فقہا اور علماء کی زبانی سنت آئے ہیں کہ کائنات کی ساری زبانیں بھی اگر سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت و ستائش میں مصروف ہو جائیں۔ تب بھی آپ کی تعریف کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ اگر اس کائنات میں ایک بھی مسلمان کہلانے والا باقی نہ رہے تب بھی آپ ؐ کی تعریف بیان ہوتی رہے گی۔ اس لئے کہ آپ ؐ تو وہ ہیں جن کے بارے میں عرش و الے نے کہا:
’’ورفعنالک ذکرک‘‘(القرآن)
کہ’’ اے مدینہ کے تاجدار، ہم نے آپ کو عظمتوں کی انتہا پر فائز کر دیا ہے‘‘۔
ایک حدیث قدسی یوں بھی بیان کی گئی ہے کہ خداوند متعال فرماتا ہے
’’اذاذُ کِرتَ، ذکرت معی‘‘
کہ جب جب میرا ذکر ہو گا، تب تب ذکر، نبی کریم جن و انس و مخلوقات عالم کی زبان پر جاری ہو گا، حضرت حسان بن ثابتؓ جو کائنات کے سب سے بڑے نعت خواں اور مداح رسول ؐ تھے۔اس ایت (ورفعنالک ذکرک) کی تشریح اپنی نعت کے اشعار میں یوں کرتے ہیں۔
کہ’’ اللہ تعالیٰ نے نبی پاکﷺ کے ذکر کو اس طرح بلند کیا ہے کہ اپنے نبی ؐ کے نام کو اپنے نام میں یوں ضم کر لیا کہ مؤذن، ایک دن میں پانچ وقت کی اذان دیتے ہوئے جب کہتا ہے ’’اشہدان لا الہ الا اللہ، تو ساتھ ہی کہتا ہے، اشہدان محمد رسول اللہ‘‘
یعنی کلمہ شہادت میں خدا کی گواہی سے متصل نبی کریم کے افضل و کامل رسول ہونے کی گواہی ساتھ شامل ہوگی ۔۔
آج رمضان کی ستائیس تاریخ تمام ہوئی اور عبادات کے سلسلوں میں وداعی عنصر نمایاں ہوگیا ۔۔
درود و سلام کی آوازیں نماز جمعہ کے بعد ہر مسجد سے سنی جارہی ہیں۔ خدا اس نام نامی اور ان کی سیرت پاک کو ہماری زندگیوں شامل فرما دے آمین ۔۔
آج جن نعت خواں کا تعارف اور گفتگو شامل مطالعہ رہے گی
ان کا نام جناب فہیم ساجد بخاری ہے۔ بارہ اگست انیس سو اکیانوے ان کی سالگرہ کی تاریخ ہے اور شہر ملتان ان کا آبائی شہر و جائے پیدائش ہے ۔ سکولنگ کالج یونیورسٹی ملتان سے ہی مکمل کی ۔۔ جماعت چہارم کے بعد قرآن حفظ کرنے کے لئے کچھ عرصہ اسکول سے رخصت لی پھر دوبارہ اسکول میں داخل ہوئے اور انٹر سائنس کیا۔
ویٹنیری سائنسز میں دو سال پڑھا پھر ایگریکلچرل یونیورسٹی میں اور پھر
بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے بھی ڈگری مکمل کی متعلقہ موضاعات میں ایم فل کیا ۔۔
نعت و قرآت کے بیشمار مقابلوں میں طالبعلمی سے حصہ لے رہے ہیں اور صوبائی اور ملکی سطح پر اعزازات و انعامات حاصل کرتے رہے ہیں ۔۔صوبائی سطح پر یوتھ فیسٹیولز میں ہمیشہ نمایاں پوزیشن حاصل کی فری لانسر ہیں نثر نگاری بھی کرتے ہیں اور ریڈیو پاکستان ملتان سے آر جے فہیم کے نام سے پہچانے جاتے ہیں ۔۔
سوال _ فہیم صاحب نشست میں خوش آمدید
آپ کی خوبصورت آواز میں نعتیہ کلام نوحہ و سلام سنے ہیں جس سے آپ کی فنی تربیت کا اندازہ ہوتا ہے کس عمر سے نعت خوانی کر رہے ہیں ؟
جواب _ میں نے نعت خوانی کا آغاز 4 سال کی عمر میں کیا۔ در اصل ہمارے گھر میں سُریلا ماحول تھا۔ ہمیں لوری دیتے ہوئے دادا جان دادی جان ابو امی سب سُریلے تھے۔ میں نے پہلی بار منقبتِ امام علی ع پڑھی تھی۔ پھر نعت کی طرف آیا۔
سوال _آپ ماشا اللہ گلوکاری بھی کرتے ہیں؟
جی میرا اصل میدان گائیکی ہی ہے اسی موسیقی سے میں نعت خوانی کے اسلوب کو بھی آسانی سے اپنا لیتا ہوں۔ نعت چونکہ لکھنے میں تو نظم لیکن پڑھنے میں غزل جیسی ہے ۔ میں کافی ، منقبت، لوک گیت اور غزل شوق سے گاتا ہوں اور زیادہ وقت سماعت میں گزارتا ہوں۔
سوال _ پہلی بار کب ایسا لگا کہ آپ محفل میں پڑھ سکتے ہیں اور آپ کا پڑھنا پسند کیا گیا ؟
جواب انیس سو پچانوے میں جب میں چار سال کا تھا۔ مجھے تنتیس روپے ھدیہ ملا۔ ستائیس رمضان المبارک کی رات تھی۔ خاصا ہجوم ہو گیا خواتین و حضرات سب نے ہی بیحد سراہا۔
سوال _ نعت کی مقبولیت یا اسے پسند کیئے جانے کے لئے کیا معیارات رکھے جاتے ہیں ؟
جواب _ نعت کی مقبولیت میں بنیادی اہمیت تو آپ کی سچی اور کھری پاکیزہ باطنی کیفیت ہے ۔۔پھر کلام اور آخر میں طرز اور ادائیگی ہے ۔
لیکن اب معاملہ الٹ ہو چکا ہے۔
لوگ بے جا سروں کی بمباری کرتے ہیں ، اور نعت خوانی کو سمجھتے ہیں میلہ لوٹ لیا۔ ۔ ۔
سوال _ آپ کو کندن نعت خواں شعرا ء کا کلام پسند ہے ؟
جواب بیشمار اچھا لکھنے والے شعرا ہیں مگر مجھے خصوصیت سے ان شعرا کا کلام پسند ہے جنہیں میں نعت خوانی کے لئے منتخب کرتا ہوں۔۔
جیسے جناب دلاور علی آزر
حفیظ تائب
حنیف نازش
امان اللہ ارشد
اقبال عظیم
عبد الستار نیازی
مظہر الدین مظہر
منور بدایونی
ارسلان ارسل
محسن نقوی صاحب وغیرہ
سوال کیا نعت خوانی کے لئے تربیت حاصل کرنا اہم / ضروری ہے ؟؟
جواب – نعت خوانی ماں باپ کی طرف سے بچوں کی تربیت کا حصہ ہے۔ رسول اکرم کی بارگاہ میں سلام کسطرح عرض کرنا ہے ۔ ماں باپ سکھاتے ہیں۔۔ ۔
لیکن اگر ہم موسیقی میں جب نعت کی ادائیگی کرتے ہیں تو یقینا قابل ترین شعراء و ادباء کے ساتھ ساتھ ماہر موسیقار کی ضرورت پڑتی ہے جو ہمیں ادب آشنا کرتا ہے اور ہم اس قابل ہو جاتے ہیں کہ ہمیں حرف اور بین الحروف سانس کی ادائیگی کے محاسن پہ عبور آنا شروع ہو جاتا ہے۔
نعت کی شاعری کے انتخاب کے حوالے سے شعراء سے تربیت لی جاتی ہے
اور طرز بنانے میں موسیقاروں کی تربیت لی جاتی ہے۔
سوال نعت خوانی کرتے وقت کیا مخصوص کیفیات ہوتی ہیں کہ پڑھنے والے کے لہجے میں بھی اثر نظر آتا ہے ؟
جواب _ جی یہ بہت جذب کی کیفیات ہوتی ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہستیاں سامنے ہوں تب آواز بھر آتی ہے
جب روضہ اقدس سامنے محسوس ہو تو بے خودی چھا جاتی ہے
کبھی کبھار کسی تلازمے یا استعارے کے ساتھ ہم اپنے سٌروں کی ادائیگی میں اسی وقت میں ٹائم ٹریولنگ شروع کر دیتے ہیں
مثلا یہ شعر دیکھئیے
سنگ زنوں میں گھر کے بھی تونے انہیں دعا ہی دی
دشت بلا سے بارہا گزرا ہے قافلہ ترا ۔۔
اس شعر میں ہجرت حبشہ سے کربلا ،کربلا سے شام، مدینہ پھر جہاں جہاں آلِ رسول آج تک ہجرت کر رہے ہیں تمام سفر ہمارے اندر شروع ہو جاتا ہے ۔
عموما ایسا کلام جس میں طرز تخاطب ایسا ہو کہ جیسے سرکار گرامی ص کی ذات سامنے ہو تو کیفیات ناقابل بیان ہیں
کامران احمد قمر کا شعر دیکھئیے
آپ تو سنگ زنوں کو بھی دعا دیتے ہیں
نعت لکھ لایا ہوں دیکھیں مجھے کیا دیتے ہیں
سوال _ ماشا اللہ آپ نے جذبات کی خوب ہی ترجمانی کی ۔۔
آپ کن نعت خوانوں کو زیادہ سنتے ہیں اور کن سے متاثر ہوئے ہیں ؟
جواب _ سب سے پہلے مجھے نوحہ خوانوں نے متاثر کیا جن میں مختار علی شیدی مرحوم جو سرائیکی اور سندھی زبان میں نوحہ پڑھتے تھے انہوں نے میرا بچپن کربلا کے واقعے کے سپرد کیا ۔
تیڈا شہر چھڑیندے ہیں اساں بھینڑ بھرا نانا
آباد جو کرنا ہے ونج کرب و بلا نانا ۔۔
اس نوحے کی طرز کلام سے بالکل مناسبت رکھتی ہے۔ ۔ میں نے ان نوحوں میں سفر کیا۔
نعت خوانی میں پہلے پہل ہمارے مقامی نعت خوان حافظ بشیر کلو مرحوم صاحب کی آواز نے متاثر کیا۔ قاری محمد حسین صاحب جن سے میں قرآن پاک حفظ کیا۔ ان کی آواز نے مجھے مسحور رکھا ۔
خورشید احمد رحمانی مرحوم ،وحید ظفر قاسمی ، اور سید منظور الکونین استاد محترم نے تو اسیر کر لیا تھا۔ اوراب تک جس آواز کو میرا دل سمجھے کہ یہ آواز با ادب ہے میں اسے ہر صورت سنتا ہوں ۔۔۔ اور خواتین میں
محترمہ ام حبیبہ ،تحسین سکینہ، سائرہ بلال ( جو اب منظر عام پر نہیں) عابدہ پروین جی کی نعتیں بہت متاثر کن ہیں۔
سوال _ آپ کی پیشہ ورانہ مصروفیات اور دیگر مشاغل کیا ہیں ؟
جواب_ نعت خوانی کے علاوہ میں ریڈیو پاکستان کے مختلف پروگرامز میں میزبانی کرتا ہوں۔
آن لائن نعت و منقبت اور قرآن پڑھاتا اور سکھاتا ہوں ۔
مختلف سکولز کالجز میں طلباء سے بطور سٹوڈنٹ کونسلر انٹرایکٹو سیشنز کرتا ہوں اس سے وہ پر اعتماد ہوتے ہیں۔
میں ایک پروفیشنل لینڈ سکیپ ڈیزائنر ہوں لہذا مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز میں چمن آرائی ،گل بانی اور آرائش ارضی کا کام کرتا ہوں
سوال میلاد جیسی محافل و نعتہ مشاعروں کی اس دور میں کمی کیوں محسوس ہونے لگی ہے ؟
جواب _ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب محافل کے انعقاد میں کچھ ایسے لوگ آ گئے ہیں جو نمود و نمائش کے قائل ہیں ۔ نعتیہ محافل کی برانڈنگ کی گئ ۔ اسے کام سمجھ کر کیا گیا ۔ منبر کا تقدس وہ نہیں سمجھا جاتا اب جیسے گزشتہ ادوار میں تھا ۔ لہذا لوگ اب انٹرنیٹ سے کلام سن لیتے ہیں محافل میں نہیں جاتے۔ محافل کو پرائیویٹائز بھی کیا جانے لگا ہے ۔ لوگ اپنا کالا دھن سفید کرنے کے لئے بھی اب محافل کرواتے ہیں ۔پیسے یوں اڑائے جا رہے ہوتے ہیں جیسے یہ حلال ذریعے سے نہ کمائے گئے ہوں تو اصل روح محفل کی اٹھ جاتی ہے ۔ کلام کے انتخاب میں اور انداز نعت خوانی مقابلہ بن چکا ہے لہذا اس وجہ سے پر خلوص نشستیں نہ ہونے کے برابر ہیں
سوال _ کیا نعت خوانی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عام کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے ؟
جواب _ نعت خوانی دراصل تبلیغ کی ہم شکل ہے۔ سرکار مدینہ ص سے نسبت کی جذباتی کیفیات سے آپ تعلیمات اسلامی کو قلب و روح تک اتارتے ہیں۔
سوال _ نئے پڑھنے والوں یعنی آپ کے شاگرد جنہیں آپ نعت و قرآت سکھا رہے ہیں انہیں کیا خاص نصیحت کرتے ہیں ؟
جواب_ نو وارد نعت خوان اسے پیشہ نہ بنائیں یہ کوئ کام نہیں یہ کھری عقیدت کا عمل ہے ۔ موسیقی و شاعری کے محاسن سے نعت کو سجانے کی کوشش کریں ۔ نعت ٹیکنالوجی کی محتاج نہیں ہے۔ نعت خوانی ہم انسانوں کی محتاج بھی نہیں لہذا اس سعادت کو سعادت سمجھا جائے ۔ جاب نہ سمجھا جائے ۔ ورنہ آپ نعت خوان کی بجائے نعت خور بن جائیں گے ۔
سوال _ آخر میں اپنے سننے والوں کو کیا پیغام دیں گے ؟
جواب _ میرے سامعین کا شکریہ جو مجھے پوری دنیا سے سنتے ہیں اور ہر رنگ میں سنتے ہیں ۔ ان کے لئے پیغام ہے کہ حقیقی نعت کے فروغ کے لئے بہروپیوں ، اور بے کیف لوگوں کو مت سنیں۔ خود زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھیں۔ اور ہر نماز کے بعد کھڑے ہو کر درود و سلام پڑھا کریں ۔ یہی ہماری بخشش کا ضامن عمل ہو گا۔۔
یہ تھے جناب فہیم ساجد جن سے مختصر مگر جامع گفتگو رہی ۔ان تین محترم نعت خوانوں سے گفتگو کا مقصد یہی تھا کہ ہمارا طرز عمل ان سرگرمیوں کی جانب بے حسی کا عکاس ہوا جا رہا ہے ۔ پہلے وہ ادب و احترام جو ان محافل کے ذریعے نئی نسل کی تربیت کا باعث بنتا تھا اب خال خال ہی نظر آتا ہے ۔۔
ہم دعا گو ہیں خلوص نیت اور احترام کی فضا دوبارہ بحال ہو اور ہم سب ایک دوسرے کی محافل میں بلاتعاصب شرکت کرسکیں اور ان محترم ہستیوں کے ذکر سے اپنی زندگیوں کو بھی روشن و منور کرسکیں ۔۔
آمین
#روما_رضوی












