کیا لاہور ریڈیو کی بربادی کا منصوبہ ریڈیو پاکستان کی تباہی کی طرف پہلا قدم ہے ؟ دسویں اور آخری قسط
کیا یہ سب وزیر اطلاعات اور سیکرٹری اطلاعات کی منظوری سے ہو رہی ہے؟

تحقیقاتی رپورٹ۔ وقائع نگار اور مقامی چشم دید لوگوں کے بیانات پر مبنی

مرتب، حافظ نثار محمد۔لاہور

گزشتہ قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔
سچ تو یہ ہے کہ ملک روز بروز عدم استحکام کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے حکومت اور وزارتیں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں اور ایسی حالت میں ریڈیو پاکستان کے ساڑھے چار ہزار پینشنرز گزشتہ اکتوبر سے اب تک ہر ماہ اپنی پنشن کے لیئے اور ملازمین اپنی تنخواہوں کے لیئے آسمان کی طرف دیکھتے رہتے ہیں کہ کب کوئی معجزہ ہو

بے حسی کی انتہا ہے۔ کرسیوں پر بیٹھے اعلیٰ اور اعلیٰ ترین افسران کو یا تو موت یاد نہیں،یا آنکھوں میں چربی ہے یا پھر یہ ادراک نہیں کہ بس کچھ ہی عرصے میں انکو بھی مدت ملازمت پوری کر کے پنشنرز کی لائن میں لگنا ہے اور لائف سرٹیفکیٹ دینا ہے۔ اگر یہ نیکی نہیں کر سکتے تو کم از کم قومی ادارے کی جڑیں تو کھوکھلی نہ کریں

ریڈیو پاکستان میں جب سے وزارت اطلاعات کے بابو آنے شروع ہوئے ہیں طریقہ واردات پرانا ہی رہتا ہے یعنی پرانے کام اور چینل بند کردو، نئے منصوبے، نئے چینل اور نئے نئے نام رکھ کر موج میلا شروع ہوجاتا ہے۔ اس واردات میں کچھ اندر کے لوگوں کو بھی شامل کرلیا جاتا ہے۔ یہ اندر کے وارداتئیے بھی کمال کے لوگ ہیں، ساری زندگی اسلام آباد کے صدر دفتر میں ایک سے دوسری منزل پر مٹر گشت کرنے والے یہ وارداتئیے خوبصورت اصطلاحات اور خیالی پلاؤ تیار کرنے کے اتنے ماہر ہوتے ہیں کہ یہاں آنے والا ہر نیا بابو انہیں اپنی ضیافت میں شریک کرلیتا ہے۔ اس طرح ریڈیو پاکستان کے ملازمین اپنی روزی روٹی کے لیئے تڑپتے رہ جاتے ہیں جبکہ ادارے کے اندرونی و بیرونی وارداتئیے نئے بابو کے آنے تک مکمل آرام سے ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے چلے جاتے ہیں۔

یہ لوگ ملازمین کو ادارے کے لیئے مالی وسائل پیدا کرنے کی تحریک دیکر ان سے کولہو کے بیل والاسلوک کرتے ہیں جبکہ خود نئے منصوبوں کی آڑ میں مال بناو مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گذرا ایسا ہی ایک تجربہ “دھنک” کے نام سے شروع ہونے ایف ایم چینل کا تھا جس کے بارے میں اس وقت کے ڈائیریکٹر جنرل کا فرمانا تھا کہ یہ چینل ریڈیو پاکستان کے لیئے کمائی کا ذریعہ ہوگا۔ پھر ارشاد ہوا کہ اس کاروبار کو مجھ سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا۔ موصوف اپنا وقت گذار کے جب رخصت ہوئے تو پتہ چلا کہ اس چینل کی وساطت سے ایک دھیلا بھی وصول نہیں ہوا البتہ خصوصی معاوضوں پر رکھے جانے والے سفارشی لوگ اپنی وصولی میں انتہائی کامیاب رہے۔

اب یہ چینل اچانک ہونے والے ایک فیصلے کی زد میں آکر بند ہوچکا ہے اور اس کی جگہ نئے انڈے بچے آنکھوں کا تارا بن چکے ہیں۔ بغیر کسی منصوبہ بندی اور سوچ بچار کے شروع ہونے یہ چینل اچانک بن جاتے ہیں اور اچانک ہی کھل جاتے ہیں، بنیادی شرط نئے بابو کی آمد اور پسند ہے۔ پہلے انگریزی زبان میں ایف ایم چینل شروع کیا گیا پھر بغیر کسی وجہ کے بند کردیا گیا، اب پھر شروع کردیا گیا ہے۔ نہ کوئی تحقیق، نہ اہداف کا تعین، نہ ہی اس بات کا ادراک کہ یہ ادارے کے لیئے مالی وسائل پر کتنااثرانداز ہوگا۔ بس حکم_حاکم کہ کل صبح یہ کردو ،وہ کردو۔ اب حکم ہواہے کہ بس ھمیں نہیں پتہ پیسے کما کر لاو اور ساتھ ہی ورنہ کی دھمکی بھی۔

اس دھمکی میں یہ فرمانِ شاہی بھی شامل ہے کہ اگر ملازمین نے پیسے کما کر نہ دئیے تو ان کی سالانہ کارکردگی اور ترقی کو بھی ملیا میٹ کردیا جائے گا۔ اب بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ بھلا پرچون کی دوکانوں یعنی سٹیشنوں سے آپ کتنا کما سکتے ہیں؟ کیا یہ فرمانِ شاہی جاری کرنے والوں نے اس ضمن میں کوئی پالیسی بنائی ؟ کیا خسارے میں جانے والا واحد ادارہ ریڈیو پاکستان ہے؟ باقی اداروں میں کیا دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ؟ دراصل یہ ساری اچھل کود ریڈیو پاکستان کے اثاثوں پر قبضے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کی ابتداء پنڈی ریڈیو کے رقبے اور لاہور ریڈیو کے کمروں سے ہورہی ہے یعنی اونٹ نے خیمے میں اپنی ٹانگوں کی جگہ بنا لی ہے جلد ہی یہاں کے مکین خیمے سے باھر اور اونٹ بابو پورے خیمے کا مالک ہوگا۔

گزشتہ دور حکومت میں بھی بابو لوگوں نے وزیروں مشیروں کو اسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا تھا اور اب بھی یہی سوچ اور آرزو ہے۔ اندازہ لگائیں کہ گذشتہ دنوں ہونےوالی میٹنگ میں تمام سٹیشن ڈائریکٹرز کی گوشمالی صرف اس لیئے ہوئی کہ آپ لوگ اپنے مسائل پر بات کرتے ہیں جبکہ ھمیں اب صرف پیسے کمانا ہیں۔ اس سارے عمل میں ادارے کے اندر بیٹھے وارداتیے اھم کردار ادا کرتے ہیں جنہوں نے خود تو ھمیشہ چوری کھانے میں وقت گذارا لیکن دوسروں کی سوکھی روٹی پر بھی پکڑ کی دھائی دیتے نہیں تھکتے۔ نئے پراجیکٹ ، تکنیکی اور دوسرے سامان کی خریداری میں ایک سوئی پر بھی اپنا حصہ وصول کرنے والا یہ کمشن مافیا اب پھر سرگرم ہے اور ادارے کی اب تک کی ساری تباہی کا زمےدار ہے۔ بات کو پیسے کمانے تک محدود رکھتے ہوئے ایک دلچسپ واردات کا احوال بتانا بھی ضروری ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات میں دو شعبے ایسے ہیں جن کے صوابدیدی فنڈز کا کوئی حساب ہی نہیں۔ انٹرنل پبلسٹی ونگ اور ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ ہر سال پی ٹی وی سمیت مختلف چینلز، اداروں، اور شخصیات کو حکومتی پالیسیوں کی تشہیر کی مد میں اربوں روپے تقسیم کرتے ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ پہلے پی ٹی وی کو اس مد میں دو ارب سے زائد اور جنگ جیو کو صرف پانج ارب سے زائد ادا کیئے گئے۔ اب یا تو ریڈیو پاکستان کسی اور سیارے پر واقع ہے یا پھر یہ کسی دشمن ملک کا ادارہ ہے جو قومی خزانے کی اس بندر بانٹ سے محروم ہے۔ اربوں روپے کی تقسیم وزارت اطلاعات و نشریات میں بیٹھے یہی بابو کرتے ہیں جن میں سے کچھ کو ریڈیو پاکستان کو نوچنے کے لیئے بھیجا جاتا ہے۔

سٹیشنوں اور ملازمین کو پیسے کما کر لانے کی دھمکی دینے والے ان بابووں سے بھلا کوئی پوچھے کہ اپنی تشہیر کی مد میں منسٹری ریڈیوپاکستان کو حصہ کیوں نہیں دیتی؟ پی ٹی وی جیسے اداروں کو تو بجلی کے بلوں میں سے بھی اچھی خاصی رقم کا حقدار ٹہرایا گیا ہے لیکن ریڈیوپاکستان کو کیوں محروم رکھا گیا ہے؟ کیا یہ بات غلط ہے کہ ریڈیوپاکستان کی نشریات باقی تمام میڈیا سے زیادہ پاکستان کی آبادی کا احاطہ کرتی ہیں ؟ ھمارے بابو اس جانب نہ خود جائیں گے نہ آپ کو جانے دیں گے۔

کیا حکومتی پالیسیوں کی تشہیر کی مد میں کم از کم دو ارب روپیہ ریڈیو پاکستان کا حق نہیں بنتا؟

اب آجائیں پیسے کمانے کے دوسرے ذریعے پر، یوں تو ریڈیوپاکستان کے موجودہ اور سابقہ تمام ڈائریکٹر جنرل بڑے بڑے مالیاتی اور کمرشل اداروں سے اپنے تعلقات اور ان پر اپنی نوازشات کے قصے سنانے سے نہیں تھکتے لیکن ان عظیم لوگوں نے اپنی دوران تعیناتی ریڈیوپاکستان کے لیئے کتنا پیسہ کما کر دیا؟ یہ کیا کہ آپ دوران ملازمت بڑے بڑے کاروباری اداروں کے شراکت دار بھی بنیں لیکن فائدہ پہنچانے میں اپنی ناک سے آگے آپ کو نظر ہی کچھ نہ آئے۔ سٹیشن اور خاص کر چھوٹے شہروں میں قائم ریڈیو سٹیشن ایک حقیقت پسندانہ مارکیٹنگ پالیسی اور ٹیرف کے بغیر کیسے پیسے کما کر دے سکتے ہیں۔ آپ خراب ٹرانسمیٹرز ، بوسیدہ سٹوڈیوز، کم سٹاف ، انتہائی ناقص ٹیرف، اور سب سے بڑھ کر اضافی فائدے کی ترغیب کے بغیر کیسے پیسے کما کردے سکتے ہیں ؟ کیا یہ بابو لوگ پاکستان کے ھمسایہ ممالک کے نشریاتی اداروں اور ان کے مالی وسائل کی دستیابی پر نظر ڈالنا پسند فرمائیں گے؟ اس طرح کی بحث میں ھمیشہ یہ دلیل دی جاتی تھی کہ حکومت ریڈیو پاکستان کو جو بجٹ دیتی ہےتو پھر تشہیری مواد کے لیئے علیدہ سے پیسے کیوں دے؟

اب جبکہ ریڈیوپاکستان کے ملازمین بھی دوسرے سرکاری ملازمین کی شمار بندی میں آچکے ہیں اس لیئے یہ دلیل بھی زمین بوس ہوچکی۔ کتنے سرکاری ملازمین کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے اداروں کے لیئےمالی وسائل بھی مہیا کریں۔ پیسے کمانے کا فتوی ان سٹیشنوں پر بھی لاگوکردیا گیا ہے جو ہرلحاظ سے تباہی کی مکمل داستان ہیں۔

آزادکشمیر ریڈیو مظفرآباد کی عمارت 2005 کے زلزلے میں تباہ ہوئی اور آزادکشمیر ریڈیو میرپور 2019 کے زلزلے میں برباد ہوا، آزادکشمیر ریڈیو تراڑکھل جسکی آواز سے کبھی بھارتی ایوان لرز جایا کرتے تھے بالکل ہی بند کردیا گیا۔دوسری جانب بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مختلف نوعیت اور طاقت کے 44 ٹرانسمیٹرز اور 24 سٹیشن قائم کرکےتحریک آزادی کا گلا ہی گھونٹ ڈالا۔ اب آزاد و مقبوضہ کشمیر کی فضاوں میں بھارتی گانے اور پروپیگنڈے کا راج ہے جبکہ ھماری ترجیح ” مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے” جیسی ہے۔

میرپور ٹینٹ ریڈیو

ان سٹیشنوں کی حالت زار دراصل نوحہ ہے ھمارے پالیسی سازوں کی بے حسی کا۔ جن نوجوانوں نے آزادکشمیر کے ریڈیو سٹیشنوں سے گونجنے والے آزادی کے ترانےسن کر اپنی جانیں مادر وطن پر قربان کردیں ان کا خون ھمارے بابوں سے اپنا حساب مانگ رھا ہے۔ اولاد کا دکھ بہت تکلیف دیتا ہے

ریڈیو پاکستان پر نازل ہونے والے بابو دعا کریں کہ کسی شہید کی ماں کی تمہیں بددعا نہ لگے۔ یہ بددعا تو عرش بھی ہلا دیتی ہے تمھاری شراکت داریاں اور حصے داریاں سب دھری کی دھری رہ جائیں گی۔

کرسیوں کی اور مناصب کے ساتھ عہدوں کی تضحیک اپنے عروج پر ہے یقین کیجئے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان حالات میں اللہ کا عذاب کیوں نہیں آتا تو وہ شاید آگاہ نہیں کہ یہ سب اسکے عذاب ہی کی شکل ہے بس یہ کسر باقی رہ گئی ہے کہ خالق کائنات ایک بار پھر اس زمین کو اُلٹ دے

چلتے چلتے ریڈیو پاکستان کے ایک پنشنر صدیق پراچہ کی یہ تحریر پڑھ لیجئے کہ دھندلی تصویر بہیں واضع ہو جائے گی

پاکستان اور ۔ریڈیو پاکستان دونوں پر کڑا وقت آن پڑا ہے ۔اخراجات کے تناسب سے مطلوبہ وسائل نہ ملنے کی وجہ سے 2020 میں 1063 کانٹریکٹ ملازمین کو بیک جنبش قلم موقوف کر دیا گیا تھا ۔میڈیکل کے اخراجات کی ادائی بند کر دی گئی تھی خالی ہونے والی اسامیوں پر نئی تعیناتیوں کا سلسلہ عرصہ پہلے ترک کیا جا چکا تھا گذشتہ تین برس سے اضافی گرانٹ کے طور پر ایک دھیلہ نہیں دیا گیا ۔یوں رواں مالی سال کے آغاز سے ہی مالی بحران سر پہ آن کھڑا تھا ۔جون 2022 کی تنخواہ اور پینشن نہ ملنے کا واویلا وزیر اعظم تک پہنچا تو انہوں نے وزارت خزانہ سے فوری طور پر ادائی کے انتظام کا کہا ۔وزارت خزانہ کے بابووں نے وزیراعظم کو دھوکہ دیتے ہوئے اضافی گرانٹ کے بجائے نئے مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی رقم ریڈیو پاکستان کے حوالے کی اور وزیر اعظم کو سب اچھا کی رپورٹ دے دی۔

اب عملی طور پر ریڈیو پاکستان ستمبر تک دو سہ ماہیوں کی رقم خرچ کر چکا تھا ۔اکتوبر کی تنخواہیں اور پنشن کے لئے کچھ نہیں تھا ۔جو تیسری سہ ماہی کی رقم موصول ہونے پر نصف پنشن اور بغیر ہائرنگ کے تنخواہ کی صورت میں بالترتیب 16 نومبر اور 8 نومبر کو دی گئی تھی ۔پھر نومبر کی تنخواہ اور پنشن ملنے کے لیئے اسی طرح عذاب سے گزرنا پڑا ۔ ریڈیو پاکستان جیسے ادارے کو اس نہج تک پہنچانے کی پوری ذمہ داری وزارت اطلاعات کے ان بزرجمہروں پر عائد ہوتی ہے جو سی ایس ایس میں تمام گروپس کے مقابلے میں کم نمبر لے کر بغل میں ایک نوٹ بک لئے وزراء کے پیچھے پیچھے مارے مارے پھرتے ہیں اور گریڈ 20 میں پہنچ کر ریڈیو پاکستان جیسے ادارے کے مدار المہام بنا دیے جاتے ہیں انہیں مائیکروفون سٹوڈیو آوٹ سائیڈ براڈکاسٹنگ پروگرام مسودہ صداکاری خبر کی تیاری اور ٹرانسمیٹرز کے بارے میں ککھ معلوم نہیں ہوتا ۔

ہر ادارے کی طرح ریڈیو پاکستان میں بھی خوشامدی چمچہ گیر بدرجہ اتم موجود ہیں

وہ ہر دو چار دن یا ماہ بعد نئے آنے والے یا والی ڈائریکٹر جنرل کو عقل کل سمجھتے ہوئے اتنے بینڈ باجے بجاتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ارسطو اور افلاطون کے ہم پلہ سمجھنے لگتے ہیں۔حال ہی میں وفاقی محتسب کی طرف سے ریڈیو پاکستان کے ریٹائرڈ ملازمین کو کموٹیشن کی رقم ادا کرنے کے حکم پر رقم کا انتظام کرنے کے بجائے اس منصفانہ فیصلے کے خلاف شاہ دولہ کے ان چوہوں نے صدر مملکت کو اپیل کر دی ہے ۔ریڈیو پاکستان کے بہترین ڈائریکٹر جنرلز وہی تھے جن کو ریڈیو پاکستان سے یا ڈی ایم جی گروپ سے جسے اب پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کہا جاتا ہے چنا گیا تھا اب بھی ریڈیو پاکستان کی مشکلات کا پائیدار حل یہی ہے کہ اس کو وزارت اطلاعات کے شاہ دولوں کے چنگل سے آزاد کرایا جائے اور پی اے ایس کے کسی باذوق افسر کی سربراہی میں دیا جائے

اس سلسلے کی دسویں اور آخری قسط آج یہیں ختم ہوئی لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ یہ سلسلہ ہی ختم ہوا۔ ذرا سے وقفے کے بعد راولپنڈی ریڈیو کی زبوں حالی اور بربادی کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ شروع کریں گے۔ ریڈیو کے پنشنرز جو اپنے خیالات یا تجربات یا آرا لکھنا چاہیں وہ اپنی تحاریر عالمی اخبار کو ارسال کر سکتے ہیں۔ غیرجانبدار صحافت کا تقاضہ ہے کہ ملزم کو بھی صفائی کا موقع ضرور ملے اگر ریڈیو کی اعلیٰ انتظامیہ اپنا جواب دینا چاہے تو عالمی اخبار حاضر ہے۔ انکار کیجئے یا اقرار۔

SHARE

LEAVE A REPLY