پروفیسر سردار نقوی کا یوم ِ وفات 5 فروری ہے . میں نے 1996 میں پہلی بار مرحوم و مغفور جناب سردار نقوی کو کراچی کی مسجد و امام بارگاہ چہاردہ معصومین کی مجلس مرثیہ تحت اللفظ میں سنا اور جب انہوں نے یہ مصرعے پڑھے تو ہمیشہ کے لیے میرے ذہن میں بس گئے
زندگی میں جو معنویت ہے
ذکرِ شبیرؑ کی بدولت ہے
سن رہا ہے حسینؑ کی آواز
جس کی جتنی حد ِ سماعت ہے
پروفیسر سردار نقوی امروہوی پاکستان کے ممتاز اردو مرثیہ گو شاعر تھے۔ تعلق امروہہ کی نقوی سادات کے ایک باوقار اور علمی گھرانے سے تھا – آپ کی والدہ ماجدہ فرزدق ہند جناب شمیم امروہوی کی دختر مدینہ خاتون کے پوتی تھیں جو خود بھی ایک اچھی شاعرہ تھیں پروفیسر سردار نقوی کے قبلہ گاہی سید انور محمّد نقوی بھی شاعر تھے لہذا آپکی شعری تربیت کا پہلا اسکول خود آپ کا گھر ہے جہاں آپ کو ادبی اور مذہبی دونوں ماحول میسر تھا علاوہ ازیں اپ کی شخصیت پر مذہبی اثرات کو نقش دوام بخشنے والوں میں علامہ سید ابن حسن جارچوی اعلی الله مقامہ اور پروفیسر کرار حسین صاحب بھی شامل ہیں اور اپ کو مرثیہ نگاری کی طرف مائل کرنے والوں میں جناب ڈاکٹر یاور عبّاس مرحوم اور اثر جلیلی مرحوم کا بڑا ہاتھ ہے۔
علم و یقین لا الہ ، عشق رسولﷺ و اہل بیتؑ
ایک شعور زندگی ، ایک شعار بندگی
منزل ِ بندگی خدا ، جادہ ِ بندگی رسولﷺ
نوحہ ِ قلب یا حسینؑ ، نغمہ عقل یا علیؑ
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
اسلام کی روحِ عملی کہتے ہیں
آئینۂ نورِ ازلی کہتے ہیں
مومن جہاں ہوتا ہے منافق سے جدا
اس حق کی کسوٹی کو علیؑ کہتے ہیں
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
ُحریت ، حُسن ِ عمل ، صبر ِ جمیل
کربلا منشور ہے اسلام کا
ابتدائی تعلیم حکیم سید حیدر نذر کی نگرانی میں ہوئی . اس کے بعد پاکستان ہجرت کرنے کے سبب کراچی یونیورسٹی سے بی ایس سی انرس اور ایم ایس سی ارضیات کی اسناد حاصل کیں. ڈی جے سائنس کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر بھی رہے۔ ریڈیو پاکستان کے لیے مختلف علمی ، ادبی ، مذہبی اور تہذیبی موضوعات پر تقریریں لکھیں جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے. پروفیسر سردار نقوی مرحوم ایک مفکر اور انقلابی سوچ رکھنے والے انسان تھے۔ وہ ڈاکٹر علی شریعتی سے بہت متاثر تھے۔ خانہ فرہنگ کراچی کے تعاون سے انہوں نے ڈاکٹر شریعتی کی کئ کتابوں کے ترجمے بھی کیے۔
یہاں پہ بجھتے ہوئے دیپ جگمگاتے ہیں
حسینؑ ابن علیؑ حر کو حر بناتے ہیں
ایک عرصہ تک ریڈیو پاکستان کراچی اور پی ٹی وی پر ان کا مرثیہ تحت اللفظ ہر سال باقاعدگی سے پیش ہوا ۔ گریہ فرات ، سرداز نقوی کا پہلا مجموعہ کلام جو 1995 میں ان کی حیات میں شائع ہوا ۔ مرحوم و مغفور علامہ طالب جوہری فرماتے ہیں
“سردار نقوی کے مرثیوں میں اکثر اوقات ایک مصرع پورے مضمون کی سرخی بن جاتا ہے یہ ایک ایسا امتیاز ہے جو انہیں اپنے ہم عصر مرثیہ نگاروں سے الگ کرتا ہے. ان کے مراثی میں یہ کیفیت عام ہے جس کی بہترین مثال دیکھئے”
علم کا ہاتھ بھی اس ہاتھ کی طاقت بھی علیؑ
عدل کی تیغ بھی اس تیغ کی ضربت بھی علیؑ
ضرب خندق بھی علی ، نہج بلاغت بھی علیؑ
طاقت و خیر کے اضداد کی وحدت بھی علیؑ
کبھی نقطہ کبھی قرآن نظر آتی ہے
شخصیت عدل کی میزان نظر آتی ہے
قرانی تلمیحات کے حوالے سے اردو کے رثائ ادب میں ایسے مصرعے کم نظر آتے ہیں
وہ شہر ِ علم جس کی ثقافت ہے أدلو
وہ شہر علم جس کی معیشت ہے أَنفَقُو
وہ شہر علم جس کی کرامت ہے اتقو
وہ شہر علم جس کی بشارت ہے تُفْلِحُو
وہ عظمت کربلا کو بیان کرتے ہیں تو ان کے اشعار کی روشن سطح سے عقیدے کی طہارت اور تبلیغی جذبے کی صداقت کا اندازہ ہوتا ہے
فکر اسلام کی تجدید کیے جاتی ہے
کربلا ظلم کی تردید کیے جاتی ہے
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کاروان بشریت کی یہی منزل ہے
کربلا آج بھی ماضی نہیں ، مستقبل ہے
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کچھ بیاں ہو چکی ، کچھ شرح ابھی باقی ہے
کربلا ایسی حقیقت ہے جو آفاقی ہے
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کربلا کے جو اجالوں سے منور ہو نظر
پیش باطل نہ جھکے ، پھر کسی انسان کا سر
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
قصہ عظمت حق ، خون گلو سے لکھا
کربلا والوں نے یہ ذکر لہو سے لکھا
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کربلا دین کی تہذیب کا گہوارا ہے
روشنی جس سے ابلتی ہے وہ فوارا ہے
فکر شبیر کا وہ بہتا ہوا دھارا ہے
جس نے ہر دور کے فرعون کو للکارا ہے
حق سے باطل جو کسی موڑ پہ ٹکراتا ہے
لب تاریخ پہ شبیرؑ کا نام آتا ہے
سردار نقوی صاحب کے مرثیوں کا ایک اور وصف یہ ہے کہ ان میں تاریخ اسلام کے حوالے بھرپور نظر آتے ہیں
دور اول میں جو باطل پہ نبیﷺ غالب تھے
قوت دین کی پہچان ، ابوطالبؑ تھے
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
جس کی تقدیر میں غلبہ ہے ، وہی غالب ہے
موجد نعت ، بہر حال ابوطالب ہے
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
ظلم ہے اگر اس کو حُسن ِ سیاست کہیے
یہ بغاوت ہے ، اسے کھل کے بغاوت کہیے
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
مکر کی ڈھال سے یوں خود کو بچا لیتا ہے
نوک نیزہ پہ یہ قرآن اٹھا لیتا ہے
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
دین میں کفر کا پیوند لگاتے ہی رہے
لوگ یہ ریت کی دیوار اٹھاتے ہی رہے
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
لوگ یوں کرتے رہے فکر نبی میں ترمیم
سامری جیسے کبھی کرتا تھا تردید کلیم
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
فکر قرآں جو بدلتے تھے زمانے والے
چپ نہ رہ سکتے تھے ، قرآن کے گھرانے والے
مختلف مرثیوں سے مزید منتخب نمونۂ کلام حاضر ہے
عقل مسلم ہو تو ہادی کی ثناء کرتی ہے
علم کو عدل کی میزان عطا کرتی ہے
فرض ہے اجرِ رسالت ، تو ادا کرتی ہے
مرکزِ نور سے مربوط رہا کرتی ہے
ایک ہی نور وہی شہر وہی دروازہ
علم کا شہر محؐمد ہیں علیؑ دروازہ
کربلا چشم حکومت میں تھی تلوار کی جنگ
چشم شبیر میں تھی اقدار کی جنگ
جبر شمشیر سے آزادی اظہار کی جنگ
تیغ ظالم سے تھی یہ جرات اظہار کی جنگ
خاک میں مل گیا طاقت کا بھرم ہار گئی
گردنیں جیت گیں تیغ ستم ہارگئی
کربلا آئینہ عظمت انسانی ہے
قوس معراج بشر کی حد امکانی ہے
سطح خّلت سے جو بالا ہے وہ قربانی ہے
جس سے زمزم کی بجھے پیاس یہ وہ پانی ہے
فخر آدم جو ؐمحمد کا نواسہؑ ٹھہرا
چشمہ معرفت حق یہی پیاسا ٹھہرا
وہ دم ِ عصر حسینؑ ابن علیؑ کا سجدہ
اسی سجدے کا طلبگار تھا بندے سے خدا
ارجعی کی لب قدرت سے جو آتی تھی صدا
کھینچ گئ دائرہ راضیہ مرضیہ
تا ابد دین خدا دہر میں پائندہ ہے
قتل فرزند نبیؐ ہوگئے ، حق زندہ ہے
ذکرِ شبیر ہے آساں یہ ہی مشکل ہے
کیسے لکھے کوئی قرآن بڑی مشکل ہے
فکر شبیر کا عرفاں ابھی مشکل ہے
سوچے جس رخ سے بھی انسان نئی مشکل ہے
سرحدِ زکر جو عرفان کی سرحد ٹھہرے
ذکرِ فرزند علیؑ ذکر ِ محمدۖ ٹھہرے
علم کو علم ، جہالت کو جہالت کہنا
فسق کو فسق ، شریعت کو شریعت کہنا
ظلم کو ظلم ، عدالت کو عدالت کہنا
کذب کو کذب ، صداقت کو صداقت کہنا
کتنا دشوار ہے ، یہ بولہبی سے پوچھو
کس قدر سہل ہے ، فرزندِ نبیۖ سے پوچھو
سرور ِ کائنات کی ولادت سے پہلے اور حضور کی ولادت کے بعد کے ماحول کی عکاسی سردار نقوی نے دو بند میں کی ہے
حد سے فزوں جو ظلمتِ نفس ِ بشر ہوئی
پہلوۓ آمنہ سے سحر جلوہ گر ہوئی
اب جس کی کوئی شام نہیں ، وہ سحر ہوئی
خوش کیوں نہ ہوں خلیلؑ دعا بارور ہوئی
ابھرا جو آفتاب اندھیرے ہوا ہوئے
ابلیس سے خود اس کے پجاری خفا ہوئے
بدلا مزاج ِ زیست ، بدلنے لگی فضا
روشن ہوئے چراغ اندھیروں کا دم گھٹا
باغ ِ عمل میں چلنے لگی عدل کی ہوا
منزل کی سمت راہ نے عزم ِ سفر کیا
کانٹے ہٹاۓ ، راہ کو ہموار کر دیا
فتنوں کی آگ کو گل و گلزار کر دیا
ان کے مراثی میں زینب شریکہ الحسین کی وضاحت بدرجہ اتم موجود ہے
رخصتِ آخر فرزندِ نبی کا ہنگام
اپنی ہمشیر کو وہ صبر امامت کا سلام
منتقل ہوتا ہوا دیں کی قیادت کا نظام
سوۓ زینبؑ نگراں ، سبطِ نبیۖ اور اسلام
بھائی کو دیکھ کے اسلام کی جانب دیکھا
رخ سوے کوفہ کیا ، شام کی جانب دیکھا
بھائی کی شان کے شایاں ہے بہن کا منصب
دین کے واسطے دونوں نے سہے رنج و تعب
جس طرح ہوتا ہے دو لفظوں کا یکساں مطلب
ایک ہی بات ہے شبیر کہو یا زینب
بھائی کی ہے جو کہانی وہ بہن کا قصّہ
تیغ کا ، حلق کا ، بازو کا ، رسن کا قصّہ
پروفیسر سردار نقوی کی وفات کے بعد ان کے فرزند نیکنام سید سہیل مہدی کو ان کے شعری ذخیرے سے قلمی نسخوں کی تلاش و ترتیب کے نتیجے میں ٣٦ غیر مطبوعہ مراثی دستیاب ہوئے .
جوش ملیح آبادی نے کہا تھا
تاریخ دے رہی ہے یہ آواز دم بدم
دشتِ ثبات و عزم ہے دشت بلا و غم
صبرِ مسیح و جراتِ سقراط کی قسم
اس راہ میں ہے صرف ایک انسان کا قدم
جس کی رگوں میں آتش ِ بدر و حنین ہے
جس سورما کا اسم ِ گرامی حسینؑ ہے
اس آواز کو جب سردار نقوی نے سنا تو کہہ اٹھے
آتی ہے کربلا سے یہ آواز دم بدم
تفسیر ِ عہد و گردش ِ ادوار کی قسم
تاریخ ہے صداۓ حسینیؑ کا زیر و بم
انساں سے آج بھی ہے مخاطب وہ با کرم
ترویج ہو رہی ہے پیام ِ حسینؑ کی
آواز آ رہی ہے امام ِ حسینؑ کی
پروفیسر صاحب کے نصف صدی کے رفیق مرحوم آیت اللہ علامہ طالب جوہری اعلیٰ اللہ مقامہ نے پرفیسر سردار نقوی کی پہلی برسی کی مجلس سے خطاب میں یہ کلمات ادا فرماے تھے
”سردار نقوی کے فضل و کمال کی بڑی جہتیں تھیں وہ مقرر بھی تھے اور شاعر بھی انہوں نے منقبت بھی کہی اورنعت بھی غزل بھی کہی اور نظم بھی مگر ان کی وجہ شہرت مرثیہ قرار پای وہ مرثیے کی جان بھی تھے اور آن بھی وہ مرثیے کی فضیلت بھی تھے اور مرثیے کی بقا بھی اور مرثیے کا استحقاق بھی“۔
پروردگار غریق رحمت فرماۓ ۔ بہت یاد آتے ہیں ۔ دیگر عظیم شخصیات کی طرح ہمارے معاشرے نے انہیں وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ حقدار تھے۔
ترتیب و انتخاب و پیشکش : ذیشان زیدی













