الطاف فاطمہ جنہیں اہل ادب کی اکثریت زندگی میں ہی بھول گئی ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم

0
158

تخلیقکار اللہ پاک کی سب سے بڑی نعمت ہیں جو کبھی ادب سمیٹ کر سامنے رکھ دیتے تو کبھی تاریخ لکھ جاتے ہیں ۔۔ پر ایک بات ایسی ہوتی ہے جو ہر ایک کو دوسرے سے الگ کرتی ہے ۔ مجھے یاد ہے ابھی تک جب دو ہزارچار میں میری پہلی کتاب “ گردباد حیات “ کی تقریب اجراء تھی جسے مزاح کے پروقار شخصیت جناب جمیل احمد اور خوش بخت شجاعت نے کراچی آرٹس کونسل میں منقعد کی تھی ۔ خوش بخت سے فون پر اسی سلسلے میں بات ہورہی تھی ۔ انہوں نے بہت ہی قیمتی مشورہ دیاکہ تمام قلمکاروں کو میں خود دعوت دوں ۔ اور ساتھ ہی لسٹ بمعہ فون نمبرز کے مجھے روانہ کر دی ۔ سڈنی سے کراچی پہنچتے ہی میں نے باری باری سب کو فون کیا ، اور جب جناب جمیل الدین عالی کو فون کیا اور مدعا بیان کیا تو انہوں نے جو جواب دیا اسے سن کر میں دنگ رہ گئی ۔۔ انہوں نے پوچھا “ کیا تم فنون میں چھپتی ہو “ ۔۔ میں نے کہا “ نہیں وہاں نہیں چھپی ہوں پر جناب احمد ندیم قاسمی نے کتاب پر تبصرہ کیا ہے اور تقریب کے بعد ان سے ملاقات اور شکریہ ادا کرنے لاہور جاؤنگی “ ۔۔عالی صاحب کو میری سچائی قطعا پسند نہیں آئی اور خفگی سے کہا “ جو فنون میں نہیں چھپتا میں ان کو ادیب نہیں مانتا اور نا ہی ان کی کتابوں کے اجراء پر جاتا ہوں “ اس سے پہلے کہ میں کچھ مذید کہتی وہ فون رکھ چکے تھے ۔ میں ابھی بھی یہی سوچ رہی ہوں کہ فنون سے پہلے جو قلمکار تھے کیا وہ تخلیکار نہیں تھے ۔۔۔۔؟

دوسرا ادبی دھچکہ مجھے دو ہزار سولہ مستنصر حسین تاڑڑ نے دیا ۔ وہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی ادبی تقریبات کے بعد تسمانیہ میں پہاڑ دیکھنے کے لئے آئے ہوئے تھے ۔ میں نے سوچا ان سے ریڈیو سڈنی پر بات چیت کی جائے ، اخبار کے لئے انٹرویو کروں ۔ وہ جن کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے میں ان صاحب سے اجازت لی ، دن اور وقت مقرر ہوا ۔ میں چونکہ سڈنی میں ہوں اس لیئے بات چیت فون پر ہی ہونی طے ہوئی تھی۔ وقت مقررہ پر جب میں نے فون کیا تو کئی بار فون کرنے پر آخر کار انہوں نے مجھ سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔۔ اور جب انہوں نے میری پوری عرض سن لی کہ دن وقت مقرر ہوا تھا اس لیئے زحمت دے رہی ہوں تو انہوں نے مجھے ڈانٹتے ہوئے کہا “ میں نے کسی کو ٹائم نہیں دیا اور نا ہی میں آپ جیسے ایروں غیروں کو اپنا وقت دے سکتا ہوں “ ۔۔اور ساتھ ہی دھڑ سے فون بند کر دیا ۔۔۔۔۔ مستنصر حسینس تاڑڑ کی بدتمیزی اور لہجے کا غرور میں کبھی بھول ہی نہیں سکتی ۔

ایک اور ناقابل فراموش ادبی دھچکا جولائی دو ہزار سترہ میں محترمہ الطاف فاطمہ سے بات کرکے ملا ۔۔۔ اتنی شفقت ، اتنی محبت سے پہلے ان تک پہنچنے پر شکریہ ادا کیا ۔ پھر بولی کہ انہیں سنائی ٹھیک طرح سے نہیں دیتا اس لیئے فون پر جواب نا دے پایئں گی ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا جب بھی لاہور آؤ ضرور آنا پھر جو بات کرنی ہو کر لینا ۔۔۔ میرے تخلیکقاروں کے دوغلے رویوں نے جو زہنی صدمے دیئے تھے وہ بھول بھال گئی اور اپنے قریبی ترین دوستوں کے علاوہ کبھی نا کسی کو کہا اور نا لکھا ۔

چار برس سے انتیس نومبر کا دن میری زندگی کا مشکل ترین دن ہوتا ہے میری ماں اس دن ہمارے درمیان سے رخصت ہویئں تھیں ۔ کل وہی دن تھا جب محترمہ الطاف فاطمہ کی وفات کی خبر ملی ۔۔۔ سارے زخم پھر سے ہرے ہو گئے ۔۔ کیا کیا نا یاد آیا ۔۔ ان کی وہ دھیمی دھیمی آواز اور مخصوص مشفق استادوں والا لہجہ زہن میں ان کی محبت سے بھرپور صورت بناتا گیا ۔ مجھے زاتی طور پر کبھی بھی یوں نہیں لگا میں الطاف فاطمہ سے بلامشافہ نہیں ملی ہوں اور میرے نزدیک کسی کامیاب ترین تخلیقکار کا معیار یہی ہے کہ آپ اسے روز ان کی تحریروں میں ملیں ۔ یہ جن کو ہم جنیئوئن یا حقیقی لکھنے والے کہتے ہیں یہ دراصل وہی لوگ ہیں جو دنیا بھر کے ادب میں ایک ہی معیار پر پرکھے جاتے ہیں اور وہ معیار ہے ضمیر اور قلم کی آواز پر لکھنا ۔۔اور جو لکھنا اس کی عملی تصویر ہونا ۔ ایسے لوگ دنیاوی شہرت سے عمومی طور پر خود تو دور رہتے ہیں لیکن یہ الگ بات شہرت خود ان کے قدموں کو چومتی ہے ۔

یوں تو الطاف فاطمہ کی زندگی کے بہت سارے رخ ہیں لیکن ہم شاعروں ادیبوں کے نزدیک ان کا حسین ترین رخ ان کی افسانہ نگاری اور ناول نگاری ہے لیکن میں خود باوجود اسی شعبہ تخلیق سے تعلق رکھنے کے یہ سمجھتی ہوں کہ الطاف فاطمہ کا سب سے بڑا ، مظبوط اور مستند حوالہ ان کا استاد ہونا ہے ۔ ایسی استاد جس نے سینکڑوں نہیں ہزاروں طالب علموں کو اردو کی مٹھاس اور ادب کی چاشنی سے روشناس کروایا اور کتنی ہی لڑکیاں ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر افسانہ نگاری اور تخلیقکاری کی طرف آیئں ۔ ہم معاشرتی طور پر زود فراموش امت ہیں ۔ ہماری اکثریت کو اس تعلیمی ادارے کا نام بھی معلوم نہیں جہاں الطاف فاطمہ نے اپنی جوانی اور ادھیڑ عمر کے کتنے ہی عشرے پہلے ایک لیکچرر پھر پروفیسر اور پھر اردو کی صدر کے طور گزارے ۔ ان کی وفات کی اطلاع سے اب تک شاید ہی کسی ایک جگہ پر میں نے اس تعلیمی ادارے کا درست نام پڑھا ہو ۔ لاہور میں پنجاب اسمبلی کی عقبی سڑک پر اس معروف اور قدیم ادارے کا نام “ اسلامیہ کالج برائے خواتین کوپر روڈ “ ہے جسے انجمن حمایت اسلام نے اسلامیہ کالج کے سول لایئنز کے ساتھ ساتھ تعمیر کروایا تھا۔

الطاف فاطمہ نے اپنی مرحومہ بہن کے بچوں کو پالنے اور دیگر خاندنی زمیداریوں کو نبھاہنے کے لئے عمر بھر شادی نہیں کی تھی مگر میں سمجھتی ہوں شادی نا کرنے کے پس منظر میں قلم سے ان کا ابدی اور دائمی رشتہ بھی شامل ہے اور اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ وہ نوے برس سے زیادہ کی عمر میں بھی یعنی مرتے دم تک تخلیق کا کام مسلسل کر رہی تھیں ۔ انہوں نے اپنے ایک تازہ ترین انٹرویو میں ایک طویل افسانے کا زکر کیا ہے ۔ نہیں جانتی وہ اسے مکمل کر پایئں یا وہ افسانہ ادھورا ہی رہ گیا ۔ ظاہری طور پر تو الطاف فاطمہ کا سفر مکمل ہوگیا لیکن یہ معاشرہ اور اردو کی ادبی دنیا شاید ان کےتخلیقی کام کا قرض کبھی نا اتار سکے ۔

میں اپنے دل کی یہ بات کہے بغیر اس مختصر تاثراتی تحریر کو ختم نہیں کرنا چاہتی کہ ہم مجموعی طور پر امت کے حوالے سے بھی اور پاکستان میں ادبی معاشرے کے حوالے سے بھی بے حسی کے اس مقام پر ہیں جہاں سے ذوال کا عروج شروع ہوتا ہے ۔ میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ شاعروں اور ادیبوں کو معاشرے کا حساس ترین طبقہ کہا جاتا ہے لیکن پاکستان کے ادبی تناظر میں ایک اکثریت ایسی ہے جن کی بے حسی پر شک ہی نہیں یقین بھی ہے ۔

میرا یہ سوچ کر دم گھٹتا ہے کہ الطاف فاطمہ نے اپنی زندگی کے کتنے ہی برس لاہور کے ایک علاقے میں تنہائی اور گمنامی میں گزارے ۔ پاکستان کے اور خاص طور پر لاہور کے ادبی حلقوں نے ۔، میڈیا نے ، ٹی وی چینلز نے ، اخبارات نے ، تعلمی اداروں کے سربراہوں نے ، ادبی تنظیموں کے کرتا دھرتا لوگوں نے یا یوں کہوں اس معاشرے نے مجموعی طور یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ الطاف فاطمہ زندہ ہیں تو کہاں ہیں ۔ ہائے ۔۔۔۔۔افسوس کہ ایسی بڑی قلمکار کی حیات کا پتہ بھی اس کے مرنے پر ملا۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY