایک اچھوت خاندان چند روز پہلے زندہ جلادیا گیا، سا ؤتھ میں مسیح برادری کو تاراج کرنے کے لیے ان کے در پہ ہیں ۔ مشرقی پنجاب میں تقسیم کے بعد سکھوں سے کبھی بنی ہی نہیں ۔ ایسے میں یہ کون جانے کے یہ جال کب گرجا ئے۔ جبکہ شدت پسندی وہ جن ہے جسے بوتل سے نکالا تو جاسکتا ہے مگر دوبارہ قید کرنے کے لیے حضرت سلیمان جیسا شخص چاہیئے جو بادشاہ بھی ہو اور نبی (ع)بھی، تاکہ خدا کی نصرت کی بنا پر پھر اس جن کو بوتل میں بند کرسکے، جبکہ ہمارے عقیدے کے مطابق نبوت ختم ہوچکی ہے۔ بی جی پی کی جیت سے پاکستان میں امیدیں پیدا ہوئی تھیں کہ بھارت کے ساتھ دوستی ہو جائے گی جیسے کہ پہلے ہوگئی تھی۔ مگر موجودہ پردھان منتری اپنی بات کے دھنی نکلے اور جو انہوں نے پہلے کہا تھا کہ شیو سینا اتنی پوتر ہے کہ میں کبھی اس کے خلاف ایک لفظ نہیں کہونگا۔ انہوں نے اب پھر دہرا دیا ہے کہ “ کچھ سیاسی پنڈت یہ کہہ رہے ہیں کہ میں شیو سینا کے خلاف کچھ کیوں نہیں کہتا ، میں ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ، ایک لفظ بھی ان کے خلاف نہیں کہونگا؟ وہ ان کے ساتھ حکومت میں بھی شامل ہیں لہذا اپنے کولیشن پارٹنر (ساجھی) کے خلاف ویسے بھی کچھ کہنا مشکل ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی کہ نفرت پیدا کرناآسان ہے مگر اس کو الفت میں بدلنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ یہ وہ بلا ہے کہ یہ اپنے پیدا کرنے والے کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتی اگر وہ اپنی ڈگر سے ذرا سا بھی ہٹے ؟ اس وقت پوری دنیا شدت پسندی کی لپیٹ میں ہے۔ آئندہ کیا ہوگا یہ خدا ہی جانتا ہے۔ کیونکہ دنیا کا بہت بڑا حصہ اس سے اسوقت متاثر ہے۔ ان میں سب سے بری حالت مسلم ممالک کی ہے ۔ اس کے باوجود انکا دین ایک ہے ،خدا ایک ہے کتاب ایک ہے۔ شدت پسندی کا بیج اغیار نے ان کے یہاں پچھلی صدی میں بویا تھا جوکہ اب درخت کی شکل اختیار کرچکا اس کی شاخیں تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ جسے سات سوسال پہلے ہلاکو نے ختم کیا تھا۔ اب وہ بھی اپنے سرکس ماسٹروں کے بس سے باہر ہے۔ آگے کیا ہوگا یہ اللہ جانتا ہے۔ انسانی کی عقل اس کاحل سوچنے سے قاصر ہے۔
میرا پاکستان کے مسلمانوں کو مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچا ؤکی سوچیں ، پچھلے دوسالوں سے حالات میں جو سدھار پیدا ہوا اس کو قائم رکھنے کی کوشش کریں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں وہ وہاں کی ا کثریت سے خود ہی نپٹ لیں گے۔ کیونکہ وہ اقلیت میں ہونے کی بنا پر ہمیشہ کی طرح متحد ہیں ۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ ہماری طرح فرقوں میں بٹ کر آپس میں نہیں لڑ رہے ہیں۔ ورنہ دونوں کا نقصان ہوگا اور “ ہمیشہ کی طرح بندر کی بلا طویلے کے سر پڑجائے گی “

SHARE

LEAVE A REPLY